’’جوتا پہن کر آنا منع ہے‘‘

’’جوتا پہن کر آنا منع ہے‘‘

امکان ہے کہ تین بار وزارت عظمیٰ کے مزے لوٹنے کے بعد نااہل قرار پائے جانے کے بعد دل میں چوتھی بار وزارت عظمیٰ کی ہوس پالنے والے میاں نواز شریف مجھے کیوں نکالا کی بجائے مجھے جوتا کیوں مارا کہنا شروع کر دیں گے۔ مگر ہم ان سے عرض کریں گے کہ وہ ایسا ہرگز نہ کریں بلکہ ہر جلسے میں آنے والوں کیلئے جوتا پہن کر آنا منع ہے کا اعلان کروا دیں اور سیکورٹی والوں کو کہہ دیں کہ وہ تلاشی لینے سے پہلے یہ ضرور دیکھیں کہ جلسہ گاہ میں کوئی جوتا پہنے تو داخل نہیں ہو رہا۔ یہی مشورہ ہم عمران خان کو بھی دیں گے کہ وہ بھی اپنے ماضی اور عہدحاضر میں جوتا پھینک سیاہ ست کا شکار ہوئے۔ سیاست کو سیاہ ست لکھتے وقت ہمیں خواجہ آصف پر پھینکی جانیوالی وہ سیاہی یاد آگئی جو نفرت کا شکار ہونیوالوں کا منہ کالا کرنے کی غرض سے پھینکی جاتی رہی ہے۔ ماضی میں ایسی حرکت پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک قانون دان خورشید نے احمد رضا قصوری کے چہرے پر سیاہی کا اسپرے کرکے کی تھی۔ اس کے بعد خورشید کا نام سننے اور پڑھنے کو نہ ملا‘ اللہ جانے ان کو سیاہی پھینکنے کی کتنی اور کیا قیمت چکانی پڑی ہوگی۔ حال ہی میں ایسی حرکت خواجہ آصف پر سیاہی پھینک کر کی گئی۔ ویسے جوتے اور سیاہی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے، جس کا فوری انکشاف روزنامہ مشرق کے کارٹونسٹ سلیمان خان نے عین اس روز کیا جب اخبار میں نواز شریف کو جوتا مار دیا گیا کی ہیڈلائن شائع ہوئی تھی۔ اس کارٹون سے واضح ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو جوتوں کیلئے پالش میسر نہیں ہوتی وہ سیاہی سے کام چلا لیتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ جوتوں کی پالش اور سیاہی دونوں ایک ہیں۔ کیا معلوم کہ کون کب کسی کے چہرے کو جوتا سمجھ کر اس پر سیاہی کی بجائے پالش کا استعمال شروع کر دے۔ ہمارے اس تجزئیے سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہی ہے کہ بعض لوگوں کے چہرے جوتوں جیسے ہوتے ہیں یا ان کو جوتوں جیسا سمجھ کر ان پر سیاہی پھینک دی جاتی ہے۔ جب یہ بات صحیح ہے تو پھر ہمیں یہ بات نہیں کرنی چاہئے کہ فلاں شخص یا شخصیت کو جوتا مار دیا گیا بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ فلاں کے جوتے پر جوتا پھینک دیا گیا۔ جوتے بنتے ہیں پاؤں میں پہننے کیلئے، اسلئے انہیں پیزار بھی کہا جاتا ہے، جوتوں کی دکانوں پر بہت سی ورائٹیوں کے جوتے ملتے ہیں لیکن ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی دکھائی اور سنائی دیتی ہیں۔ ہر روز عید نیست کہ سویاں خورد کسے کے مصداق مجھ جیسے بہت سے لوگوں کو سال بھر میں ایک دفعہ جوتے خریدنے کی ہمت ہوتی ہے جو زندگی بھر کا ساتھ نبھانے کی قسم پوری کرتے کرتے بہت جلد پورے ہو جاتے ہیں اور ہم نے ایسے بھی ناعاقبت اندیش لوگ دیکھے ہیں جن کو جوتا خریدنے کا موقع نہیں ملتا تو وہ اپنی بدقسمت گھر والی کو پاؤں کی جوتی سمجھنے لگتے ہیں، پاؤں کی جوتی سے یاد آیا کہ بڑی منتیں مرادیں مان کر بڑے حیلے بہانے کرکے اور لاکھوں روپوں کی فضول خرچی کر کے وہ دلہن بنا کر لاتے ہیں کسی کی بہن بیٹی کو یہ مردوے، اور پھر وہ اس سے نسان چشمی کا ایسا سلوک روا رکھنے لگتے جسے دیکھ کر طوطے بھی شرما جائیں۔ میرے ایک ایسے ہی جاننے والے نے جب اپنی شادی کا کارڈ بھیجا تو اس کے آخر میں ’ ج س م ف‘ پر مبنی چار حروف لکھے ملے۔ اپنے ایک جاننے والے سے اس کا مطلب پوچھا تو وہ ’ج س م ف‘ کی شرح کرتے ہوئے بتانے لگے کہ ’ج س م ف‘ کا مطلب ہے جوتوں سے مرمت فرماویں۔ ہم ایسا ہی کریں گے ہم نے دل ہی دل میں سوچا لیکن بھلا ہو اس دانشمند کا جس نے ہمیں ان الفاظ کے اصلی معانی بتاتے ہوئے کہہ دیا کہ ان حروف کا مطلب ہے ’’جواب سے مطلع فرماویں‘‘۔ شادی بیاہ کے موقع پر کس کو فرصت ہوتی ہے جواب سے مطلع فرمانے کی، سو ہم نے جوتوں کا ہار بنا کر اسے پہنانے کی بجائے موقع اور دستور کے مطابق رسم دنیا نبھانے کی غرض سے نوٹوں بھرا سلمے ستارے کا ہار خریدا اور حضرت کی شادی خانہ آبادی کی تقریب میں جاپہنچے، اگر ہمیں علم ہوتا کہ وہ بنت حوا کو پاؤں کی جوتی سمجھ کر بیاہ لایا ہے تو ہم اسے جوتوں اور کھوسڑوں کے ہار کے قابل بھی نہ سمجھتے۔
جوتے سے حضرت سعدی کا ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک دفعہ حضرت سعدی شیرازی مسجد میں نماز پڑھنے گئے۔ مسجد سے باہر نکلنے لگے تو ان کا جوتا، جوتی چور لے جا چکا تھا، سعدی شیرازی نے اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوکر کہا، یا اللہ میں تیری عبادت کر رہا تھا اور اس کا صلہ یہ ملا کہ کوئی جوتی چور میرا جوتا لے اُڑا، ابھی وہ یہ بات پوری بھی کر نہ پائے تھے کہ انہوں نے دیکھا اللہ کے ایک بندے کے پاؤں ہی نہیں کہ وہ جوتا پہن سکتا، سعدی شیرازی نے یہ منظر دیکھتے ہی کانوں کو ہاتھ لگائے اور اپنے الفاظ واپس لیکر گڑگڑا کر رب جل شانہُ سے معافی مانگنے لگے۔ پاؤں کی جوتیوں کے سر پر پڑنے کے محاورے کی صداقت پر ہم شک کرتے رہتے اگر میاں نواز شریف کی شرافت ضرب نعلین کا شکار نہ ہوتی، ان کو جوتا کیا پڑنا تھا کہ اس کی گونج دور دور تک پوری دنیا میں سنی گئی جس کے ردعمل میں امریکہ میں مقیم پروفیسر ناصر علی سید نے ہمیں واٹس ایپ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’آج جوتا لینے گیا تو دکاندار نے شناختی کارڈ اور موبائل نمبر مانگا، کوئی بتا سکتا ہے کیا مسئلہ ہوا ہے، ہم نے ان کو ایک ہاتھ لو اور دوسرے ہاتھ دو کے مصداق جو جواب عرض کیا وہ اتنا سا تھا کہ ’’اب تو روشنائی کو بھی سیاہی سمجھا جانے لگا ہے‘‘ اُمید ہے وہ ہمارا آج کا کالم پڑھ کر اپنے سوال کا مفصل جواب پا چکے ہونگے۔

اداریہ