Daily Mashriq

انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ: وقفے وقفے سے بھوکے رہنا، اتنا مقبول کیوں؟

انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ: وقفے وقفے سے بھوکے رہنا، اتنا مقبول کیوں؟

آج کل انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ (intermittent fasting) یا وقفے وقفے سے بھوکے رہ کر وزن کم کرنے کا طریقہ خاصہ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ کیا یہ طریقہ واقعی اتنا ہی مفید ہے جتنا لوگ کہتے ہیں اور کیا یوں روزہ رکھنا آپ کی صحت کے لیے ٹھیک ہے؟

انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کرنے والے لوگ یا 5 نسبت 2 (5:2) کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں اور یا 16 نسبت 8 (16:8) کے فارمولے پر، یعنی پانچ دن معمول کے مطابق کھاتے ہیں اور پھر دو دن 500 یا 600 کیلوریز سے زیادہ خوراک نہیں کھاتے۔ جبکہ کچھ 16 گھنٹے بھوکے رہتے ہیں اور پھر آٹھ گھنٹے میں پانچ چھ سو کیلوریز سے زیادہ نہیں کھاتے۔

آپ ان میں سے جو بھی طریقہ اپنا کر وزن کم کرنا چاہتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ آپ معمول کے دنوں میں اور بھوک رکھ کر کھانے والے دنوں میں کیا کیا کھا رہے ہیں۔

صرف ایک قسم کی خوراک پر زندگی ممکن ہے؟

روزے کا انسانی جسم پر کیا اثر پڑتا ہے؟

کیا پروٹین سے وزن کم کیا جا سکتا ہے؟

حال ہی میں ٹوئٹر کے بانی جیک ڈورسی بھی اپنے ایک انٹرویو کے بعد خبروں میں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دن میں صرف ایک بار کھانا کھاتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر کافی لے دے ہوتی رہی اور بہت سے ناقدین کا کہنا تھا کہ جیک ڈورسی شدید قسم کی ڈائٹِنگ کر رہے ہیں جو کہ اچھی بات نہیں۔

لیکن ہو سکتا ہے ڈورسی وہی کر رہے ہوں جو آج کل بہت سے لوگ وزن کم کرنے کے لیے کر رہے ہیں، یعنی وقفے وقفے سے بھوکا رہنا۔

انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ (آئی ایف) کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بین الاقوامی تنظیم کے جائزے کے مطابق ڈائٹِنگ کا یہ طریقہ گذشتہ برس سب سے زیادہ مقبول رہا ہے۔

انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں، تاہم ان سب میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ ہے کہ اس میں آپ مقررہ وقت پر وقفے وقفے سے بہت کم کھانا کھاتے ہیں۔

مختلف معمولات

16:8 کے معمول میں آپ 24 گھنٹوں میں 16 گھنٹے کا روزہ رکھتے ہیں اور پھر آٹھ گھنٹے میں کھا پی لیتے ہیں۔ یہ طریقہ اپنانے والے لوگ اکثر دن بارہ بجے سے شام آٹھ بجے کے درمیان کھاتے ہیں جبکہ رات آٹھ بجے سے دن 12 بجے تک روزہ رکھتے ہیں۔

5:2 کے فارمولے میں آپ ہر ہفتے میں پانچ دن معمول کا کھانا کھاتے ہیں جبکہ دو مخصوص دنوں میں اپنی معمول کی کیلوریز کا صرف 25 فیصد کھاتے ہیں۔

24 گھنٹے کے روزے میں آپ ہر ہفتے یا ہر مہینے ایک پورا دن (24 گھنٹے) مکمل بھوکے رہتے ہیں۔

وقفہ دار روزہ رکھنے کے مداح کہتے ہیں کہ یہ وزن کم کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔ سنہ 2017 میں غذا کے 16 سالانہ جائزوں میں سے گیارہ جائزے ایسے تھے جن میں حصہ لینے والے افراد کا کہنا تھا کہ ان کا وزن کم ہوا ہے۔

