Daily Mashriq


جوتا اور سیاہی پھینکنے کی سیاست

جوتا اور سیاہی پھینکنے کی سیاست

تاریخی طور پر شاید یہ بتلانا مشکل ہو کہ سیاست میں جوتا اور سیاہی پھینکنے کی ابتداء کہاں‘ کس پر اور کب ہوئی لیکن اتنی بات البتہ معلوم ہے کہ کسی کو جوتا دکھانا یا کسی پر جوتا پھینکنا بہرحال اس شخص کی تذلیل یا اس سے نفرت کے اظہار کیلئے کیا جاتا ہے۔ سیاہی ایک مقدس چیز ہے کیونکہ اس کے ایک قطرے کی اہمیت اور تقدس (جب یہ حق کیلئے استعمال ہو) حدیث شریف میں آئی ہے۔ لہٰذا کسی صورت اس کو تذلیل اور نفرت کے اظہار کیلئے کسی پر پھینک کر استعمال کرنا یقیناً اس کے مقام سے ناواقفیت ہے۔ جہاں تک جوتے کا تعلق ہے تو عام جوتا تاریخ میں اظہار بیزاری ونفرت کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے اور کسی کو جوتے کی نوک پر رکھنا بھی اسی تسلسل میں استعمال ہوتا ہے۔ماضی قریب میں امریکی صدر جارج بش پر عراق میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 14دسمبر2008ء کو عراقی صحافی منتظر الزیدی نے اپنے دونوں جوتے پھینکے تھے جس سے بہت پھرتی کیساتھ بش نے نیچے جھک کر اپنے آپ کو بچا لیا تھا۔ اسی طرح اوبامہ پر ایک تقریب میں جوتا پھینکا گیا تھا بلکہ دو تین بار ایسا ہوا تھا‘ ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی اوہائیو میں ایک ریلی کے دوران باقاعدہ حملہ ہوا تھا۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پر انڈیا کے یوم آزادی کی تقریب میں ایک آدمی نے پیچھے سے جوتا لہرا کر دکھایا تو اس نے اپنی تقریر میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس سے بہتر احتجاج کا کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا۔دنیا میں اور بھی بہت سارے مقامات میں کئی شخصیات کیساتھ اس طرح کا سلوک ہوا ہوگا۔ لوگوں نے کسی کے بارے میں ناپسندیدگی‘ بیزاری یا ناراضگی کے اظہار کیلئے جوتا پھینکنے کے علاوہ اور بھی کئی طریقے آزمائے ہیں۔ جلسے جلوسوں میں لوگ مخالفین پر انڈے اور ٹماٹر بھی پھینکتے رہے ہیں۔ عظیم مزاح نگار پطرس بخاری نے ’’مریدپور کا پیر‘‘ میں بھی بہت خوبصورتی کیساتھ عوام کے جذبات کے اظہار اور لیڈروں سے ناپسندیدگی کیلئے گندے ٹماٹر کے پھینکنے کا منظر بیان کیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں گریٹ ذوالفقار علی بھٹو کے ایک جلسے میں ایک آدمی نے اپنا جوتا دکھایا تھا‘ لیکن انہوں نے کمال خوبصورتی سے ٹالا تھا اور بہت کم لوگوں کو اصل بات کا پتہ چلا تھا۔ کسی پر جوتا‘ سیاہی‘ انڈے اور ٹماٹر پھینکنا یقیناً احتجاج کے طور پر ہوتا ہے اور اپنے لیڈروں یا مخالف اور استعماری سامراجوں سے نفرت کے اظہار کیلئے ہوتا ہے اور اس قسم کی چیزیں جمہوری نظام کا لازمی حصہ کہلاتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جہاں ایک طرف حکمرانوں‘ لیڈروں اور راہنماؤں سے اس قسم کے حرکات‘ بیزاری اور ناپسندیدگی کے مظہر ہوتے ہیں وہاں معاشرے میں رونما ہونیوالی تہذیبی تبدیلیوں کی بھی عکاس ہوتے ہیں۔پاکستان میں گزشتہ تین چار عشروں سے سیاست میں عدم برداشت اور تنگ نظری اور سیاست کو دشمنیوں میں تبدیل ہونے کا جو عنصر شامل ہوا ہے اس نے بہت تیزی کیساتھ معاشرے کو تقسیم در تقسیم سے دوچار کیا ہے۔ ہم جہاں علاقائی‘ لسانی اور صوبائی اور مذہبی فرقہ واریت کی دلدل میں پھنسے ہیں وہاں ہر سیاسی جماعت کے ورکروں کو اپنے لیڈر اور رہنماء کے سوا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا حالانکہ سیاست کا مطلب اور تقاضا اور جمہوریت کی پہچان یہ ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھا جائے کیونکہ پارلیمنٹ میں مختلف نظریات کی حامل جماعتوں نے مل کر کام کرنا ہوتا ہے اور ملک وقوم سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری سیاست اور اس کی زبان واقدار میں ایک دوسرے کیلئے طعن وتشنیع اور برے برے القابات‘ استہزاء اور تضحیک کی ایسی رسم چلی ہے کہ پورے معاشرے پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ علماء اور سیاستدانوں کو مل کر اس کا تدارک کرنا ہوگا ورنہ اس کے اثرات ومابعد نتائج سماجی ومعاشرتی بندھنوں کے بخئے ادھیڑ رکھنے میں کوئی کسر اُٹھائے نہیں رکھیں گے۔نواز شریف اور خواجہ آصف کیساتھ پیش آمدہ تازہ واقعات پر اگرچہ سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے مذمتی بیانات جاری کئے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قسم کی چیزوں کی روک تھام کیلئے اپنے جلسوں میں بھی عوام کا جم غفیر دیکھ کر اپنی زبانوں پر بھی قابو رکھیں اور دل سے سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا شروع کریں۔نواز شریف اور خواجہ آصف کے دونوں واقعات میں جو افراد ملوث پائے گئے ہیں ان کے حلیوں سے پتہ چلتا ہے کہ شاید ان کو مذہبی جذبات اور نظریات نے زیادہ مشتعل کیا تھا اور سیاسی عنصر اس میں نہیں تھا۔ لہٰذا علماء کرام کو اپنے پیروکاروں کو اس قسم کے جذباتی ردعمل سے روکنا ہوگا ورنہ اس قسم کے واقعات بڑے نقصانات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اللہ پاکستان کو محفوظ رکھے۔

متعلقہ خبریں