Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام مالک ؒ اور امام ابن سیرین ؒ کا زمانہ ایک ہے ۔ امام مالک ؒ جلیل القدر فقہی اما م ہیں ۔ مدینہ منورہ کی محبت آپ کے رگ ویشے میں سمائی ہوئی تھی ۔ اس کی وجہ سے مدینہ منورہ سے باہر نہیں جاتے تھے ۔ نفلی حج کرنے کی شدید خواہش کے باوجو د نفلی حج بھی نہیں کرتے تھے ۔ ایک رات امام مالک ؒ نے خواب میںرسول اللہ ؐ کی زیارت کی ۔ دیکھا کہ رسول اقدس ؐ کا دربار ہے اور اس میں امام مالک ؒ بھی حاضر ہیں ۔ انہوں نے آپ ؐ سے بڑی لجاجت کے ساتھ عرض کیا کہ حضورؐ ! میراجی چاہتا ہے کہ مدینہ کی زمین مجھے قبول کرلے اور اسی لیے میں ڈر کے مارے نفلی حج بھی ادا نہیں کرتا ۔ ( کہ مکہ میں میرا انتقال نہ ہوجائے ) تو مجھے یہ بتلا دیا جائے کہ میری عمر کتنی باقی ہے ، اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میری عمر کے کتنے سال باقی ہیں تو میں نفلی حج ادا کر لیا کروں؟۔

جواب میں رسالت مآب ؐ نے اپنا دست مبارک انگلیاں کھول کر ان کے سامنے کردیا ۔ اس کے بعد ان کی آنکھ کھل گئی ۔ اب امام مالک ؒ حیران کہ پانچ دن مراد ہیں ، پانچ ہفتے یا پانچ مہینے یا پانچ سال مراد ہیں ؟ اس لیے امام مالک ؒ نے تعبیر کے لیے ایک شخص کو امام ابن سیرین ؒ کے پاس بھیجا اور اس کو تاکید کی کہ یہ مت بتانا کہ یہ خواب میں نے دیکھا ہے، اس شخص نے امام ابن سیرین ؒ سے پورا خواب بیان کیا ۔ امام سیرین ؒ نے خواب سن کر پوچھا ۔یہ خواب کس نے دیکھا ہے ؟ عام آدمی یہ خواب نہیں دیکھ سکتا ۔ یہ خواب کسی بڑے عالم نے دیکھا ہے ؟ اور مدینہ میں اس وقت امام مالک ؒ سے بڑا کوئی عالم نہیں ہے ۔ اس شخص نے کہا کہ مجھے نام بتانے کی اجازت نہیں ہے ۔ امام ابن سیرین ؒ نے فرمایا : واپس جائو ۔ اجاز ت لے کر آئو ۔ نام بتائو ۔ تب میں تعبیر بتلائوں گا ۔ وہ شخص واپس آگیا ۔ امام مالک ؒ سے نام بتانے کی اجازت لی اور آکر امام ابن سیرین ؒ کو نام بتایا تو انہوں نے فرمایا : امام مالک ؒ ہی یہ خواب دیکھ سکتے ہیں ۔ پھر تعبیر بتاتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے اپنی عمر پوچھی تھی ۔ اس کے جواب میں رسول اقدس ؐ نے پانچ انگلیاں دکھا دیں ۔ اس سے نہ پانچ برس مراد ہیں ، نہ پانچ مہینے اور نہ پانچ ہفتے یا د ن ، بلکہ آپ ؐ نے ایک حدیث اور قرآن کی ایک آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ حدیث کا مضمون تو یہ ہے کہ ’’کسی کی موت کا وقت ان پانچ چیزوں میں سے ہے ، جن کا علم خدا کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ہے ۔ ‘‘اور قرآن کریم کی آیت کا ترجمہ ہے ـ:’’خدا ہی کے پاس ہے قیامت کا علم کہ کب آئے گی اور بارش کی اصلیت و حقیقت ( کہ کہاں برسے گی وغیرہ ) اور ماں کے رحموں میں کیا ہے ؟ اور کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کل کیا کام کرے گا ؟ اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس زمین میں مرے گا ( دفن کیا جائے گا)؟‘‘۔امام مالک ؒ کو یہ علمی تعبیر دی گئی اور چونکہ اس تعبیر کا تعلق علم سے ہے ۔ اس لیے آپ ؐ یہ جواب کسی عالم ہی کو دے سکتے تھے ۔

(خطبات حکیم الاسلام حضرت قاری طیب ؒ ج ،1، صحفہ 67)

متعلقہ خبریں