تاہم غذایت پر کام کرنے والی ایک برطانوی تنظیم سے منسلک ماہر ڈاکٹر لینیا پٹیل کہتی ہیں کہ وزن میں اس قسم کی کمی کو ’سادہ ریاضی کے اصولوں سے سمجھا جا سکتا ہے، یعنی آپ کم کیلوریز کھا رہے ہیں تو صاف ظاہر ہے آپ کا وزن قدرے کم ہو جائے گا۔‘

لیکن سالانہ جائزوں میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وقفے وقفے سے بھوکا رہنے کے کچھ طریقے ایسے ہیں جنھیں ماہرین درست نہیں سمجھتے کیونکہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے والے کئی لوگ شدید بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے غیر موثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

روزے کی روایت

اگرچہ مذہبی، ثقافتی اور روحانی حوالے سے روزہ رکھنے کی تاریخ خاصی قدیم ہے، لیکن وقفہ رکھ کے کھانے کی روایت اس سے بھی زیادہ قدیم ہے۔

ڈاکٹر پٹیل کہتی ہیں کہ اگر ہم اپنے آباواجداد کی زندگی پر نظر ڈالیں تو پت6ا چلتا ہے کہ وہ لوگ بھی بھوکے رہتے تھے۔

’مثلاً جب انسان صرف شکار کے ذریعے خوراک حاصل کرتا تھا تو تب بھی لوگ اُسی دن کھاتے تھے جس دن شکار کرتے تھے یا انھیں خوراک مل جاتی تھی۔ یوں روزہ رکھنا ان لوگوں کی روز مرّہ زندگی کا حصہ تھا۔‘

لیکن آج کل ہمارے پاس ہر وقت اچھا خاصا کھانا موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آج کل ہم قدیم انسانوں کے مقابلے میں خاصی سست زندگی کے عادی ہو چکے ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر موٹاپے کی وبا عام ہو چکی ہے۔

’لوگوں کو اصول بہت اچھے لگتے ہیں‘

ڈاکٹر پٹیل کے بقول اگر آپ لوگوں کو صرف یہ کہتے ہیں کہ وہ سادہ خوراک کھائیں، تو لگتا ہے کہ یہ چیز کام نہیں کرتی کیونکہ ’لوگوں کو قوانین بہت اچھے لگتے ہیں۔‘

’میں سمجھتی ہوں کہ کھانے پینے میں تھوڑا توازن لانا اور گاہے بگاہے بھوکے رہنا اچھی چیز ہے۔‘

ڈائیٹِنگ کے دیگر طریقوں کے برعکس، وقفہ دار روزوں کی اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس میں کسی خاص خوراک سے مکمل پرہیز نہیں کرتے، یعنی آپ چربی والی خوراک، شکر اور نشاستہ دار اشیاء کھانا بند نہیں کرتے۔ انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ میں آپ کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہوتی، اور وہ ہے خاص وقت پر کھانا اور خاص وقت پر بھوکے رہنا۔ یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کا طریقہ مقبول ہو رہا ہے۔

صحافی شانے ڈینس کے بقول انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کی یہی بات انھیں پسند ہے۔

’ میں نے انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ اس لیے شروع کی کیونکہ میں چاہتی تھی کہ میری خوراک سادہ ہو، جلدی سے تیار ہو جائے اور اس میں آسانی ہو۔ جب مجھے بتایا گیا کہ صرف دن بارہ بجے سے رات آٹھ بجے کے درمیان ہی کھانا ہے، تو یہ کام میرے لیے بہت آسان تھا۔ اِس میں میری دلچسپی کی وجہ یہی ہے۔‘

26 سالہ صحافی کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے شروع شروع میں سوچا کہ میں جو چاہوں گی کھا لوں گی، لیکن مجھے جلد ہی احاس ہو گیا کہ اگر میں چاہتی ہوں کہ انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کام کرے تو مجھے صرف صحت افزا خوراک کھانی ہو گی۔‘

