Daily Mashriq

ہم پھٹیچر کے پھٹیچر ہی رہے

ہم پھٹیچر کے پھٹیچر ہی رہے

ہم پھٹیچر کے پھٹیچر ہی رہے لیکن پہلے ہمیں جس خبر سے اپنی بڑائی پر خوشی ہوئی تھی وہ بیان کردیں۔ ایک انگریزی محاورے کے مطابق دو بڑے لوگ ہمیشہ ایک طرح کا سوچتے ہیں۔ آپ ا سے اگر اپنی خود ستائی پر محمول گ نہ کریں تو ہمیں زندگی میں پہلی دفعہ اپنے بڑے پن کا احساس ہوا تھا۔ حاسدوں کی بات الگ ہے' انہیں تو ہمیشہ اپنی ہی آگ میں جلنے کا شوق رہتا ہے جیسے کہ وہ ایک شاعر نے کہا ہے 

یوں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے
آتش یہ کہی تو نے غزل عاشقانہ کیا
بات یوں بنی کہ ہم نے ایک گزشتہ کالم میں چیف منسٹر کی جانب سے زلمیانو کو پی ایس ایل کا فائنل جیتنے پر دو کروڑ روپے کے اعلان کا ذ کر کیا تھا۔ خوشی ہمیں بھی ہوئی تھی لیکن ہم نے انہیں صرف دعائیں دینے پر ہی اکتفا کیا تھا۔ خالی جیب سے ہم کیا کرسکتے تھے۔ چیف منسٹر کے اس اعلان کو مگر ایک غیر مناسب فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے ہاں جو ایک خبر کے مطابق سرکاری ٹیوب ویلز' انعامی رقم ہی کے برابر' بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بند پڑے ہیں پہلے اگر وہ ادا کردئیے جاتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ کسی دوسرے نے تو ہمارے مشورے کا نوٹس نہیں لیا' پی ٹی آئی کے چیئر مین کو ہماری بات اچھی لگی اور انہوں نے نہ صرف چیف منسٹر کے اعلان کا سختی سے نوٹس لیا بلکہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق اس پر ناراضگی کااظہار بھی کردیا۔ ہم یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ خان صاحب نے پی ایس ایل کے لاہور میں فائنل مقابلے کو بھی پاگل پن قرار دیا تھا۔ سچ پوچھئے تو ان کا یہ اعلان شہر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر نیک نیتی پر مبنی تھا۔ اس کے بعد اب ان کے ایک دوسرے بیان کا بڑا چرچا ہے۔ خان صاحب نے اپنی پرائیویٹ گفتگو میں پی ایس ایل میں شامل غیر ملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہہ دیا اور یہ بھی کہ یہ سب ریلوکٹے ہیں۔ کسی بدخواہ نے ان کی اس آف دی ریکارڈ گفتگو کی موبائل فون سے ویڈیو بنا کر پرائیویٹ ٹی وی چینلز تک پہنچا دی۔ بس پھر کیا تھا اللہ دے اور بندہ لے۔ ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ پورے سیاق و سباق کے ساتھ دونوں لفظوں کے معانی بتائے جانے لگے۔ پھٹیچر کا لفظ تو خیر روز مرہ کی گفتگو میں استعمال ہوتا رہتا ہے البتہ یہ ریلوکٹے ہمارے لئے نیا تھا اور ہم نے پہلی بار سنا تھا۔ تلاش کرنے پر لغت میں بھی اس کے معنی نہ ملے۔ ایک دوست سے پوچھ کر معلوم ہوا کہ کھیل میں شامل باقاعدہ ارکان کے علاوہ ایک اضافی کھلاڑی بھی ہوتا ہے جسے ضرورت پڑنے پر کسی بھی ٹیم کی طرف سے کھیلنے کی اجازت ہوتی ہے۔ چار پانچ روز ہوگئے' سرکاری قسم کے ریلوکٹوں نے خان صاحب کو نشانے پر لے رکھا ہے۔ سینیٹر بابر اعوان نے بجاطور پر کہا ہے کہ سرمایہ داری'جاگیر داری اور چور بازاری کے پیٹ سے برآمد ہونے والی غربت اور بے روز گاری نہ حکومت کا مسئلہ ہے اور نہ جمہوریت کا۔ اللہ کے فضل و کرم سے نظریں اصل مسائل پر ہیں جو ختم ہو کر تین بچے ہیں۔ پہلا دہشت گردی اور بد امنی اس مسئلے کا حل کرکٹ میچ ہے۔ دوسرا چھوٹے اور پسے ہوئے طبقات کی حمایت کے لئے لفظ پھٹیچر کی مخالفت' تیسرا بے روز گاری' سٹریٹ کرائم اور آسمان سے باتیں کرنے والی مہنگائی ہے۔ اس کے خاتمے کے لئے صبح' دوپہر اور شام 29مرتبہ ریلوکٹے کا ورد ہے۔ سینٹ میں پھٹیچر اور ریلوکٹا غیر پارلیمانی لفظ ٹھہرے' ظاہر ہے اس طرح کی غیر پارلیمانی گفتگو ہماری شرمیلی جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ پھٹیچر اور ریلوکٹا کون سی لغت کے لفظ ہیں یہی سوال دنیا کی مفاہمتی سینٹ سے بھی پوچھا جاسکتا ہے۔ایک بار پھر ہم کرکٹ کے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں اس دعوت کا ذکر مقصود ہے جو پختونخوا کے چیف منسٹر نے پشاور زلمی کی فاتح ٹیم کے اعزاز میں دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس عرصے میں جب اچانک پھٹیچر اور ریلوکٹے کا غلغلہ اٹھاتو پشاور زلمی کی ٹیم نے ایک اخباری اطلاع کے مطابق ظہرانے کی یہ دعوت مسترد کردی۔ زلمیوں کے لئے چیف منسٹر کی جانب سے دو کروڑ کے عطیے پر کپتان کی ناراضگی اور زلمیوں کا ان کے اعزاز میں دی جانے والی دعوت میں شرکت سے انکار پر گرما گرم خبریں چل رہی تھیں کہ اچانک یہ خبرسامنے آئی کہ نہ تو کپتان نے فاتح ٹیم کے لئے انعامی رقم کے اعلان پر کسی خفگی کا اظہار کیا ہے اور نہ پشاور زلمی کی ٹیم نے چیف منسٹر کی دعوت مسترد کی ہے۔ اس کی صرف ری شیڈول ہونے کی اطلاعات ہیں اور اس طرح یہ قصہ تمام ہوگیا۔ وہ جو ہم نے ایک بڑے آدمی سے ہم خیالی کا خواب دیکھا تھا وہ بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ ہم پھٹیچر کے پھٹیچر ہی رہے یعنی اذکا ر رفتہ' کاہل اور سست آخر میں اب اپنے دوست برق کی شگفتہ تحریر کا ایک دلچسپ حصہ پیش خدمت ہے جس سے ہم صد فیصد متفق ہیں۔ وہ لکھتے ہیں فرض کیجئے ہم کرکٹ کی ایک ایسی ٹیم تیار کردیتے ہیں جو آئندہ سالوں میں پوری دنیا کی ٹیموں کو پچھاڑ دے بلکہ کلین واش کرکے رکھ دے' ہر کھلاڑی کسی نہ کسی قسم کا مین بن جائے اور بین الاقوامی رینکنگ میں ہم سب سے اوپر چلے جائیں تو کیا لوڈشیڈنگ کم ہو جائے گی' مہنگائی اپنی پرواز بند کردے گی' بے روز گاری میں ایک انچ کی کمی آجائے گی' آئی ایم ایف اپنے ایک سال کا سود معاف کردے گا' عالمی بینک خوش ہوکر ہمیں قرض حسنہ دینے لگے گا۔ ہر فرد پر ایک لاکھ بیس ہزار کا قرضہ کم ہو جائے گا ۔ موروثی جمہوریت اصلی جمہوریت میں بدل جائے گی۔ اس لئے ہم مشورہ دیتے کہ وہ لوگ جن کا نام پی سی بی ہے ہمارے سپرد کردئیے جائیں کہ ہم ان سے کسی کھیت میں گوڈی کرائیں تو کم از کم پانچ من گیہوں تو ہاتھ آجائے گی۔ خیر یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی رنج ہمیں اس بات کاہے کہ ہمارا بڑا بننے کا خواب چکنا چور ہوگیا اور ہم واللہ پھٹیچر کے پھٹیچر ہی رہے۔

اداریہ