Daily Mashriq

سڑکوں پر خواتین کے حقوق کی ریلیاں

سڑکوں پر خواتین کے حقوق کی ریلیاں

اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی تعلیمات نے حضرت عیسیٰؑ کے دور کے چھ سو برس بعد انسانیت کو واضح الفاظ میں بتا دیا کہ مرد اور عورت دونوں انسان کی حیثیت سے برابر ہیں اور بشری حقوق میں ایک کو دوسرے پر کوئی فوقیت نہیں۔ اس کے علاوہ بشری حقوق بالخصوص عورت ذات کے حوالے سے یہودیت، مسیحیت اور ہندومت میں جو بے بنیاد اور غیرانسانی تصورات وخیالات رائج تھے اُن کی اصلاح کر کے عملی طور پر دکھایا کہ عورت ذات ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے بہت عظمت رکھتی ہے لیکن وقت گزرنے کیساتھ مسلمانوں اور دیگر معاشروں میں اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد اس حد تک کمزور ہوگیا کہ مرد عورت دونوں اپنے اپنے حقوق کی بازیافت کیلئے مختلف لائحۂ عمل بنا کر کوشش میں لگے رہے کہ حقوق کے نام پر زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے پر تفوق الطلب حاصل کیا جاسکے چونکہ جسمانی اور بعض دیگر کوائف وقویٰ کے لحاظ سے مرد مضبوط تھا لہٰذا تاریخ انسانی میں مردوں کو عورتوں پر غلبہ ہی حاصل رہا اور یہ سلسلہ اب بھی اس کے باوجود جاری ہے کہ بیسویں اور بالخصوص اکیسویں صدی میں مغرب نے عورت کو زندگی کے اکثر شعبوں میں مرد کے شانہ بشانہ لاکھڑا تو کیا لیکن بنیادی حقوق بالخصوص عزت واحترام اور عصمت ونسوانیت سے عورت ذات کو ایسا محروم کیا کہ اُسے اپنے مادی حقوق کی حفاظت کیلئے مختلف تنظیمیں بنا کر ایوانوں میں اور سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہونا پڑا۔

مغرب میں حقوق کے نام پر عورت جیسی شریف، کمزور اور بے بس مخلوق کیساتھ جو کھیل کھیلا گیا اُس میں وہ ایسی ہاری کہ چادر اور چاردیواری ہارنے کے علاوہ گھر کی دہلیز بھی بھول گئی۔ گھر سے نکل کر عورت بازاروں، ایوانوں، دفاتر اورمختلف شعبۂ ہائے زندگی میں مجبوراً ایسی داخل ہوئی کہ بظاہر وہ اپنے حق کیلئے جدوجہد کرتی نظر آتی ہے لیکن اس کیساتھ ہی وہ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھی۔مغرب کے کسی دانشور اور فلاسفر نے اُنہیں آزادی اور حقوق کے نام پر کیا خوبصورت اور دلکش نعرہ دیا کہ ’’میرا جسم میری مرضی، کیونکہ میں آزاد ہوں‘‘۔

کاش وہ اس نعرے اور اس قبیل کے دیگر نعروں کے معانی کی گہرائی میں پہنچ پاتیں۔ اس قسم کے نعروں کے ذریعے عورت کو گھر کے چراغ کے بجائے چوراہوں، چوکوں اور شاہراہوں اور سڑکوں کی مشعل اور قمقمے بنا کر رکھ دیا۔ عورت کو ایک دفعہ عہدجاہلیت کی طرح قابل فروخت چیز بنا کر پیش کیا گیا لیکن وہ یہی سمجھتی رہی کہ میں آزاد ہوں لہٰذا اپنا آپ اگر بیچنا چاہوں تو کسی کو اس میں دخل درمعقولات کے مانند سمجھا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے مغرب میں دیگر بہت سارے ایام منانے کی روایت کے پیش نظر ایک دن خواتین کے حقوق کیلئے بھی مختص کیا گیا اور پاکستان میں بھی خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑنے کے مصداق یہ دن زور وشور سے منایا گیا۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی وغیرہ کی سڑکوں پر خواتین نے پلے کارڈز پر جو نعرے درج کروائے تھے اور ریلی میں جس قسم کی خواتین جس انداز میں شامل ہوکر دیگر بہت معیوب اور اسلامی تہذیب وثقافت سے متصادم آوازیں بلند کررہی تھیں، اُس کے پیچھے یقیناً خواتین کے حقوق کے علاوہ کچھ درپردہ اور خفیہ مقاصد ضرور ہوسکتے ہیں۔

کاش ان پلے کارڈز پر یہ نعرے بھی درج ہوتے ’’مجھے تعلیم دلاؤ کہ یہ میرا بنیادی حق ہے‘‘۔

’’بہترین مسلمان وہ ہوتا ہے جو عورتوں کیساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے‘‘۔

’’گھر کے کاموں میں عورتوں کا ہاتھ بٹانا حضور اکرمؐ کی سنت مبارکہ ہے‘‘۔

’’مسلمان مردوں! عورتوں کو آتے دیکھ کر اپنی نگاہیں نیچی رکھو‘‘۔

’’باعزت اور اسلامی اقدار کی حفاظت میں روزگار عورت کا حق ہے‘‘۔

’’بیٹیوں کو اچھی پرورش اور تعلیم وتربیت دینے والا جنت میں حضوراکرمؐ کا ساتھی ہوگا‘‘۔

’’بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں‘‘۔

’’ہم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے قوم کی عزت ہے‘‘۔

’’جنت ماں کے قدموں تلے ہے‘‘۔

’’مردوں اور ریاست کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم شوکیسوں میں رکھے کھلونے یا مارکیٹ میں بکنے والی دل لبھانے والی کوئی چیز یا ٹی وی چینلز پر چلنے والا اشتہار نہیں بلکہ ایک قابل عزت جیتی جاگتی حقیقت ہیں‘‘۔

ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا

مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں

متعلقہ خبریں