کیا2018 کے انتخابات سے کوئی تبدیلی آئے گی

کیا2018 کے انتخابات سے کوئی تبدیلی آئے گی

وطن عزیز میں تمام سیاسی پا رٹیاں 2018 کے الیکشن کی تیاریوں کے لیے ابھی سے سر گرم عمل ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں اور خصوصاً خیبر پختون خوا تمام سیاسی پا رٹیوں کا محور ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) ، جماعت اسلامی،جمعیت العلمائے اسلام (ف)، اے این پی اور دوسری سیاسی پا رٹیاں صوبے کے مختلف مقامات پر جلسے اور اجتماعات کر رہی ہیں۔ان میں سب سے زیادہ سر گرم عمل پاکستان مسلم لیگ(ن) کے خیبر پختونخوا کے سر براہ امیر مقام ہیں۔وہ اس کو شش میں ہیں کہ دوسری سیاسی پا رٹیوں سے کارکنان اور رہنمائوں کو توڑ کر مسلم لیگ میں شامل کیا جائے۔اس سلسلے میں وہ تحریک انصاف کے نا راض سیاسی لیڈروں قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور کارکنوں کے ساتھ رابطے کر رہے ہیںاسی طرح جماعت اسلامی بھی خیبر پختون خوا میں مشتاق احمد خان کی قیادت میں زیادہ سرگرم اور فعال نظر آرہی ہے۔جہاں تک اے این پی کا تعلق ہے تو اسکے قائدین زیادہ سرگرم نہیں۔صوابی سے جمہوری محاذ پا رٹی کے سربراہ بابر سلیم بھی زیادہ فعال نظر آرہے ہیں۔ تحریک انصاف کے نئے اور پرانے کارکنوں اور لیڈران اور قائدین میں کسی حد تک چپقلش کی ایک فضا ہے۔ جہاں تک جے یو آئی (ف)کا تعلق ہے تو اسکے پاس کوئی خا ص ایشو نہیں جسکو سامنے لاکر عوام کو اپنی طرف راغب کیاجا سکے۔ پاکستان پیپلز پا رٹی میں بھی خاموشی ہے۔ سندھ اور پنجاب کے چند شہروں میں بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پا رٹی کے ورکروں کا خون گرمانے کے لئے جلسے کیے مگر کوئی خا ص فرق نہیں پڑا۔پا رٹی کے قائدین کے رویئے سے تو ایسا لگتا ہے جیسا کہ پی پی پی کی مرکزی اور صوبائی قیادت میں کمیو نیکشن گیپ ہے۔ میرے خیال میں وفاقی اور مر کزی سطح پر قیادت کے پاس کوئی ایسا پروگرام نہیں جسکو وہ عوام کے سامنے لائیں۔ خیبر پختون خوا کی تا ریخ رہی ہے کہ اس صوبے میں عوام شخصیات کو ووٹ نہیں دیتے جو ما ضی کے عام انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہے۔خیبر پختون خوا کے عوام دوسرے صوبوں کے ووٹروں کی نسبت زیادہ شعور اور ذہنی بلو غت رکھتے ہیں۔اس صوبے کے عوام نے ہمیشہ تبدیلی کے لئے ووٹ دیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں اُن پارٹیوں نے تبدیلی کا ایجنڈا پو را نہیں کیا ۔ مگر عوام ہمیشہ تبدیلی کے لئے ووٹ دیتے رہے۔ جبکہ اسکے بر عکس پنجاب ، سندھ اور بلو چستا ن میں ووٹروں کا ٹرینڈ کچھ اور ہے۔پنجاب میں ہمیشہ بڑی بڑی سیاسی پا رٹیاں بڑے بڑے سیاسی قائدین ، وڈیروں اور خوانین کو ساتھ ملاتے ہیں ۔ 2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے پاکستان مسلم لیگ(ق) اور پاکستان پیپلز پا رٹی کے146 امیدواروں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ دیئے ۔جس میں مشرف کابینہ کے کئی اہم وزرا زاہد حامد، طارق عظیم ، امیر مقام اور دیگر ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران بھی شامل تھے۔اگر ہم آنے والے 2018 ء کے عام انتخابات کا تجزیہ کریںتو ان انتخابات میں بھی وہی لوگ بر سر اقتدار ہوں گے جو پاکستان بننے کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔اگر ہم 1970کے بعد کے 9الیکشن کا تجزیہ کریں تو30 اور35 کے قریب خاندا ن پاکستان کے 20 کروڑ عوام پرحکمرانی کرتے رہے۔پاکستان بننے کے بعد اب تک ان خاندانوں کی حکومتیں پاکستان کے غریب عوام پر آتی رہیں۔ اور یہ لوگ اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔پاکستان کی تقریباً95 فی صد پا رٹیوں میں پا رٹی کے اندرانتخابات نہیں ہوتے اور اگر ہو بھی جاتے ہیں توانتخابات میں وہی روایتی پا رٹیوں کے بانی خاندان سے لوگ پا رٹی کے سر براہ بنتے ہیں۔ صرف جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے جس میں پا رٹی سر براہ خفیہ بیلٹ کے ذریعے مقرر کیا جاتا ہے۔ اس پا رٹی میں کوئی خاندانی وارث سر براہ نہیں ہوتا۔تحریک انصاف میں عوام جو ق در جوق اسلئے شامل ہو ئے تھے کیونکہ اُنکا خیال تھا کہ اس پا رٹی میں روایتی اور خاندانی سیاست دان اور پا رٹی سر براہ نہیں ہونگے مگر عمران خان نے بھی دیگر روایتی سیاسی پا رٹیوںکی طرح Electableیعنی سیٹ جیتنے والے سیاست دانوں کو پا رٹی میں شامل کیا جسکی وجہ سے اس پا رٹی کے نوجوانوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ عمران خان کو اپنی پا رٹی میںنو جوان Non-Electable قیادت پر یقین نہیں ۔لہٰذا عمران خان بھی روایتی سیاست دانوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ پاکستان میں ان حقائق کی روشنی میں انتخابات کرانا درست نہیں لگتا کیونکہ یہاں پر بار بار وہی وڈیرے اورچودھری الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں آتی۔میں جماعت اسلامی کے سراج الحق، عمران خان اور طاہر القا دری کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ جب تک انتخابات سے پہلے شق 62 اور 63 پر عمل نہیں ہوگا تو عام انتخابات کرانے کا کوئی فا ئدہ نہیں۔ اور ہمارے ملک میں بے روز گاری، مہنگائی، غُربت ، تعلیم، صحت کے مسائل کبھی بھی حل نہیں ہونگے۔ اور سیاست دان ہمارے نام پر بین لاقوامی ایجنسیوں سے قرضے لیتے رہیں گے۔

اداریہ