Daily Mashriq


پورے تالاب کو گندہ کرنے والی مچھلی

پورے تالاب کو گندہ کرنے والی مچھلی

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف پر جوتا پھینکنے کی اور وزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے سے، پہلے سے انحطاط کا شکار سیاسی فضا مزید مکدر ہوگئی ہے۔ ملک میں عدم برداشت اور عدم رواداری کا بڑھتا ہوا رجحان قابل تشویش امر ہے۔ ان واقعات سے آزردہ خاطر صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ یہ رویہ ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا جس کے مضر اثرات سے انفرادی اور اجتماعی طور پر کوئی بچ نہ سکے گا اور دہشتگردی کیخلاف قوم کی کامیابیاں بھی ناکامی میں بدل سکتی ہیں۔ وطن عزیز میں عدم برداشت کا جو رجحان شدت پکڑ رہا ہے قوم، خاص طور پر نوجوانوں کو اس کی تباہ کاری سے خبردار نہ کیا گیا اور اس کی روک تھام کیلئے حکومت پاکستان کیساتھ معاشرے کے تمام طبقات نے مکمل یکسوئی سے تعاون نہ کیا تو اس کے نتائج نہایت خوفناک ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ملکی سیاست میں تشدد‘ ناشائستگی اور عدم برداشت کا رجحان نہیں بلکہ معاشرے میں پھیلی ہوئی اس شدت پسندی کا ایک نیا چہرہ ہے جس کا ہم گزشتہ کئی سالوں سے شکار چلے آرہے ہیں اور اس وقت بھی گوکہ بظاہر صورتحال پُرسکون اور حالات قابو میں دکھائی دیتے ہیں لیکن کبھی بھی اور کسی بھی وقت کہیں بھی کسی آتش فشاں کے پھٹنے کے امکان کو یکسر طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال اس امر کا علمائے کرام کی جانب سے اعتراف نہایت پریشان کن امر ہے کہ انہیں اپنے طلباء اور علماء کو نظم میں رکھنے اور کنٹرول کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے جو ازخود اس امر کا اعتراف ہے کہ یہاں سرایت کر جانیوالی شدت پسندی کسی نہ کسی شکل میں اب تک موجود ہے اور تمام تر کوششوں کے باوجود اذہان میں تبدیلی کی مساعی ابھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔ خود علماء کے بقول یہ صورتحال بالکل ویسی ہی ہے جب طالبان تحریک شروع ہوئی تو دیوبندی مدارس کے طلباء بھی اپنے مدارس کے قابو میں نہیں رہے تھے۔ ہمارے تئیں اگر بدتمیزی کا یہ مظاہرہ کسی سیاسی جماعت کے جوشیلے کارکن کی جانب سے کیا جاتا تو اس کی شدت اس قدر محسوس نہ ہوتی ایک ممتاز دینی ادارے کے طلباء کی طرف سے نیم اجتماعی طور پر اس قسم کے واقعے میں ملوث ہونے کے بعد مدارس کے طلبہ کے پرتشدد ہونے اور مدارس پر شدت پسندی کا جو پرانا الزام دہرایا جائے گا یہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ امر ہوگا جس کا گزشتہ روز مسلم لیگ کی قیادت کو سامنا کرنا پڑا۔ قبل ازیں بھی اس طرح کے واقعات کی مثالیں ڈھونڈنا مشکل نہیں جس صورتحال کا گزشتہ روز کے واقعے کے بعد ہمیں سامنا ہے۔ اس میں اولاً دینی مدارس کے طلبہ کے حوالے سے اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ ان مدارس کے طلبہ کو نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اکرام مسلم پر مبنی جو تعلیمات پڑھائی جاتی ہیں وہ کردار وعمل کے برعکس دکھائی دیں۔ بہرحال ایک نیم اجتماعی عمل کو پورے مدارس کے طلبہ کے کردار پر محمول کرنا تو قرین انصاف نہ ہوگا لیکن شدت پسندی کا جو داغ دھل کر مدہم پڑ چکا تھا اس سے مٹتے اثرات مٹنے کی بجائے کچھ مزید عرصے کیلئے پھر سے اُبھر کر سامنے ضرور آگئے ہیں۔ اس صورتحال پر علمائے کرام کو زیادہ سنجیدگی کیساتھ غور کرنے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ معاشرہ ان کو وارثان انبیاء علیہم السلام اور معاشرے کے ایسے زندہ وجاوید کرداروں کے طور پر دیکھتی ہے جس سے دوسرے رہنمائی لیتے ہیں۔ فطری امر یہ ہے کہ کپڑا جتنا سفید اور چمکدار ہوگا اس پر لگنے والا دھبہ بھی اتنا ہی نمایاں نظر آئے گا۔ اس واقعے سے مدارس کے حوالے سے مخیر حضرات اور عام لوگوں کا بہرحال تاثر متاثر ہونے کا اندیشہ ہے جس کا علمائے کرام اور دینی مدارس کے طلبہ کو اپنے قول وفعل اور کردار وعمل سے ازالہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

خیبر پختونخوا میں احتساب

قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا کا فاٹا سیکرٹیریٹ سمیت مختلف محکموں میں بدعنوانی اوراختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کی منظوری سے اس تاثر میں کمی آئے گی کہ خیبر پختونخوا میں نیب کی کارکردگی قابل ذکر نہیں جبکہ دوسرے صوبوں میں اس کی فعالیت کی وجہ انسداد بدعنوانی کے بجائے کچھ اور ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب کے ادارے مستقلاً اپنا کام کرکے ہی ساکھ بنا سکتے ہیں اور یہ ملکی وقومی ضرورت کا تقاضا بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی وحال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ خیبر پختونخوا میں بدعنوانیاں نہ ہوئی ہوں، خاص طور پر پیشرو حکومت پر موجودہ حکمران طرح طرح کے بدعنوانی کے الزامات لگاتے نہیں تھکتے جبکہ جوابی طور پر ان کے دامن پر بھی داغدار ہونے کے الزامات آتے ہیں۔ بہرحال الزامات تو الزامات ہوتے ہیں جن کی حقیقت جاننے کا واحد طریقہ تحقیقات ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت بھی شفافیت کی علمبردار اور داعی ہے اس طرح کی فضا میں نیب سے تعاون بلکہ بدعنوانیوں کے ثبوت کے حصول میں آسانی ہونی چاہئے اور اس سازگار فضا کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے صوبے میں احتساب کا تیز رفتار عمل نظر آنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں