Daily Mashriq


فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام پر اختلاف

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام پر اختلاف

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں فاٹا کے انضمام کا فیصلہ کرنے کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے ۔ مولانا اس سے پہلے بھی یہی تجویز پیش کرتے رہے ہیں لیکن اس بار انہوں نے یہ تجویز فاٹا کے عمائدین کے ایک جرگے کے بعد پیش کی ہے جس کا اہتمام ان کی جمعیت علمائے اسلام نے کیا ہے۔ سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری کے ساتھ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں مرحلہ وار انضمام کا فیصلہ کیا جا چکاہے۔ اور یہ طے کیا گیا ہے کہ فاٹا کے انضمام کے لیے پانچ سال بعد فاٹا کے عوام سے رائے لی جائے گی کہ وہ خیبر پختونخوا میں انضمام چاہتے ہیں یا کوئی اور انتظام چاہتے ہیں۔ یعنی فاٹا میں اگرچہ اصلاحات کا آغاز ہو جائے گا تاہم انضمام کا فیصلہ فاٹا کے عوام کی رائے سے پانچ سال بعد کیا جائے گا۔ لیکن مولانا نے عمائدین کے جرگے کے بعد کہا ہے کہ انضمام کے لیے فاٹا میں ریفرنڈم مردم شماری کے بعد کرایا جائے جو مارچ سے شروع ہو کر مئی تک مکمل ہو جائے گی۔ اس طرح یہ بات غیر واضح ہو جاتی ہے کہ آیا مولانا فضل الرحمان اسی سال کے اندر ریفرنڈم چاہتے ہیں یا پانچ سال بعد ریفرنڈم کے لیے انتظار کر سکتے ہیں۔ عمائدین کے جرگے کے بعد کہا گیا کہ فاٹا کی ایجنسیوں میں رواجات مختلف ہیں۔ سرتاج عزیز کمیٹی نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کہ فاٹا میں رواج ایکٹ نافذ کرنے کی جو تجویز پیش کی گئی ہے اس میں مختلف علاقوں میں مختلف رواجات کے احترام کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اب ایک طرف فاٹا کے بہتر ارکان اسمبلی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فاٹا کے پختونخوا میں انضمام کا اعلان فوری طور پر کیا جائے ورنہ اس کے لیے احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ دوسری طرف سرتاج عزیز کمیٹی کی منظور شدہ رپورٹ کے مطابق انضمام کا فیصلہ پانچ سال بعد کیا جائے گا اور تیسری طرف جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام بلائے گئے جرگہ میں کہا جا رہا ہے کہ فاٹا کے عمائدین نے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کی مخالفت کر دی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ قوم کے رہنما فاٹا کے عوام کو گو مگو کی اس کیفیت سے نکالیں گے۔

بچوں کیلئے کھیل کے میدان بنائے جائیں

کھیل نوجوانوں کی جسمانی و ذہنی نشو ونما کیلئے انتہائی ضروری اور مفید ہیں لیکن ہمارے ہاں نوجوانوں کیلئے کھیلوں کے میدانوں کی کمی ہے ۔ اس کے منفی اثرات ہمارے پورے معاشرے پر مرتب ہور ہے ہیں ۔ کم گرائونڈ ز ہونے کے باعث نوجوان ، سڑکوں محلوں اور گلیوں میں کھیلنے پر مجبور ہیں ۔جب نوجوانوں کی پہنچ میں کوئی کھیل کا میدان نہ ہو تو وہ منفی سر گرمیوں کی جانب بڑھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ان ساری خرابیوں کی بنیادی وجہ کھیل کے میدانوں اور سہولتوں کی کمی ہے ۔ لہٰذا حکومت اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دے اور کھیل کے نئے میدان بنائے تاکہ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھا جا سکے ۔

متعلقہ خبریں