Daily Mashriq

افغانستان میں روس کی واپسی؟

افغانستان میں روس کی واپسی؟

سوویت یونین نے جب افغانستان سے رخت سفر باندھنے کا ارادہ کر لیا تو اس وقت کے سوویت صدر گورباچوف نے افغانستان کو ''رستا ہوا زخم '' کہا تھا یہ اس بات کا اشارہ تھا اب سوویت یونین مزید اس جنگ اور جنگ زدہ ملک کا بوجھ اُٹھانے کا متحمل نہیں رہا۔ اب دہائیاں گزر گئیں مگر زخم کھلا ہے اور اس کے اندمال کی کوششیں دم توڑ چکی ہیں ۔ہر دس سال بعد افغان قضیہ ایک نیا موڑ لیتا ہے مگر قضیہ ہے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔تیسری دنیا کے کسی ملک کاعالمی طاقتوں کے درپردہ مفادات کی جنگ کے ریڈار پرآنا ایک بدقسمتی ہوتی ہے ۔افغانستان اسی بدقسمتی کا سامنا کر رہا ہے ۔ابھی امریکہ کی آمد سے لگنے والا زخم ہرا ہے کہ اب ایک نئے انداز سے روس کی افغانستان میں واپسی کے آثار پیدا ہونے لگے ہیںجس کا ایک ثبوت برطانیہ کے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے نمائندے کولن فری مین کی اسلام آباد سے یہ دی جانے والی خبر ہے جس کے مطابق کہ پاک فوج نے امریکہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ افغانستان میں فورسز کا تعطل جاری ہے جس کا مطلب طالبان کی جیت اور دہشت گرد وں کی مضبوطی ہے ۔ایسے میں روس خودکو محفوظ رکھنے کا بہانہ بنا کر اسی طرح افغانستان میں مداخلت کر سکتا ہے جس طرح شام میں کی گئی تھی۔ ٹیلی گراف نے پاک فوج کے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ داعش عراق میں پنپ رہی ہے اس کے دوبارہ اکٹھا ہونے کی ممکنہ جگہ افغانستان ہو سکتی ہے ۔افغانستان میں ساڑھے تین لاکھ فوجی ہیں مگر ان میں صرف بیس ہزار لڑائی لڑنے کے اہل ہیں۔ایک ہزار جنرل ہیں جن میں اکثر کی تعیناتی میرٹ کی بجائے قبائلی وابستگی کی بنیاد پر ہوئی ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ ایک گدھے کو گھوڑے کی طرح سرپٹ بھگایا نہیں جا سکتا۔اس طرح روس داعش کے نام پر افغانستان کے میدان میں کود سکتا ہے۔پاک فوج کی طرف سے امریکیوں کو کئے جانے والے انتباہ کا نتیجہ کیا نکلا خبر میں اس کا کوئی ذکر نہیں ۔کچھ عرصے سے بھارتی ذرائع ابلاغ یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ چین کی سرخ فوج افغانستان کے علاقے میں پٹرولنگ کرتی ہوئی دیکھی جا رہی ہے۔چین نے ان خبروں کی تردید کی ہے تاہم یہ تسلیم کیا ہے کہ چینی فوج افغانستان کی فوج کے ساتھ مل کر علاقے میں پٹرولنگ کرتی ہے اور یہ ایک معاہدے کے تحت ہو رہا ہے ۔امریکہ ،بھارت اور افغان حکمرانوں نے اس ملک کی جو حالت بنا رکھی ہے اس میں افغانستان کے حالات میں بہتری کی بجائے مزید بگاڑ ہی نظر آتا ہے۔امریکہ نے افغانستان کو امن اور استحکام اور مضبوط سول سٹرکچر دینے کے نام پر چڑھائی کی تھی مگر ڈیڑھ عشرے کے بعد افغانستان پہلے سے زیادہ غیر مستحکم اور سول سٹرکچر سے محروم ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے افغانستان میں امریکی فورسز کے سربراہ جنرل نکلسن نے پاکستان میں سول اور فوجی حکام سے طویل ملاقاتیں کی تھیں۔بعد ازاں جنرل نکلسن نے امریکی سینیٹ کی مسلح افواج سے متعلق کمیٹی کو بتایا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پندرہ برس کی لڑائی میں امریکی حمایت یافتہ افغان افواج کھل کر لڑ نہیں پارہی ۔اس تعطل زدہ صورت حال کو توڑنے کے لئے انہیں مزید چند ہزار فوجی درکار ہوں گے۔یہ فوجی پہلے سے موجود آٹھ ہزار چار سوامریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔جنرل نکلسن نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ پچھلے سال کی نسبت افغانستان میں ہلاکتیں بھی زیادہ ہوئی تھیں۔گزشتہ سال نومبر تک حملوں میں ہلاک ہونے والے افغان فوجیوں کی تعداد 6700تھی۔ 

اب امریکہ کے ایک اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل نکلسن کی اس رپورٹ کے بعد ہی ٹرمپ انتظامیہ نے فوج کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔جن دنوں جنرل نکلسن کو امریکی سینیٹ میں دئیے جانے والے بیان کے مندرجات سامنے آئے تھے انہی دنوں افغانستان میں تعمیر نو کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی میڈیا میں گردش کر رہی تھی۔جس میں کہا گیا تھا کہ افغان حکومت رفتہ رفتہ ملک کے اندرونی حصوں پر کنٹرول کھو رہی ہے۔دنیا کے اٹھانوے میں سے بیس دہشت گرد گروہ اس علاقے میں سرگرم ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ روس افغانستان میں اہم کردار ادا کررہا ہے ۔روس کی جانب سے مداخلت کی خبروں سے مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ایک طرف امریکہ اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان میں داعش کاخطرہ تیزی سے اُبھر رہا ہے۔افغانستان میں ہونے والی حالیہ کارروائیوں میں داعش کا ہاتھ ہونے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں ۔سیہون شریف دھماکے کو بھی انہی قوتوں کی کارستانی کہا گیا۔پاکستان ،روس اور چین خطے کے وہ ممالک ہیں جو افغانستان کی عسکریت کو دو خانوں میں بانٹ رہے ہیں ۔ایک طالبان کی مزاحمت جو غیر ملکی افواج سے لڑ رہے ہیں اور کابل میں اپنا جائز حصہ چاہتے ہیں۔دوسرے خانے میں داعش ہے ۔شام میں بھی مسلح عسکریت ان دو خانوں میں بٹ گئی تھی ۔اب افغانستان میں داعش کا خطرہ اُبھرنے کے بعد روس کابراہ راست کردار شروع ہونے کے آثار ہیں مگر شام کی طرح یہ مداخلت محض کسی عسکری گروہ کے خلاف کارروائیوںسے بڑھ کر طاقت کا نیا توازن قائم کر سکتا ہے ۔یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ روس داعش کے مقابلے کے لئے طالبان سے تعاون کرنے اور لینے پر یقین رکھتا ہے ۔چین طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور پاکستان تو طالبان کا ہمدرد ہونے کے مسلسل الزام کی زد میں ہے۔امریکہ کے مقابل روس کی افغانستان میں آمد افغانیوں کے برے دنوں کو شاید ہی ختم کرنے کا باعث ہو بلکہ اس سے افغان تنازعہ ایک نئی سمت میں چل پڑے گا ۔افغان حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی اور خود کو بھارت کا کینگرو بنا کر بدقسمتی کے منڈلاتے ان سایوں کو گہرا کرنے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔

اداریہ