شاندار دعوت اور پھر قحط‘

ڈاکٹر پٹیل کہتی ہیں کہ یہ غلط فہمی بہت عام ہے کہ آپ انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ میں جی بھر کے کھاتے ہیں اور پھر مکمل روزہ رکھ لیتے ہیں۔

’میرے کلینک میں بے شمار ایسے لوگ آتے ہیں جو یہ کام درست طریقے سے نہیں کرتے۔ مثلاً وہ روزے والے دنوں میں 500 کیلوریز سے کم ہی کھاتے ہیں لیکن باقی دنوں میں خوب دعوتیں اڑاتے ہیں۔‘

’یہ چیز خطرناک ہے، ایک تو یہ کہ اس سے آپ کی کیلوریز کم نہیں ہو رہیں اور دوسرا یہ کہ وزن بھی کم نہیں ہو رہا۔ آپ کو سوچ سمجھ کر کھانا چاہیے۔‘

’اگر آپ چاہتے ہیں کہ انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ محفوظ طریقے سے کام کرے، موثر ثابت ہو اور آپ اچھی خوراک کھائیں تو آپ کو چاہیے کہ کھانے کے اوقات میں ایسی خوراک کھائیں جو غذایت سے بھرپور ہو۔‘

سائسندان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جو لوگ انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی خوراک میں تیل والی مچھلی، خشک میوے، پھلوں کے بیج، کم چربی والی پروٹین، اناج، بہت سے پھل اور سبزیاں شامل رکھیں تا کہ وہ وٹامن اور معدنیات کی کمی کا شکار نہ ہوں۔

کیا آپ یہ معمول قائم رکھ سکتے ہیں؟

کیلوریز کو قابو میں رکھنے والی ہر خوراک کا وزن پراثر ایک جیسا ہوتا ہے، لیکن ان میں سے ڈائیٹنگ کا سب سے زیادہ کامیاب طریقہ وہی ہوتا ہے جسے آپ طویل عرصے تک جاری رکھ سکیں۔

اس قسم کے طریقوں میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جلد ہی آپ کا دل پسندیدہ کھانے کے لیے للچانے لگتا ہے، تاہم وقفہ دار روزوں کی صورت میں شاید یہ مسئلہ اتنا شدید نہیں ہوتا۔

شانے ڈینس کہتی ہیں کہ ’ جب میں صرف غیر نشاستہ دار یا کم نشاستے والی خوراک کھاتی ہوں تو مجھے ہر طرف پاستہ اور چاول ہی دکھائی دیتے ہیں، لیکن اب انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کرتے ہوئے میرا دل کسی چیز پر نہیں للچاتا کیونکہ اس میں کسی چیز پرپابندی نہیں ہوتی۔

شانے ڈینس گذشتہ چار ماہ سے 16:8 والی ڈائیٹ پر ہیں، یعنی روزانہ 16 گھنٹے کا روزہ رکھ رہی ہیں۔ ان کے بقول 5:2 کی نسبت یہ کرنا زیادہ آسان ہے کیونکہ پانچ دن کے بعد مسلسل دو دن کے روزے میں انہیں شدید بھوک لگنا شروع ہو جاتی تھی۔

’سب سے مشکل کام ناشتے کے وقت مفِّن (ایک قسم کا نرم کلچہ) سے دور رہنا ہوتا ہے۔‘

امہان رابرٹسن 26 سال کی ہیں اور وہ گذشتہ چار برس سے انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کر رہی ہیں۔

ان کے بقول ’ جب میں نے یہ ڈائیٹ شروع کی تھی تو مجھے مشکل ہوتی تھی، کیونکہ میرے جسم کو ہر وقت کھانے کی عادت تھی۔ لیکن جب مجھے عادت ہو گئی تو پھر یہ کام آسان ہو گیا۔‘

’لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرا جی نہیں للچاتا۔ کبھی کبھار میں روزہ توڑ بھی دیتی ہوں، لیکن اگلے روز اپنے روزے کے اوقات ٹھیک کر لیتی ہوں۔‘

لیکن امہان مانتی ہیں کہ ڈائیٹنگ کے اس پروگرام سے ان کا لوگوں سے ملنا جُلنا متاثر ہوا ہے۔

