Daily Mashriq


سسٹم میں فرد کی اہمیت

سسٹم میں فرد کی اہمیت

انسانی معاشرے کی بہتری کے لیے ہمیشہ سے سوچا جاتا رہا ہے کہ اسے خوب سے خوب تر کیسے بنایا جاسکتا ہے ۔جرائم کی شرح جتنی کم ہوگی معاشرہ اتنا ہی پر امن کہلائے گا۔ اسی طرح بدعنوانی، رشوت ستانی، ذخیرہ اندوزی، اشیائے خوردنی میں ملاوٹ اور دوسری بہت سی برائیاں آج ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ جتنے حکیم ہیں اتنے ہی علاج ہیں کسی کا کہنا ہے۔ ہمارے یہاں سسٹم موجود نہیں ہے اگر نظام درست ہوتا سزا اورجزاپرصحیح معنوں میں عمل کیا جاتا تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی کوئی یہ کہتا ہے کہ جناب نظام تو موجود ہے قوانین بھی موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کروایا جارہا اس لیے مسئلہ سسٹم کا نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کا ہے جو اس سسٹم کو کامیاب بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔بہت کم لوگ ایسے ہیں جو دیانت دار ہیں اور اپنے فرائض کو کماحقہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ! ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ سسٹم کی اپنی افادیت ہے یہ سسٹم ہی ہے جس کے تحت سارے امور انجام دیے جاتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ نظام کو چلانے والے لوگ اگر دیانت دار ہیں محب وطن ہیں انہیں اپنے فرائض کا احسا س ہے تو پھر سسٹم نتائج دینے لگتا ہے معاشرے کی مجموعی حالت میں بہتری نظر آنے لگتی ہے لیکن اگر صورتحال اس کے برعکس ہے تو پھر سارا سسٹم مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے بہت سے اداروں میں دیکھا گیا ہے کہ ایک ایماندار آفیسر نے پورے محکمے کی کایا بدل کر رکھ دی سارا نظام درست ہوگیا اور پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسی ادارے میں جب کوئی بے ایمان آفیسر تعینات ہوا تو اس نے ادارے کا بیڑاغرق کردیا یہ سب کچھ اسی لیے ہوتا ہے کہ شخصیت کی اہمیت ہوتی ہے ایک ہی نظام کے تحت کام کرنے والے لوگ مختلف نتائج دیتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا کردار ہوتا ہے۔ ان کا احساس ذمہ داری ہوتا ہے جو صاحب کردار اور باضمیر ہوتے ہیں ان کے نزدیک اپنے فرائض کی انجام دہی سب سے اہم ہوتی ہے ویسے یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ کسی بھی ادارے میں تمام لوگ اچھے کارکن نہیں ہوتے اچھے برے ساتھ ساتھ چلتے ہیں جہاں محنت کرنے والے اصحاب ہوتے ہیں وہاں کام سے جی چرانے والے احباب بھی ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم تعلیمی ادارے کی مثال دے سکتے ہیں کسی بھی تعلیمی ادارے میں سب سے اہم کام درس وتدریس ہوتا ہے تعلیمی ادارے میں تین قسم کے استاد ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے بنیادی کام یعنی کلاس لینے سے بھی جی چراتے ہیں باقاعدگی سے کلاسیں نہیں لیتے۔ دوسری قسم ان اساتذہ کرام کی ہے جو باقاعدگی سے اپنی کلاسیں لیتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ تعلیمی سیشن کے دوران طلبہ کو مکمل نصاب پڑھائیں کوئی چیز رہ نہ جائے ایسے اساتذہ کرام کا شمار اچھے اساتذہ میں ہوتا ہے طلبہ ان کا احترام بھی کرتے ہیں لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے علاوہ بھی بہت سی ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیںجو یقینا بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں تیسری قسم ان اساتذہ کرام کی ہوتی ہے جو درس و تدریس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ حصہ لیتے ہیں یہی وہ اساتذہ کرام ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ادارے کی مجموعی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور اسے نیک نامی حاصل ہوتی ہے۔ گورنمنٹ کالج پشاور میں پروفیسر خالد سہیل ملک اس حوالے سے اچھی مثال قائم کیے ہوئے ہیں یہ شعبہ اردو کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور اس کے علاوہ کالج میں قائم کی گئی کیریکٹر بلڈنگ سوسائٹی کے ڈائریکٹر بھی ہیں اور اب تک کالج میں سوسائٹی کی زیر نگرانی بہت سی کامیاب تقاریب کروا چکے ہیں جن میں تقریری مقابلے، معلومات عامہ کے مقابلے وغیرہ شامل ہیں ۔ گورنمنٹ کالج کے مشہور میگزین گندھارا کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔ طلبہ کے ہاسٹل کے انچارج بھی ہیں جسے بطور احسن چلا رہے ہیں اس کے علاوہ کلاس فور ملازمین کے بھی انچارج ہیں ! گورنمنٹ کالج ہی کی دوسری مثال کالج کے وائس پرنسپل طاہر شاہ ہیں جنھوں نے چند دن پہلے ہمیں کالج کے تمام شعبوں کی سیر کروائی کالج کی لائبریری زبان حال سے پکار رہی تھی کہ اب میں بہترین لائبریرین کے زیر انتظام ہوں۔ اسی طرح زوالوجی اور باٹنی کی لیبارٹریز دیکھ کر دل خوش ہوا یقینا پروفیسر صاحبان تحسین کے لائق ہیں جن کی زیر نگرانی تحقیق کا کام ہورہا ہے۔طاہر شاہ صاحب نے ہمیں کالج کے باغیچوں میں بہت سے ایسے پودے دکھائے جنہیں بیماری لگی ہوئی تھی لیکن ان کا پرسان حال کوئی نہیں تھا۔ اب انہوں نے مالیوںکو ان کی ذمہ داری کا احساس دلا کر اس کام پر لگادیا ہے ۔ گورنمنٹ کالج میں بی ایس کی عمارت تعمیر کے مراحل سے گزر رہی ہے پرنسپل اور وائس پرنسپل کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے تعمیر کا کام بھی شاندار انداز میں ہورہا ہے۔یہ سب کچھ دیکھ کر دل میں یہی خیال آیا کہ سسٹم میں فرد کی اہمیت بہت زیادہ ہے اگر سسٹم کو چلانے والے افراد دیانت دار ہیں انہیں اپنے فرائض کا احساس ہے باضمیر ہیں وطن سے محبت کاجذبہ رکھتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ادارے بہتر انداز میں کام نہ کریں ! سسٹم کو اچھے انداز سے چلانے کے لیے آسمان سے فرشتے تو نازل نہیں ہوا کرتے ! یہ ہمارا پیارا وطن ہے ہمارے اپنے ادارے ہیں ہم سب نے مل جل کر انہیں بہتر بنانا ہے وطن عزیز خالق کائنات کا بہت بڑا انعام ہے اس نعمت خداداد کا جتنا شکر بھی ادا کیا جائے کم ہے! 

متعلقہ خبریں