Daily Mashriq


تصدیق کنندگان اور تصدیق کے مسائل

تصدیق کنندگان اور تصدیق کے مسائل

ایک قاری جناب صلاح الدین خان کی ای میل موصول ہوئی جس میں انہوں نے فرمائش کی اس موضوع پر لکھا جائے کہ ہمارے ہاں کسی بھی نوکری کے لیے کسی پوسٹ پراپلائی کرنے کے لیے امیدوار سے درخواست کے ساتھ بہت سی دستاویزات کی تصدیق شدہ نقول اور تصاویر کا تقاضا کیا جاتا ہے کہ جن نقول کا کوئی مصرف نہیں ہوتاکہ جنہیں بعد میں ردی میں بیچ دیا جاتا ہے ۔ بقول صلاح الدین خان کے بعد میں دستاویز ات کی ان نقول میں پکوڑے اور سموسے بیچے جاتے ہیں ۔اس ضمن میں ہمارا موقف یہ ہے کہ پکوڑے اور سموسوں کا تو اس میں قصور نہیں ہے کیونکہ ان بیچاروں نے تیل کی گرم کڑاہی سے نکل کر انسان کے منہ میں جانے سے پہلے کسی کاغذ کو تو استعمال کرنا ہی ہوتا ہے۔ اب بدقسمتی سے وہ کاغذ کسی امیدوار کے میٹرک کے سر ٹیفکیٹ کی کوئی نقل بھی ہوسکتی ہے کہ جس کی تصدیق کروانے کے لیے امیدوار نے اپنے گاؤں سے نکل کر کسی دوسرے علاقے میں جاکرکسی سرکاری افسر سے منت سماجت کرکے تصدیق کروائی ہو۔سموسہ کھانے والے کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس فوٹو سٹیٹ کاغذ کی کیا کہانی ہے کیونکہ سموسہ کھاتے ہوئے کب کسی کو کسی گہری سوچ کی سوجھ سکتی ہے ۔ اس میں بھی فلسفہ شامل ہے کہ ایک وقت میں بندہ ایک کام ہی کرسکتا ہے۔ اب سموسہ کھانے کے دوران سوچنے کا اضافی کام کوئی کیسے کرے ۔چونکہ ہم اس وقت کچھ کھانہیں رہے اس لیے سوچ سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ دراصل ہم نے ابھی بہت سی نئی چیزوں ، نئی باتوں کو اختیار نہیں کیا ۔ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہورہا ۔ اب تو ایک نیا ڈھکوسلہ ایجاد ہوگیا ہے کہ امیدواراپنی ڈگریاں اپنے بورڈز اور یونیورسٹیوں سے ویریفائی کروائیں ۔ اب وہی بورڈ اور یونیورسٹیاں اس ویریفیکیشن کی بھاری بھاری فیسیں وصول کرتی ہیں کہ جو ڈگریاں یا سرٹیفیکیٹ وہ پہلے ہی جاری کرچکی ہوتی ہیں ۔ توجناب جب یہ ڈگریاں دی جارہی ہوتی ہیں تو اسی وقت ہی اس کی ویریفائیڈ کاپیاں دی جائیں تو امیدوار اس خجالت سے نکل آئے ۔ لیکن کیا کیا جائے ہمارے یہاں کسی کو سہولت پہنچانے کی کوئی سوچ ہی نہیں ہے ۔ طرہ یہ کہ اکثر امیدواردرخواست یا فارم داخل کروانے کی ''آخری ''تاریخ کو ہی تشریف لائیں گے ۔جیسے یہ آخری تاریخ اچانک ہی آگئی ہواور اس آخری تاریخ سے پہلے ایک ڈیڑھ مہینے کی تاریخیں کسی نے کیلنڈرسے ڈیلیٹ کردی ہوں ۔ ہمارے سماجی بندھن بھی ایسے ہیں کہ ہم بہت سے کام نہ چاہتے ہوئے بھی کرجاتے ہیں ۔دوستوں ،عزیزوں ،رشتہ اور محلہ دار وں کا دباؤ ان بیچارے سرکاری افسروں پر اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ بہت سی تصدیقیں نہ چاہتے ہوئے بھی کرڈالتے ہیں ۔