’میں صرف دن بارہ بجے سے رات آٹھ بجے کے رمیان کھاتی پیتی ہوں۔ اگر مجھے کوئی رات کے کھانے کے لیے نو بجے آنے کو کہتا ہے تو میں وہاں جا کر صرف پانی پیتی ہوں۔‘

’جو چیز انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کو مشکل بناتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ باتیں بہت بناتے ہیں۔ اسی لیے میں جب اکیلی ہوتی ہوں تو وقفہ دار روزے رکھتی ہوں، لیکن جب کسی کے ساتھ رشتے میں منسلک ہوتی ہوں تو میں ایسا نہیں کرتی۔۔

شکر سے ہلچل

27 سالہ کولم ڈوائر ایک کیمرا مین ہیں اور تقریباً دو سال سے انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کر رہے ہیں۔ وہ بارہ اور آٹھ بجے شام کے درمیان دو مرتبہ بھرپور کھانا کھاتے ہیں۔

ان کے بقول ’مجھے اس قسم کی باقاعدگی یا ڈسپلن اچھا لگتا ہے۔ اس سے میری زندگی میں ایک باقاعدگی آ جاتی ہے جو کہ ایسے شخص کے لیے بہت ضروری ہے جس کے کام کے اوقات اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔‘

کولم کے لیے یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کو کم سے کم ’شوگر رش‘ ہو یعنی وہ نہیں چاہتے کہ شکر سے ان کے جسم میں فوری تیزی آ جائے اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ سستی کا شکار ہو کر لیٹ جائیں۔

ڈاکٹر پٹیل کہتی ہیں کہ روزے کا ایک نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ جسم میں شکر (یا انسولین) کے اتار چڑہاؤ سے آپ کے مزاج میں بھی اتار چڑہاؤ ہو، اور اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ کس قسم کی خوراک کے عادی ہیں۔

’مثلاً اگر آپ ایسی خوراک کھاتے ہیں جس میں نشاستہ دار اشیا زیادہ ہوتی ہیں یا آپ ہر تھوڑی دیر بعد ہلکے پھلکے کھانے (سنیک) کے عادی ہیں، تو صاف ظاہر ہے آپ روزے کے دوران چڑچڑے ہو جائیں گے۔‘

’یہ ہر کسی کے لیے نہیں‘

ایسے افراد کے لیے وقفہ دار روزے غیر موزوں ہو سکتے ہیں جنھیں صحت کے کوئی مخصوص مسائل درپیش ہوں۔

مثلاّ ایسے افراد جنہیں بہت زیادہ ذیایطس (شوگر) ہو، کھانے پینے کے مسائل کا سامنا ہو، پیچیدہ امراض میں مبتلا ہوں، ایسی خواتین جو حاملہ ہوں یا بچے کو دودھ پلاتی ہوں، ایسے افراد کو انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ کا تجربہ نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے لوگ اس وقت تک اس قسم کی ڈائیٹنگ نہ کریں جب تک ڈاکٹر سے مشورہ نہ کر لیں۔

اسی طرح، وہ افراد جنہیں معدے کا السر ہو، انہیں بھی اس طرح روزے نہیں رکھنا چاہئیں۔

ڈاکٹر پٹیل کہتی ہیں کہ ڈائیٹنگ کا یہ طریقہ گذشتہ دس برسوں میں ہی مقبول ہوا ہے۔ یہ عرصہ اتنا زیادہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر آپ یہ ثابت کر سکیں کہ آیا یا طریقہ اچھا ہے یا بُرا۔

’ہمارے پاس اس حوالے سے بہت زیادہ تجربات نہیں ہیں، لیکن اب اس شعبے میں تجربات ہو رہے ہیں۔ یہ سیاہ یا سفید کا معاملہ نہیں ہے، لیکن اب تک ہونے والی تحقیق سے دکھائی دیتا ہے کہ اگر آپ اس پر درست طریقے سے عمل کرتے ہیں تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔‘

متعلقہ خبریں