Daily Mashriq


علماء سے وزیر اعظم نواز شریف کا خطاب

علماء سے وزیر اعظم نواز شریف کا خطاب

لاہور کے جامعہ نعیمیہ میں وزیر اعظم نواز شریف نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ عالم اسلام کو درپیش دہشت گردی کے حوالے سے نہایت اہم نکات اُٹھائے ہیں۔ علماء کا نظریہ فرقہ واریت ، انتہاپسندی کے بارے میں عالم اسلام ایک عرصہ سے متوجہ ہے ۔ سبھی کو اس بات پر اتفاق ہے کہ انتہاپسندی کے حق میں جوا ز تراشی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ علمائے اسلام کو اسلام کے اصل بیانیہ ، تصورِ جہاد اور اخوت و مساوات کی اقتدار کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے ماضی میں پاکستان میں کچھ کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کم از کم دو بار علماء کے اجلاس بلائے گئے جنہوں نے چند اصولی باتوں پر اتفاق بھی کیا لیکن پاکستان اور دنیا کے دیگر مسلمان ملکوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی میں کمی نہیں آئی بلکہ اس حوالے سے پہلے سے موجود ناموں میں نئی انتہا پسند نظریات کی حامل تنظیموں کے ناموں کا اضافہ ہی سامنے آیا ۔ متعدد علمائے کرام نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے حوالے سے اسلام کے عدل و احسان کی اقتدار کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی اور ناحق قتال کے خلاف فتاویٰ بھی جاری کیے۔ ان کے دلائل اورعلمی تحقیقات پر غور کرنے کی بجائے انہیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا ۔جامعہ نعیمیہ میں بھی خود کش حملہ کیا گیا ۔ جامعہ کے مفتی سرفرار نعیمی سمیت متعدد افراد اس حملے میں شہید ہو ئے۔ اسی طرح پاکستان اور دنیا بھر میں جن علماء نے اسلام کاانسانیت نواز حقیقی بیانیہ اجاگر کرنے کی کوشش کی ان سے علمی اختلاف کی بجائے انہیں خاموش کرنے کے لیے سفاکی اور بہیمیت سے کام لیا گیا۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا بجا ہے کہ دنیا بھر میں اسلام کے نام پر ظلم کا بازار گرم ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہی اسلام کا تعارف ہے جو اسلام کے حقیقی بیانیہ سے مختلف سوچ رکھنے والے اسلام کے نام پر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بجا طور پرکہا ہے کہ وہ معاشرہ مسلمان معاشرہ کہلانے کے مستحق نہیں جہاں مسلک کی بنیاد پرانسانوں کو قتل کیا جاتا ہو۔ وزیر اعظم کے یہ الفاظ سنجیدہ حقیقت بیان کرتے ہیںکہ دہشت گردی کے لیے دینی دلائل تراشے جاتے ہیں ،جہاں ان کو غلط رنگ دیا جاتا ہے اس طرح جو فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی سوچ پیدا ہوتی ہے ان حقائق پر عالم اسلام کے درد مند اور صائب النظر حلقے ایک عرصے سے متوجہ ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے یہ تشخیص اس وقت بیان کی ہے جب دہشت گردی کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے والوںکی مزاحمت مسلمان ملکوں میں اور بعض مغربی ممالک کی جانب سے بھی ہوئی ہے۔ اوران کے زیرِاثر علاقہ سمٹ رہا ہے۔ یعنی یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ان نظریات کو تائید غیبی حاصل نہیں ہے۔ پاکستان میں فاٹا میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ ان تنظیموں کے محرکین اور اکابرین اپنے عناصر کو یہ بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایسے گناہوں کا خیال اسلام کی خاطر کرتے ہیں۔ اسلام کا صریح حکم یہ ہے کہ جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا اس نے گویا ساری انسانیت کو قتل کیا۔ اس میں مقتول کے مسلمان ہونے کی بھی شرط نہیں۔ لیکن جو وہ مسلمانوں کو کم ترمسلمان یا اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں اور پھر ان کے قتل کی تلقین کرتے ہیں ۔ وہاں مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر قتال کورواج دینے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ اسلام کے احکام کی خلاف ورزی ہے۔ بڑی تعداد میں علماء نے اسلام کے نام پر ناحق خون بہانے کی مذمت کی ہے اور آج بھی کرتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم نواز شریف نے ان سے کہا ہے کہ وہ فتوؤں سے آگے نکلیں اور اسلام کاحقیقی بیانیہ اجاگرکریں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ علمائے کرام اب عوام سے مخاطب ہوں ، دہشت گردی کی مذمت کریں اور اسلام کی اقتدار کی وضاحت کریں۔ یہ کام علماء پہلے ہی کررہے ہیں۔ مساجد میں وعظ و تلقین کا کام جاری ہے کبھی رکا نہیں۔ اس وعظ و تلقین میں کہیں دہشت گردی کی حمایت نہیں کی جاتی ۔ بیانیہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے اور اسلام کی تعلیمات کی حقانیت سے بالعموم انکار نہیں کیا جا تا۔ جو لوگ انتہا پسند سوچ کا شکار ہوتے ہیں دیکھنا ہے کہ وہ کیوں اس طرف راغب ہوتے ہیں۔ ان وجوہ کا تدارک محض وعظ و تلقین کے ذریعے اس سوچ کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ بیانیہ کے بارے میں یہ سمجھنا کہ یہ بعض اصولوں یا اقتدار کی ترویج کا سوئچ ہے جسے آن یا آف کیا جا سکتا ہے، صحیح نہیں ہے۔ یہ بات زبان زدِعام ہے کہ مغربی ممالک سے اسلام قبول کرنے کے بعد جب بعض لوگ پاکستان آتے ہیں تو وہ یہاں اسلامی اقدار کی توہین دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ اسلام کے حقیقی بیانیہ کی ترویج کے لیے حکومت کو بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور جب انتہا پسندی کو رواج دینے والے اپنے مخالفین سے پوچھتے ہیں کہ جو کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے ، جو اس معاشرے کی صورت حال ہے کیا وہ اسلامی اقدار اور احکام کے مطابق ہے تو نوجوانوں کے کچے ذہنوں میں اس کا جواب نہیں ہوتا۔ اور وہ اس دعوے پر متفق ہو جاتے ہیں کہ یہاں اسلام کے شعائر کی پابندی نہیں کی جاتی اور اس پابندی کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسلام کے نفاذ کے لیے جس طرح ان کے ذہن تیار کیے جاتے ہیں وہ اس راہ پر لگ جاتے ہیں۔ معاشرے میں عدل قائم کرنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے۔ جب مقامی پولیس سے لے کر نمائندہ ایوانوں تک اور حکومت کے محکموں میں ہر جگہ عدل نایاب پایا جائے گا۔ جب ہر سطح پر میرٹ کی خلاف ورزی ہو گی ، جب اربوں روپے کی کرپشن کے سکینڈل عام ہوں گے ۔ جب امانت ، دیانت اور شرافت کی بے توقیری عام گفتگو کا حصہ ہو جائے گی تو اسلامی اقتدار کا احترام کیسے قائم ہو گا اور وعظ و تلقین اس ماحول کو بدلے بغیر کس طرح کامیاب ہو سکے گا۔ ایک طرف دس دس بیس بیس کنال کے بنگلوں میں ایک ہی خاندان رہائش پذیر ہے دوسری طرف کچی آبادیوں، جھگیوں اور غاروں میں بھی پاکستانی ہی آباد ہیں۔ بڑے شہروں میں موٹر کاروں کی صفائی پر روزانہ لاکھوں بیرل صاف پانی خرچ ہو جاتا ہے جو ملک کی متعدد آبادی کو میسر نہیں۔ سکول جانے کی عمر کے کروڑوں بچوں کو سکول میسر نہیں۔ ایسے سکول بھی ہیں جن کی کوئی عمارت نہیں۔ یہ اونچ نیچ ختم کرنا اور غریب اور پسماندہ لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے، جو پوری نہیں ہوتی۔ یہ علماء ہی کے وعظ و تلقین کی بدولت ہے کہ عوام کے باعث فساد پر نہیں اتر آتے۔ یقینا علماء اس روایت پر کاربند ہیں کہ وہ دین کے شعائر کو عام کرتے رہیں۔ تاہم مسلمانوں کو اس فرض کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہیے کہ حکمرانوں کو اسلامی شعائر کے تقاضوں سے بھی آگاہ کرتے رہیں۔ وزیر اعظم کو اس حوالے سے بھی علماء سے رہنمائی فراہم کرنے کے لیے کہنا چاہیے تھا۔

متعلقہ خبریں