قدرتی آفات سے نمٹنے کی بروقت تیاری

قدرتی آفات سے نمٹنے کی بروقت تیاری

قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے قائم وفاقی ادارہ این ڈی ایم اے او ر صوبائی ادارہ پی ٹی ایم اے کے پشاور میں منعقدہ اجلاس میں مون سون کی بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کا عندیہ بارش سے پہلے چھت کا انتظام کرنے کے مترادف ضرور ہے وقت آنے پر ہی دیکھنا ہوگا کہ متعلقہ اداروں کی تیاریوں کا عالم کیسا تھا ۔ عام مشاہدے اور تجربے کی بات ہے کہ حکومتی مساعی پر نظر دوڑائیں تو سطحی' وقتی اور آخری موقع پر ہڑبونگ کی حالت میں اقدامات کوفت کا باعث ہوتے رہے ہیں۔ حکومتی اداروں کی متوقع سیلاب اور بارشوں سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کے دعوئو ں کے باوجود نتیجہ صفر ہوتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قدرتی صورتحال میں انسانی مداخلت پر جب تک توجہ نہیں دی جائے گی خالی خولی تیاریوں سے کچھ نہ ہوگا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ موسم کی شدت اور قدرتی حالات نقصان کا باعث ضرور بنتے ہیں لیکن عین وقت پر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے اقدامات کی بجائے اگر منصوبہ بندی کے ساتھ مساعی کی جائیں تو ان کی روک تھام انسانی بس کی حد تک ممکن ہے۔ سیلاب کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی'سوختنی لکڑی اور برائے سوختن ایسے پستہ قد خود رو جھاڑیوں اور پودوں کی بیخ کنی ہے جو زمین کو تھامے ہوئے رکھنے کاباعث ہوتے ہیں۔ ان کو جڑوں سمیت اکھاڑنے چھوٹے بڑے درختوں کی کٹائی اور خاص طور پر جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور عمارتی لکڑیوں کی نقل و حمل کے باعث زمین کے کٹائو اور شدید بارشوں کے سامنے زمین کے سینے کا ننگا پن سامنے آتا ہے جس پر بارش کا پہلا قطرہ پڑتے ہی سیلاب کی صورت اختیار کر جاتا ہے ۔ جنگلات کی بڑے پیمانے پر تباہی میں ملوث عناصر اور ٹمبر مافیا کی سرگرمیاں بروقت روکی جائیں تو شاید وہ انسانی المیہ رونما نہ ہوتا جس سے ہم اس وقت دو چار ہیں۔ پشاور میں آبی گزرگاہوں کی اراضی با اثر افراد نے قبضہ کر کے ملی بھگت سے فروخت نہ کی ہوتی اس کا بروقت نوٹس لیا جاتاتو سیلابی ریلے بے قابو جن کی طرح نہ ہوتے ۔اگر ہم نے قدرتی آفات سے بچنا ہے تو قدرتی ماحول کو اپنے ہاتھوں تباہ کرنے سے توبہ کرنا ہوگا ۔ قدرتی ماحول کا تحفظ اس صورت میں ممکن ہے جب اس حوالے سے حکومت اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں وگرنہ فطرت سے اغماز برتنے کی سزاکا سدباب اجلاسوں سے ممکن نہ ہوگا ۔
ترقی نسواں کے علمبر دار کہاں ہیں
خادمائوں کے طور پر گھروں میں کام کرنے والی بچیوں سے بد سلوکی کے بڑھتے واقعات جہاں معاشرتی انحطاط اور بچوں سے مشقت لینے کی ممانعت بارے قوانین کی دھجیاں اڑانے کا باعث بن رہے ہیں وہاں مروجہ نظام میں اس سنگین مسئلے کے حل میں ناکامی تو درکنار اس پر توجہ ہی نظر نہ آنا افسوسناک ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ گھرو ں میں کام کرنے والی معصوم بچیوں ،بچوں اور خواتین کی کوئی انجمن اور تنظیم نہیں اور کسی پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر ان کو اپنے مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھانے کے بھی مواقع میسرنہیں اگر وہ اس حد تک موثر اور باشعور ہوجائیں تو پھر ان کو شاید گھروں میں کام کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے ۔ان حالات کے باعث اب بمشکل ہی خواتین کسی کے گھر میں ملازمت اختیار کرتی ہیں ۔اگر دیکھاجائے تو معاشرتی تبدیلی اور روز بروز حرمت نسواں کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کے باعث اب گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں ملنا مشکل ہوگیا ہے آئے روز جس قسم کے حالات سے واسطہ پڑتا ہے ان حالات میں تو نا ممکن ہی نظر آتا ہے کہ چند سال بعد کسی کو خادم میسر آئے ۔ معاشرتی و معاشی تبدیلی کے باعث بھی ایسا ہونا فطری امر ہوگا کیونکہ اب خواتین کو نسبتاً بہتر معاوضوں پر ملازمت کے دیگر مواقع میسر آنے لگے ہیں ۔تعلیم کی شرح میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ روایات بھی بدلنے لگی ہیں ۔ان حالات میں کم ہی عورتیں کسی کی ذاتی ملازمت اختیار کریں گی ۔بدلتے حالات ہی نہیں اب مہنگائی اور دیگر حالات کے باعث خادمائوں کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب لوگ اپنے کام خودکرنے پر توجہ دینے لگے ہیں ۔اس کے باوجود جو خواتین کسی وجہ سے اس پیشے سے منسلک ہیں ان کے تحفظ مالی منفعت 'علاج معالجہ اور دیگر مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کی اس لئے ضرورت ہے کہ یہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ محکمہ سماجی بہبود اور بہبود نسواں کی وزارتوں کو ان خواتین کے روزگار کے تحفظ اور روزگار کو ایک ایسے دائرہ کار میں لانے کی ضرورت ہے کہ ان کے استحصال کی روک تھام کی جاسکے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ ترقی نسواں اور بہبود نسواں کے دعویداروں کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر کی روک تھام کے ذمہ داروں کو جلد احساس ہوگا اور وہ اس ظلم وزیادتی کی روک تھام کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اور ان کو فرض سمجھ کر نبھائیں گے ۔

اداریہ