Daily Mashriq


مسلح افواج اور عدلیہ کیخلاف منفی پروپیگنڈہ

مسلح افواج اور عدلیہ کیخلاف منفی پروپیگنڈہ

کل کچھ عناصر مسلح افواج اور عدلیہ کیخلاف شرانگیز پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں کچھ جرنیل اور عدلیہ کے کچھ ججز حضرات اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں ناکام رہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر دور کے جنرنیل یا ججز حضرات اپنی پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے میں ناکام رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مطلق العنان پرویز مشرف ایک متنازعہ سپہ سالار تھے۔ انہوں نے نہ صرف پاکستانیوں کی بلکہ مسلح افواج کا مورال ڈاؤن کرنے کی بھی کوشش کی۔ جس کا ذکر محترم نے اپنی کتاب In the line of fire میں بھی کیا ہے۔ موصوف کہتے ہیں کہ جب امریکہ کی طرف سے مجھے افغانستان پر ساتھ دینے کا کہا گیا۔ اگر میں امریکہ کا افغانستان کے چڑھائی کیلئے ساتھ نہ دیتا تو امریکہ پاکستان کو پتھر اور دھات والے دور میں لے جاتا۔ اگر اس بیان کا تجزیہ کیا جائے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مشرف ایک کمزور اور بزدل انسان تھے ۔ جب سے جنرل راحیل اور جنرل قمر باجوہ نے مسلح افواج کی باگ ڈور سنبھالی ہے تو ان کی قیادت میں مسلح افواج ملک سے دہشتگردی ختم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ میں اکثر وبیشتر دیکھتا ہوں کہ کچھ نام نہاد لبرل، کچھ قوم پرست سیاسی پارٹیاں، کچھ این جی اوز کے اہلکاروں نے مسلح افواج اور عدلیہ کو بلاجواز ہدف بنایا ہوا ہے مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جس وقت پی پی پی کیخلاف سپریم کورٹ سے کوئی فیصلہ آتا ہے تو نواز شریف اعلیٰ عدلیہ کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور عدلیہ کی مدد کیلئے سینہ سپر ہوتے ہیں۔ سپریم کو رٹ نے جب گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کیخلاف فیصلہ دیا تو نواز شریف نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میںدونوں اگر اپنے عہدوں سے سبکدوش نہیں ہوئے تو ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔ مگر جب نواز شریف کیخلاف عدلیہ کا فیصلہ آیا تو اب ان کی نظروں میں عدلیہ بھی نااہل اور فوج بھی نااہل۔ نواز شریف نے اعلان کیا کہ عوام کو انصاف دلانے کیلئے مہم چلاؤں گا۔ جب نواز شریف تین دفعہ وزیراعظم اور ایک دفعہ پنجاب کے وزیراعلیٰ اور ان کے بھائی تین دفعہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے اور ایک دفعہ دوتہائی اکثریت بھی حاصل کی تو انہوں نے فوج اور عدلیہ کا نظام کیوں ٹھیک نہیں کیا کیونکہ قانون سازی کا کام تو نواز شریف کے ہاتھ میں تھا۔ جہاں تک قوم پرست سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے تو ان لیڈروں کو اب پختونوں، سندھیوں اور بلوچیوں کے حقوق یاد آئے ہیں میں ان قوم پرست سیاسی رہنماؤں سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے اپنے ادوار اقتدار میں پسے ہوئے سندھیوں، بلوچوں، قبائیلیوں اور پختونوں کی ترقی کیلئے کیوں کام نہیں کیا کیونکہ ہر دور میں قوم پرست سیاسی پارٹیاں اے این پی، بُگٹی، مگسی، اچکزئی اور سندھ میں پی پی پی اور ایم کیوایم حکومت میں رہی۔ پختونوں کو، سندھیوں کو اور بلوچوں کو ان کے قوم پرست راہنماء اس بات پر ورغلاتے اور اکساتے ہیں کہ پنجاب نے سارا پاکستان کھا لیا مگر مجھے یہی قوم پرست راہنماء بتائیں کہ پنجاب کی حالت کونسی اچھی ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، پنڈی کو چھوڑ کر اندرون پنجاب چلے جائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ لوگ تو ہم سے بھی100سال پیچھے ہیں۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو اس ملک اور پاکستان کے 21کروڑ عوام کو پاکستان کے تقریباً 6 سے 7 ہزار تک اشرافیہ نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ وہ ہمیں آپس میں الجھا کر اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں اور پاکستان کے غریب بھوکے پیاسے عوام ان کیلئے لڑتے اور مرتے ہیں۔ ان سیاستدانوں کی کرپشن اور بدعنوانی اربوں اور کھربوں میں ہوتی ہے۔ یو این ڈی پی ما رچ 2017ء کے رپورٹ کے مطابق پاکستان انسانی ترقی کی فہرست میں 147ویں نمبر پر ہے جو 2000ء کے رینک سے 12درجے مزید نیچے چلا گیا ہے۔ پاکستان فی کس آمدنی میں کینیا، میانمر، کمبوڈیا، گانا، زیمبیا سے کم ہے حالانکہ یہی ممالک دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ دنیا میں پاکستان شیرخوار بچوں کی شرح اموات میں سب سے آگے ہے۔ جہاں تک شرح خواندگی کا تعلق تو پاکستان 160ممالک کی فہرست میں 144ویں نمبر پر ہے۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو تو اب جنوبی کوریا، جاپان اور چین کی سطح پر ہونا چاہئے۔ کیا پاکستان کی اس تباہی اور بربادی میں فوجی آمروںکیساتھ ساتھ سیاستدانوں کا ہاتھ نہیں؟ کسی کو اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی قوم کا مذاق اڑائے اور یہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس ملک کیلئے پختونوں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تیس سالوں سے خیبر پختونخوا میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ میں مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر کسی علاقے میں مسلح افواج کی طرف سے امتیازی سلوک کی شکایت ہو تو اس قسم کے معاملات کو ہنگامی بنیادوں پر حل کریں کیونکہ شرپسند عناصر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نسلی اور لسانی امتیازی صورتحال کی فضا پیدا کر کے امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اس وقت پاک آرمی امریکہ اور بھارت کے مذموم اور ناپاک اداروں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور امریکہ، بھارت اور افغانستان کے کچھ پاکستان دشمن حکمران ہماری آرمی کو اپنے لوگوں کے ہاتھوں کمزور کر کے وطن عزیز میں لیبیا، شام، عراق والے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں