ڈان لیکس، کچھ سخت مقام ابھی باقی ہیں

ڈان لیکس، کچھ سخت مقام ابھی باقی ہیں

ڈان لیکس کا معاملہ کئی ماہ تک ملکی سیاست کو گرمائے رکھنے کے بعد آخر کار بہت مہارت کے ساتھ لپیٹ دیا گیا ۔اس کشمکش میں ایک مقام ایسا بھی آیا جب فوج اور سویلین حکومت کے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے رہنے کا تاثر ملنے لگا تھا ۔یوں لگ رہا تھا کہ جو فریق پلک جھپکائے گا وہی پچھتائے گا ۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی فریق نے پلک تو نہیں جھپکائی مگر آخر کار ایک فریق کو وقتی طور پر ہی سہی مونچھ نیچی کرکے اس کشیدہ صورت حال کو ٹالنا پڑا۔ڈان لیکس کی حقیقت یہ تھی کہ ملک کے پالیسی ساز اداروں کے ایک اہم اور بند کمرہ اجلاس کی افشاء کی جانی والی کارروائی کا ایسا حصہ خبر کی صورت بریک کیا گیا تھا جس میں ملک کی سویلین قیادت اپنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عالمی اسٹیبلشمنٹ کا موقف اپناتی اور اس کی تائید کرتی نظر آرہی تھی ۔ یہ سویلین قوتوں کی طرف سے عالمی اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے پناہ لینے اور ان کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش تھی ۔پاکستان میں مدتوں سے جاری سول ملٹری کشمکش میں یہ کوئی نیا واقعہ نہیںتھا۔ فوج کی طرف سے اس خبر کو پاکستان میںسول ملٹری کشمکش کا تاثر اُبھرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے متعلق ملک کے مجموعی بیانئے کونقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا گیا ۔یہ کہانی ملک کے سب بڑے انگریزی اخبار میں شائع ہوئی تھی ۔خبر شائع ہونے کے بعد دونوں فریقوں نے اجلاس میں ایسی کسی تلخی سے انکار کیا مگر بعد میں اس خبر کوقومی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا ۔ریاستی اداروں نے صحافی کو جالیا ۔صحافی نے خبر کی صداقت پر اصرار جا ری رکھا تو پھر ''سورس '' کی تلاش شروع ہوگئی ۔

جب یہ معاملہ طول پکڑتا چلا گیا تو حکومت نے اس کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کی ۔کمیٹی نے خبر کے ''سورس '' کی تلاش شروع کردی ۔خبر دینے والے صحافی کو اس رسہ کشی میں ملک چھوڑنا پڑااس سے پہلے وہ کچھ ریکارڈ تفتیشی اداروں اور کمیٹی کو فراہم کر چکاتھا۔اس کمیٹی کی رپورٹ سے بہت پہلے ہی وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اپنے عہدے سے مستعفی ہوچکے تھے۔رپورٹ پیش ہونے کے بعد خارجہ امور پر وزیر اعظم کے مشیر طارق فاطمی کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا اور وزیر اعظم کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جانے لگی۔اس دوران وزیر اعظم ہائوس سے کمیٹی کی رپورٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کی خبر سامنے آئی تو آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے وہ مشہور زمانہ ٹویٹ جاری کیا جو ڈان لیکس سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ۔میجرجنرل آصف غفور نے اس نوٹیفیکشن کو نامکمل قراردے کر مسترد کر دیا ۔جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس ٹویٹ کو جمہوریت کے لئے زہر قاتل قرار دیا اور یوں سول ملٹری کشمکش تیز ہوتی دکھائی دی ۔ چوہدری نثار کو طویل عرصے سے مسلم لیگ ن اور فوج کے مابین ایک پل کی حیثیت حاصل ہے ۔جب بھی فوج اور حکومت کے درمیان کشیدگی اُبھرتی ہے چوہدری نثار کی جی ایچ کیو آمد ورفت بڑھ جاتی ہے اور پھر تعلقات کی منجمد برف پگھلنا شروع ہو جاتی ہے ۔ڈان لیکس کے قضیے میں آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کا موڑ آیا تو چوہدری نثار حکومت کے ساتھ کھڑے ہوئے اورپہلی بار سول اور ملٹری کے درمیان یہ معلق پل کشیدگی کی ہوائوں میں ڈولتا دکھائی دیا اور شاید اب چوہدری نثار کی وہ حیثیت دوبارہ پرانے انداز سے بحال نہ ہو۔
اس حوالے سے یہ خبر بہت دلچسپ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی گئی ہے جس میں ڈی جی خان میں بند ایک ایسی ایف آئی آر کو کھولنے کی استدعا کی گئی جس میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نوازشریف ، وزیر اعلیٰ شہباز شریف ،وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو نامزد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان افراد نے ایک پاکستانی شہری ایمل کانسی کو ایک ٹیلی فون کال پرامریکہ کے حوالے کیا تھا ۔اس رٹ میں کچھ ہو یا نہ ہومگر اس میں فوجی گھرانے سے تعلق رکھنے والے چوہدری نثار خان کے لئے ایک پیغام ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کی اس طرح کی ہر کشمکش کا انجام جمہوریت کی بساط لپٹنے کی صورت میں ہی برآمد ہوتا رہا ہے ۔سول حلقوں نے آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کو سویلین نظام کی اتھارٹی کو اعلانیہ چیلنج کرنے کی کوشش قرار دیا اور دبے لفظوں میں میجر جنرل آصف غفور کے استعفے کی باتیں ہونے لگیں۔اس ٹویٹ سے عسکری ادارے کسی حد تک دفاعی پوزیشن میں چلے گئے اور ڈان لیکس کے سورس سے ساری توجہ ٹویٹ کی طرف مڑ گئی اور شاید یہی فوج کے لئے کمزور لمحہ تھا۔جس کے بعد سے یہ بات یقینی تھی کہ اس مسئلے کو افہام وتفہیم یا چوہدری شجاعت حسین کی زبان میں ''مٹی پائو'' کے فارمولے کے تحت حل کیا جا سکتا ہے ۔ملک موجودہ حالات میں سیاسی نظام کی بساط لپیٹنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔یوں بھی جنرل مشرف کی فوجی حکومت نے عوامی سطح پرمارشل لاء کا رومانس ختم کردیا ہے ۔اس میں ملک کی سیاسی قیادت کی صلاحیت کا کوئی کوئی کمال نہیں بلکہ اس کا کریڈٹ جنرل پرویز مشرف کو جاتا ہے ۔اس فوجی حکومت نے جو کانٹے بوئے تھے آج تک پاکستان وہی فصل کاٹ رہا ہے۔ڈان لیکس کا معاملہ حل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اب چہار سو سب اچھا ہے ۔ابھی سول ملٹری تعلقات کی راہ میں ڈان لیکس سمیت کئی اور دوچار سخت مقام آنا باقی ہیں۔دوسرے معاملات کو چھوڑیںابھی ڈان لیکس کا جن نظریہ ضرورت کی بوتل میں تو ہوگیا ہے مگر یہ جن بوتل سے پھر باہر نکلنے کی کوشش کرتا رہے گا۔ میاں نوازشریف کے دوسرے دور اقتدار میں کرگل جنگ کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی میں ایک مقام ایسا بھی آیا تھا جب حکومت نے بری فوج کے سربراہ کے سر پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی دوسری ٹوپی سجا کر بحران کو بظاہر ختم کر دیا تھا مگر چنددن بعد ہی بارہ اکتوبر کا واقعہ رونما ہوگیا تھا۔

اداریہ