Daily Mashriq


گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت: ’ہیٹ ویو‘ یا لو سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت: ’ہیٹ ویو‘ یا لو سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

برصغیر میں گرمی پڑنا شروع ہو گئی ہے اور بعض علاقوں میں اس کی شدت بہت زیادہ ہے۔ انڈیا کے مرکزی علاقے سمیت شمالی خطے اور پاکستان کے چند شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سنیٹی گریڈ سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انڈیا میں گرم ترین شہر چُورُو قرار پایا ہے جہاں محکمہ موسمیات نے گذشتہ اتوار درجہ حرارت 50.8 سنیٹی گریڈ ریکارڈ کیا ہے۔

لیکن اتنی شدید گرمی کے باوجود وہاں زندگی کی رفتار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور گلیوں میں خوانچے لگانے والے، ٹریفک پولیس، رکشا ڈرائیور وغیرہ جن کے پاس باہر کام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، یہ سب معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

بعض دیہی علاقوں میں مرد اور عورتیں کم از کم اتنا کام کرنے پر مجبور ہیں جس سے ان کو ضرورت کی غذا اور پانی ملتا رہے۔

یہاں تک کہ جن افراد کے پاس اپنے گھروں کو ٹھنڈا کرنے کا کوئی انتظام نہیں، انھیں گھر کے اندر بھی راحت میسر نہیں تھی۔ اب اس شدید گرمی کے اثرات صاف نظر آرہے ہیں۔

کیا سفید چھتیں درجۂ حرارت کم کر سکتی ہیں؟

پاکستان میں گرمی کی شدید لہر، نیا ملکی ریکارڈ قائم

کراچی میں ’اربن فاریسٹ‘ کا منصوبہ تاخیر کا شکار

لُو سے واقع ہونے والی اموات کی اطلاعات انڈیا بھر سے آ رہی ہیں، تاہم ان کی تعداد میں تزاد ہے۔ ان میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور بھی شامل ہیں۔ ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ آسمان میں پرندے بھی جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے پرواز کرتے کرتے زمین پر گر پڑے۔

اس قسم کے مناظر کم و بیش ہر برس دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ حکام عموماً ایسے حالات میں لوگوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ پانی کا زیادہ استعمال کریں اور باہر نکلتے وقت سورج کی تپش سے محفوظ رہیں۔

لیکن اب، جبکہ دنیا بھر میں شدید گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے، تو کیا اس سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں گے؟

خاموش قاتل

سنہ 2018 میں دنیا بھر کے ممالک میں موسمِ گرما میں بہت زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ ان میں کچھ مقامات پر تو وہاں کی اوسط سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔

مثال کے طور پر برطانیہ، ناروے، سویڈن، مشرقی کینیڈا، مشرقی سائیبیریا کے کچھ علاقے، جاپان اور بحیرہِ کیسپین کے علاقوں میں درجہ حرارت ان علاقوں کے اوسط درجہ حرارت سے زیادہ تھا۔

ان میں سے صرف جاپان نے ہزاروں لوگوں کے متاثر ہونے کے بعد گرمی کی اس لہر کو قدرتی آفت قرار دیا تھا تاہم دیگر ممالک میں شدید گرمی ایک خاموش قاتل ہے۔

اگر آپ سیلاب، طوفان یا زلزلے جیسی قدرتی آفت کا شکار ہوں تو اس کا اثر فوری طور پر نظر آتا ہے۔ آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کی موسمیاتی تبدیلی کے علوم کی ماہر سارا پرکِن کِرک پیٹرک کہتی ہیں کہ ’چیزیں بہہ جاتی ہیں، لوگ ڈوب جاتے ہیں، لیکن گرمی کی لہر (یا لُو) ایک خاموش قاتل بن جاتی ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حالت گرم اور غریب خطوں میں تو اس سے بھی بد تر ہے۔

طلبا میں گرمی کے برے اثرات پر تحقیقی کتاب لکھنے والے مصنف جِسنگ پارک کہتے ہیں کہ ’اب ہر برس امیر ممالک میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ (گرمی کی شدت سے) ہلاک ہو رہے ہیں۔‘

ماضی میں یورپ اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی گرمی کی لہروں سے کئی ہلاکتیں ہوئیں ہیں ’لیکن ہلاکتوں کی تعداد غریب ممالک میں کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔‘

ایسا ہی انڈیا اور پاکستان جیسے ممالک میں ہو رہا ہے جہاں لُو کا چلنا ایک معمول ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ لُو کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کو کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن ان کے دعوے پر کوئی یقین نہیں کرتا ہے۔

امریکی تحقیقی ادارے رینڈ کے گلریز شاہ اظہر کا کہنا ہے کہ ’اگلی چند دہائیوں میں اگر صنعتوں سے گرم ہواؤں کا اخراج جاری رہتا ہے تو جنوبی ایشیا میں گرمی کی لہر میں اس حد تک اضافے کا امکان ہے جو کہ انسان کے برداشت سے کافی زیادہ ہوگی۔‘

متعلقہ خبریں