حالانکہ کسی بھی تصدیق نامے میں یہ جملہ واضح لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ''میں اس بندے کو ذاتی طور ر جانتا ہوں '' اکثر کوئی عزیز رشتہ دار ، دوست محلہ دار کسی جاننے والے کی تصدیق لے آتا ہے کہ جناب میں اس شخص کو جانتا ہوں ۔ لیکن یہ کوئی جواز نہیں کہ جب تک خود تصدیق کنندہ اس شخص کو نہیں جانتا یہ حلف مکمل نہیں ہوتا کیونکہ کسی کی تصدیق کرنا کہ اس بندے کو ذاتی طور پر جانتا ہوں ، اس پر دستخط ثبت کرنا دراصل ایک حلف نامہ پر دستخط کرنا ہوتاہے ۔ اسی طرح نادرا کے شناختی کار ڈ کے حوالے سے بھی مسائل ہیں۔نادرا کے نئے رولز کے مطابق کسی بھی پاکستانی شہری کا والد یا اس کی والدہ یا بھائی جس کا کمپیوٹرائز ڈ کارڈ بن چکا ہواس کو کسی تصدیق نہیں بلکہ انہی میں سے کوئی اس کے ساتھ جاکر شناختی کارڈ کے حصو ل کا پراسس مکمل کرسکتا ہے ۔لیکن یہاں افسوس کی بات یہ ہے کہ نادرا اہلکارعوام کو دوبارہ سرکاری ملازمین کے پاس بھیج دیتے ہیں۔ اب تو سرکاری ملازمین نادرا کی تصدیق کے حوالے سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ کہیں کسی غیر ملکی کی ان کے ہاتھ سے تصدیق نہ ہوجائے کیونکہ یہ مسئلہ نہایت حساس ہوتا ہے یوں وہ لوگ کہ جن کی رسائی افسروں تک نہیں ہوتی انہیں بڑی پریشانی ہوتی ہے ۔ عوام کے اصل تصدیق کنندہ تو عوامی نمائندے ہوتے ہیں لیکن نادرا والے خداجانے ان کی تصدیق کو تسلیم نہیں کرتے اور یوں تصدیق کا بال سرکاری ملازمین کے کورٹ میں آجاتاہے ۔ یوں بھی نادرا کے دفتروں میں اتنا رش ہوتا ہے کہ پورا ایک دن فارم کے حصول کے لیے لگ جاتا ہے ۔ بعض علاقوں کے دفاترمیں رش کم ہوتا ہے تو وہاں کوئی جائے تو اسے یہ کہہ کر جان چھڑالی جاتی کہ یہ آپ کا علاقہ نہیں ہے آ پ اپنے علاقے تشریف لے جائیں ۔ اب نادرا کوئی پرانا سسٹم تو نہیں کہ جس میں مینوئل کام نہیں ہوتا سو کہیں کا بھی رہائشی حق رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی نادرا دفتر میں جاکر اپنا کارڈ وغیرہ حاصل کرسکے ۔ ہمارا مسئلہ بھی یہی ہے کہ اپنے اپنے تھانوں سے باہر نہیں نکلتے۔ تصدیق پاکستان کے شہریوں کا ایک مسئلہ ہے کہ جس پر کوئی سنجیدگی سے نہیں سوچتا ۔ کتنا کتنا سفر کرکے ، اپنے کام کاج چھوڑ چھاڑکرمنہ اندھیرے نادرا کے دفتر کو جاتے ہیں تاکہ قطار میں آگے جگہ پکڑ سکیں لیکن وہا ںتصدیق کا پھڈا نکل آتا ہے ۔ نادرا والوں کی احتیاط بھی منطقی ہے لیکن سسٹم تو انہوں نے ہی بنانا ہے ۔اب جو جو بے قاعدگیاں ہوئی ہیں ان میں نادرا کے ملازمین ہی شامل تھے ۔ بجائے اس کے کہ اپنے سسٹم کو فول پروف بنایا جائے ،عوام کے لیے پیچیدگیا ں پیدا کرنا کسی طور بھی قابل ستائش نہیں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سسٹم ہموار ہوگا۔دوسرا فائدہ عوام کو ہوگا کہ وہ تصدیق کے لیے مارے مارے نہیں پھریں گے اور تصدیق کنندگان بھی سکھ کا سانس لیں گے ۔

متعلقہ خبریں