Daily Mashriq

کیا چھت پر سفید رنگ کرنے سے گرمی کم ہو جاتی ہے؟

کیا چھت پر سفید رنگ کرنے سے گرمی کم ہو جاتی ہے؟

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عمارت کی چھت کو سفید رنگ کرنے سے سورج کی گرمی اس پر پڑ کر واپس ہو جاتی ہے جو درجۂ حرارت کم کرنے کا سب سے درست طریقہ ہے۔

لیکن یہ طریقۂ کتنا موثر ہے اور اس کے منفی اثرات کیا ہیں؟

اقوامِ متحدہ کے سابق جنرل سیکریٹری بان کی مون نے حال ہی میں بی بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ یہ 30 ڈگری تک کم ہو سکتا ہے اور گھر کے اندر کا درجۂ حرارت سات ڈگری تک گر سکتا ہے۔

پاکستان اور انڈیا میں گرمی کی لہر

یورپ شدید ترین گرمی کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کا خدشہ

'گذشتہ پانچ سال ریکارڈ شدہ تاریخ کے گرم ترین سال رہے'

یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے اور کون سی تحقیق انھیں درست ثابت کرتی ہے؟

بان کی مون انڈیا کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں جاری ایک پائلٹ پروجیکٹ کی بات کر رہے تھے۔ احمد آباد میں گرمیوں میں درجۂ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

سنہ 2017 میں شہر بھر کی تین ہزار سے زیادہ چھتوں کو سفید رنگ کا خاص پینٹ لگایا گیا۔

یہ چھت ٹھنڈا کرنے کا ایسا عمل ہے جو سورج سے پیدا ہونے والی گرمی کو کم کرتا ہے تاکہ کم سے کم گرمی عمارت کے اندر پہنچے۔

جتنی گرمی عمارت نے جذب کی، چھت ٹھنڈا کرنے کا یہ عمل اس گرمی کو باہر نکال کر درجۂ حرارت کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

اس پروجیکٹ کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ منعکس کرنے والی چھت کی یہ تہہ چھت کا درجۂ حرارت 30 سینٹی گریڈ جبکہ گھر کے اندر کا درجۂ حرارت تین سے سات ڈگری تک کم کر سکتی ہے۔

درجۂ حرارت میں دو سے پانچ ڈگری تک کمی

امریکہ میں قدرتی وسائل کے بچاؤ کے ادارے سے منسلک انجلی جیسوال احمد آباد پروجیکٹ کے معائنے کے بعد کہتی ہیں 'اس کا انحصار ترتیب پر ہے لیکن عام گھروں کے مقابلے میں چھت ٹھنڈا کرنے کا یہ عمل گھر کے اندرونی درجۂ حرارت کو دو سے پانچ ڈگری تک کم کرنے میں مدد گار ہے۔'

متعلقہ خبریں