Daily Mashriq


وکلاء تحریک،گزرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ

وکلاء تحریک،گزرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ

اعلیٰ عدلیہ کے دوججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنے کو وکلاء کے ایک طبقے نے اپنی انا کا معاملہ بناتے ہوئے عدالتوں کو تالے لگانے اور جلاؤ گھیراؤ کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان بار کونسل اور ملک کے دوسرے علاقوں کی وکلاء تنظیمیں اس کارروائی کیخلاف قراردادیں منظور کرنے کے علاوہ احتجاج کے اعلانات کر رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ دوجج صاحبان باالخصوص سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کی سماعت سے وکلاء کی انا اور عدلیہ کی آزادی پر حرف آجائے گا اور اس کے بعد عدلیہ ہمیشہ کیلئے قید اور غیرموثر ہو کر رہ جائے گی۔ اس لئے وکلاء عدلیہ کی بحالی کی تحریک چلا کر حکومت کی اس کوشش اور سازش کو ناکام بنانے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔ اسی دوران پنجاب بار کونسل نے اس مجوزہ احتجاج سے الگ رہنے کا دوٹوک اعلان کیا ہے جو وکلاء کے درمیان اس معاملے پر سوچ وفکر اور حکمت عملی کے اختلاف کا پتا دے رہا ہے۔ حقیقت میں جلاؤ، گھیراؤ اور تالے لگانے کی باتیں کرنے والے وکلاء عہد ماضی میں زندہ ہیں جب ملک میں ایک مطلق العنان فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے منصف اعلیٰ افتخار چوہدری کو دفتر بلا کر دھونس دباؤ سے استعفیٰ دلوانے کی کوشش کی مگر افتخار چوہدری نے حرفِ انکار بلند کیا، دوسرے روز پولیس نے ان سے بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں وکلاء کی ایک مزاحمت کا آغاز ہو گیا۔ نوآموز میڈیا ان کی مدد کو دوڑا دوڑا آیا جس سے تحریک کا نشہ دوآتشہ ہوگیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک میں آمریت کا دور دورہ تھا اور آمریت بھی ایسی جو سالہا سال کے بعد بیرونی معاہدات، داخلی پالیسیوں اور اقتدار کو طول دینے کی سوچ پر مبنی فیصلوں کے باعث قوم وملک کیلئے اثاثے کی بجائے بوجھ بن رہی تھی۔ جنرل مشرف مصر کے صدر حسنی مبارک کی تقلید میں اقتدار کی طویل اننگز کھیلنے کے شوق میں بیرونی طاقتوں کا ہر دباؤ بخوشی قبول کر رہے تھے جو انہیں اپنے روایتی ’’حلقۂ انتخاب‘‘ میں غیرمقبول بنا رہا تھا۔ سیاسی جماعتوں میں جنرل مشرف کے اقتدار کو چیلنج کرنے کا دم خم نہیں تھا اور عوام احتجاج کیلئے باہر نکلنے کیلئے آمادہ وتیار نہیں تھے۔ اس ماحول میں جنرل مشرف سے عوام کی بیزاری، ریاست کیلئے بوجھ بن جانے، افتخار چوہدری کے حرف انکار اور وکلاء کے احتجاج نے منظر بدل ڈالا۔ اس کہانی میں ایک پراسرار موڑ ابتدائی چند دن میں اس وقت آیا جب افتخار چوہدری غیرفعال ہوکر اپنے گھر میں نظربند تھے اور کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ عین انہی لمحوں ایک معروف سیاسی شخصیت ریٹائرڈ ایئرمارشل اصغر خان ’’اتفاقاً ‘‘ صبح کی سیر کرتے ہوئے ان کے محصور گھر کے گیٹ پر پہنچے۔ محافظوں اور پہریداروں نے نہایت سکون سے گیٹ کھولا اور ایئرمارشل صاحب اندر چلے گئے، وہ واپس آئے تو دنیا کو اندر کے حال احوال سے آگاہ کرتے ہوئے یہ خبر دی کہ جسٹس افتخار پراعتماد ہیں۔ اس اتفاقی ملاقات کے بعد جسٹس افتخار چوہدری کا اعتماد واقعی بڑھتا چلا گیا۔ جنرل مشرف نے استعفیٰ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس تو بھیجا مگر اس وقت تک جو جذباتی فضاء بن چکی تھی اس میں سپریم جوڈیشل کونسل اس ریفرنس کو میرٹ پر نہ سن سکی اور یوں عوامی سوچ اور جذبات کے عین مطابق ریفرنس خارج کر دیا گیا۔ اب یہ وقت کا ایک بہہ جانے والا دھارا اور ماضی کا قصہ ہے جس کا تعلق اُس وقت کے حالات اور واقعات سے تھا۔ ملک کی عمومی سیاسی فضاء اور تہ در تہ سازشوں اور اقتدار کی غلام گردشوں میں ہونے والی سرگوشیوں سے تھا۔ آج صدر مملکت عارف علوی نے ایک آئینی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے جج صاحبان کیخلاف ریفرنس کی صورت میں شکایات کا پلندہ وزیراعظم، صوبائی وزیراعلیٰ، آرمی چیف، واپڈا کے چیئرمین، پولیس کے آئی جی یا سپیکر اسمبلی کو نہیں بھیجا بلکہ آئینی طریقۂ کار کے مطابق عدلیہ کیخلاف شکایت کو عدلیہ کے قانونی فورم کے پاس بھیجا جس کی سربراہی عدلیہ کے سربراہ کر رہے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل اس ریفرنس کا میرٹ پر جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ سنائے گی۔ اگر الزامات درست ہوئے تو ’’سب کا احتساب‘‘ کے نعرے کی تکمیل ہوگی اور اگر غلط ہوئے تو سپریم جوڈیشل کونسل اسے ماضی کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی۔ اس سیدھے سادے قانونی اور ادارہ جاتی عمل سے ایک اور وکلاء تحریک ایک اور افتخار چوہدری برآمد کرنے کی کوشش کرنا وقت کے دھارے کو موڑنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ آج ملک میں کمزور سہی ایک جمہوری سیٹ اپ کام کر رہا ہے۔ فوج اپنے داخلی احتساب کے نظام کو مزید موثر اور عوامی بنا رہی ہے جس کا ثبوت اعلیٰ فوجی افسروں کو سنائی جانے والی حالیہ سزائیں ہیں۔ سیاستدان روز پیشیاں بھگت کر احتساب کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک سابق وزیراعظم کے بعد سابق صدر بھی جیل پہنچ گئے ہیں۔ کئی بیوروکریٹ بھی اپنے کئے کیلئے جواب دہ بنائے جا رہے ہیں اس ماحول میں عدلیہ کے احتساب کا پرانا نعرہ اگر روبہ عمل ہو رہا ہے تو اس پر چیں بہ جبیں ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جب خود چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے وکلاء کو عدلیہ پر اعتماد کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت قاضی فائز عیسیٰ کو ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ حکومت کے پاس یہ اختیار ہوتا تو وہ بیک جنبش قلم ججز کو برطرف کرچکی ہوتی۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں