چیئرمین سینیٹ کے انتخاب تک

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب تک

سینیٹ انتخابات میں اُمیدواروں کے درمیان مقابلے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے وہ اتنا اہم نہیں اس سے زیادہ اہم امر یہ ہے کہ ان انتخابات کی تیاری کے دوران جو کچھ ہوا وہ ملکی سیاست کا وہ چہرہ ہے جس پر چیچک کے لگے داغ واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ میں اس کا دلچسپ انداز میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ جدید ریاضیانہ سائنس کی چمتکاری جمع، تفریق، ضرب، تقسیم کا تازہ کمال سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ انقلابِ ریاضی سب سے کمزور صوبے بلوچستان کی تجربہ گاہ میں برپا کیا گیا یعنی پینسٹھ ارکان کی صوبائی اسمبلی کو جنوری میں تین وزراء کے استعفوں سے ضرب دے کر اکتالیس ارکان حاصل کئے گئے اور پھر ان اکتالیس میں سے ایک ایسا عدد وزیراعلیٰ بنایا گیا جو بذات خود اپنے حلقے کے ستاون ہزار چھ سو چھیاسٹھ رجسٹرڈ ووٹوں میں سے صرف چھ سو بہتر ووٹ حاصل کر کے اسمبلی کا رکن بنا اور پھر اس عدد کو کنگ میکر کا تاج پہنا دیا گیا۔ اس کے بعد پینسٹھ رکنی اسمبلی کی بالٹی میں مدھانی چلا کر دس آزاد سینیٹرز مکھن کی طرح نکال کے انہیں وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے ڈلیوری بکس میں جما دیا گیا۔ سینیٹ کے انتخابات میں اس قدر ایڑی چوٹی کا زور لگانا بے سبب نہیں شاید اس کی سب سے بڑی وجہ کچھ پیش بندی اور کچھ پیش آ مدہ معاملات کی تطہیر کی عجلت واضح ہے ۔ سبکدوش ہونے والے چیئر مین سینیٹ رضا ربانی کے دور میں سینیٹ کی فعالیت اور کارکردگی کسی سے پوشید ہ نہیں۔ سینیٹ کے پچھلے چھ سال اور بالخصوص آخری تین سالوں کے کردار کا اثر واضح طور پر سامنے آیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان تین برسوں میں سینیٹ ہی وہ واحد ادارہ تھا جس نے حکومت کے سامنے ایک موثر حزب اختلاف کا کردار ادا کیا اور کئی اہم قوانین بنائے۔2015 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کی سربراہی میں ایوان بالا نے مسلم لیگی حکومت کے سامنے چیک اینڈ بیلنس فراہم کرنے کا وہ کردار ادا کیا ہے جو ایوان زیریں میں نظر نہیں آیا تھا۔ 2015ء کے بعد سے سینیٹ میں سب سے اہم تبدیلی ادارے میں شفافیت اور خود احتسابی ہے۔ علاوہ ازیں سینیٹ کیلئے سینیٹ کے اجلاس میں شرکت اور ساتھ ساتھ حکومتی افسران اور وزرا کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے نئے قوانین وضع کئے گئے لیکن سینیٹ کا سب سے اہم کردار حکومت کی جانب سے کی گئی قانون سازی پر بحث، ان میں اصطلاح اور خود نئی قانون سازی کرنا تھا۔ سال2013 میں انسداد ریپ کا بل پیش کیا گیا تھا جوکہ سینیٹ سے منظوری کے باوجود قومی اسمبلی میں رکا ہوا تھا۔ اکتوبر2016 میں اس بل کو پاس کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ کاروکاری کیخلاف قانون2014 میں بنایا گیا تھا۔ یہ بل بھی التوا میں تھا جسے اکتوبر2016 میں منظور کیا گیا لیکن دوسری جانب پشاور کے آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد اسمبلی میں پیش کی گئی 21ویں ترمیم کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن رضا ربانی نے کہا کہ انہیں اس ترمیم کی بدولت فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دینے کیلئے ووٹ کرنے پر نہایت شرمندگی ہے۔ سال2017 میں سینیٹ نے معلومات تک رسائی یا رائٹ ٹو انفارمیشن بل کو بھی اگست میں منظور کر کے قانونی حیثیت دی۔ مئی میں یہ بل قومی اسمبلی سے سینیٹ گیا تھا لیکن سول سوسائٹی نے اس پر کافی خدشات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد بل میں ترمیم کر کے اسے سینیٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں یہ بل منظور ہوا۔ اس کے علاوہ اکتوبر2017 میں سینیٹ سے الیکشن ایکٹ2017 بھی ترامیم کے بعد منظور ہوا جس کے بارے میں مذہبی جماعتوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اس میں ختم نبوتؐ کے منافی قانون سازی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ2017 وہی بل ہے جس کے تحت پاکستان مسلم لیگ ن نے یہ ترمیم شامل کی تھی کہ نااہل قرار دیا گیا رکن قومی اسمبلی کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے لیکن فروری2018 میں سپریم کورٹ نے اس قانون سازی کو معطل قرار دیدیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے کے انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں اور دیگر عناصر کا جو کردار ورویہ رہا، کیا اس طرح سے ملک میں جمہوریت پروان چڑھ سکے گی اور ملک میں سیاسی کلچر کو فروغ مل سکے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک اس ملک میں اکثریت واقلیت کا فیصلہ میرٹ پر کرنے اور سیاسی اداروں میں اکثریت کے حصول کیلئے کج روی کے مظاہر کا خاتمہ نہ ہوگا تب تک ملک میں اندرونی اور معاشرتی استحکام اور دنیا میں پاکستان کو باوقار ممالک کی صف میں سر اونچا کرکے کھڑے ہونے کا موقع مشکل سے ہی حاصل ہوگا۔ ملکی جمہوری اداروں اور حکومتی اجزاء میں ربط ومفاہمت کے بغیر نہ تو حکومت، نہ ریاست، نہ ہی جمہوری اداروں اور نہ ہی جز ہائے حکومت کا استحکام اور وقار ملحوظ خاطر رہ سکتا ہے۔ ملکی معاملات ایک دوسرے سے فطری طور پر جڑے ہوتے ہیں کسی ایک جزو میں خرابی‘ کمی وکجی بھی بگاڑ کا سبب بننا فطری امر ہوگا جس کا ادراک اور اصلاح کئے بغیر ملکی تعمیر وترقی کا بیڑا کبھی بھی پار نہیں لگ سکتا۔

اداریہ