Daily Mashriq


سمت درست کرنے کی ضرورت

سمت درست کرنے کی ضرورت

وزیر اعظم نواز شریف بھارت سے بیک ڈور ڈپلومیسی کھیل رہے ہیں لیکن پیار کی پینگیں بڑھانے کے باوجود بھارت ایل او سی پر جارحیت کا ارتکاب کر کے معصوم شہریوں کو شہید و زخمی اور املاک کی تباہی کرنے سے باز نہیں آتا۔ آخر یہ کیسی ڈپلو میسی ہے کہ بھارت کو سرحدوں کے احترام کا مطلب نہیں سمجھا سکتا ستم بالائے ستم یہ کہ حکمرانوں نے گویا مقبوضہ کشمیر کو فوج کا مسئلہ سمجھ رکھا ہے۔ کیا بھارتی جارحیت پر حکومتی خاموشی اس کا ثبوت نہیں ۔ پاک فوج کے سربراہ کا ایل او سی کا دورہ کرنا پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے اور یقینا ہے۔ ملک کا دفاع اور جارح کو مسکت جواب بھی فوج ہی کا کام ہے لیکن کیا مسند اقتدار پر برا جمان عناصر وزیراعظم وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کی ذمہ داری نہیں کہ وہ بھی سرحدی صورتحال بارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں ۔ موجودہ سویلین حکومت کے مقابلے میں سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف حکومت میں کشمیر کے مسئلے کے حل پر خاصی سنجید ہ پیشرفت سامنے آئی تھی۔ یہاں تک کہ معاہدے کی دستاویز کی تیاری کے مرحلے پر آکر معاملہ عقابوں کی نذر ہوگیا۔ بھارتی حکومت ہندوانتہا پسند وں کے دبائو میں نہ آتی تو شاید مقبوضہ کشمیر کے تنازعے کا اونٹ کسی طور بیٹھ ہی چکا ہوتا یا کم از کم اتنی مفاہمت ہو جاتی کہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے طریقہ کار پر سنجید گی سے تو غور کیا جاتا اور سرحدوں کے دونوں جانب کشمیر یوں کی مشکلات میں کمی آتی۔ وزیراعظم نواز شریف کی کشمیر کے مسئلے کے حل میں دلچسپی سے یکسر انکار نہیں لیکن ان کی اس پالیسی کی بھی حمایت نہیں کی جا سکتی کہ بھارت خواہ کچھ بھی کرے اس پر سکوت طاری رہے یہاں تک کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کا نام لینے کیلئے شرطیں لگ جا ئیں اور وزیر اعظم اس کے باوجود بھی ان کا نام لبوں پر لانے سے احتراز برتیں۔ شاید حکمرانوں کا یہی رویہ ان کے حوالے سے شکوک وشبہات کا باعث بن رہا ہے وگرنہ اپنے ملک کے حکمرانوں کو دشمن ملک کو رعایتیں دینے کا الزام بھی لبوں پر لانا غداری کے زمرے میں متصور ہوتا ہے ۔ بھارتی کاروباری شخص کی پاکستان آمد پر بھی چہ مگوئیاں ہوتی رہیں جس پر بالا خر تامل کے بعد ملک کی سول قیادت نے اعلیٰ عسکری قیادت کو وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے گہرے دوست سجن جندال کے درمیان گزشتہ دنوں ہونے والی ملاقات کو پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کے مابین بیک چینل ڈپلومیسی قرار دیتے ہوئے اعتماد میں لے لیا۔اس پر مزید شکوک وشبہات کا اظہار موزوں نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر آخر کیوں دفترخارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ دفتر خارجہ اس ملاقات کے حوالے سے لاعلم تھا؟خیال رہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور سجن جندال کے درمیان ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی تھی جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے سلسلے کے بعد خاصے کشیدہ تھے۔اس ملاقات کو بعض مبصرین نے دونوں ممالک کے وزراء اعظم کی مستقبل میں ملاقات کے لیے حالات کو سازگار بنانے کی ممکنہ کوشش قرار دیا تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کا حل ہو یا کوئی اور مسئلہ وسیع تر قومی اتحاد اور یکسوئی کے ساتھ پالیسی مرتب کر کے اس پر پوری طرح عمل پیرا ہونے سے ہی معاملات حل ہو ں گے خاص طور پر کشمیر کا تنازعہ مزید یکجہتی کا معاملہ اس لئے ہے کہ یہاں آکر دشمن سے واسطہ پڑتا ہے۔ ایک ایسے دشمن سے جس کی دشمنی ظاہری بھی ہے اور پوشیدہ بھی ۔کلبھوشن کے معاملے پر حکومت کا موقف ریاست کا موقف ضرور ہے لیکن کیا وزیراعظم بیس کروڑ عوام کے نمائندے نہیں جو اس بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں ۔کیا پاک فوج قوم کی فوج نہیں جس کی قیادت کو بعد ازاں اعتماد میں لیا جاتا ہے اور ہندو تاجر سے پہلے ملاقات کی جاتی ہے ۔ اس کے باوجودہمارے وزیر داخلہ کو شکایت رہتی ہے کہ سول ملٹری تعلقات کو تماشا بنا دیا جاتا ہے۔ اس کا تماشہ کون بنا تا ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے جو معاملات دبائو پڑنے پر طے ہوتے ہیں اگر وہی معاملات پہلے سے مشاورت کے بعد ہوتے تو نہ شور اٹھتا اور نہ دھوا ں دکھائی دیتا ۔ ہماری صفوں میں اس وقت بھی اتحاد کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جب بھارت اپنے جاسوس کی متوقع پھانسی پر کلبلا رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مظالم کی بد تر ین سطح پر عبور کرلی ہے ۔ پاکستان خدا کے فضل وکرم سے ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے پاکستان کے عوام اپنے وطن کیلئے کٹ مرنے کو تیار بیٹھے ہیں اگر ان کو مخلص قیادت میسر آئے اور حکمران نیم دلانہ پالیسی اختیار کرنے کی بجائے دوٹوک اور واضح پالیسی اختیار کریں تو بھارت سے معاملات طے ہونے سمیت ملک کے دیگر مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔کوئی وجہ نہیں کہ پاکستانی قیادت سنجیدہ اور ٹھوس سمت چلنے کا مصمم ارادہ کرے اور اس پر عمل پیراہو اور سمت پھر بھی درست نہ ہو ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ ہماری قیادت کو اس کا بہت جلد احساس ہوگا اور قوم اس کے مثبت کردار کا ایک طویل عرصے سے جس انتظار میں ہے اس کا خاتمہ ہوگا ۔

متعلقہ خبریں