ہیپاٹائٹس ، طوطی اورخرپ

ہیپاٹائٹس ، طوطی اورخرپ

یہ بات آج تک ہمارے علم میں نہیں آئی کہ کسی حجام کے اُسترے سے کسی کو ہیپاٹائٹس کی بیماری لاحق ہوئی ہو ۔ ملک کی 60فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں 40فیصد لوگ یہی گندا پانی استعمال کرنے سے موت کا شکار ہو تے ہیں ۔ رہی سہی کسر جعلی ادویات شہروںبستیوںمیں صفائی کا ناقص انتظام سے پوری ہو جاتی ہے۔ ان مسائل پر توجہ دینے کی بجائے نزلہ بے چارے حجاموں پر گرادیا گیا ۔ شنید ہے پنجاب میں اُن کی رجسٹریشن کے لئے ایک منصوبہ زیر غور ہے ۔ پنجاب کی حکومت اس قسم کے احکامات جاری کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے جس کا دائرہ کار صرف لاہور شہر تک محدود رہتا ہے۔ میڈیا میں چند روز تک ان کا بڑا چرچا رہتا ہے ۔ اور پھر معاملہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کچھ عرصہ پہلے تک پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ہوٹلوں ، دوا ساز فیکٹریوں اور بیکریوں پر چھاپوں کی خبریں بڑی نمایا ں تھیں۔ اس محکمے کی کوئی خاتون اہلکار عائشہ ممتاز جن کا نام تھا وہ کیمرہ مینوں اور قانون نافذ کرنے والوں کی معیت میں کسی ہوٹل ، فیکٹری اور بیکری پر حملہ آور ہو جاتیں ہوٹل کے غلیظ کچن ، ڈیپ فریزر میں رکھی گلی سڑی اشیاء ، جعلی ادویات کے ڈھیر ، جعلی ڈاکٹروں کے کسی گلی میں قائم کلینک ، اُن کے زنگ آلود سرجری کے آلات ان سب چیزوں کو پرائیویٹ چینلز پر دکھا یا جاتا ۔ آہستہ آہستہ محترمہ کی کارکر دگی ماند پڑتی گئی۔ پتہ لگا کہ اُن کو لمبی چھٹی پر روانہ کر دیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے اب وہ کھڈے لائن لگا دی گئی ہیں ۔ اُن پر چھ مبینہ الزامات کی باز گشت بھی سنی گئی جنکی ہم تائید اور تردید کی پوزیشن میں نہیں ۔ اب اسی محکمے کے کوئی مینگل صاحب وہی کام کر رہے ہیں کبھی دکھا یا جاتا ہے وہ ناقص دودھ کے ڈرم دریائے راوی میں انڈیل رہے ہیں ایک بات البتہ ہماری سمجھ میں نہیںآئی ۔ شہر میں ناقص دودھ پہلے کی طرح فروخت ہوتا ہے ۔ جعلی ڈاکٹروں کے کلینک اب بھی موجود ہیں ۔ ریسٹو رنٹس کے کچن اسی طرح غلیظ ہیں اور اُن کے فریزر گلی سڑی خوراک سے بھرے پڑے ہیں ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ایک نیا کارنامہ سامنے آیا گزشتہ اتوار کو پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر شیخوپورہ میں واقع خوشبویات اور فلیورز سازی کے ایک کارخانے پر حملہ آور ہوئے۔ اتوار کی چھٹی کی وجہ سے فیکٹری بند تھی ۔ نادر شاہی حکم صادر ہوا ، کہ فیکٹری کھول دو ، سیکورٹی گارڈز نے معذرت کی ۔ اُس نے فوری طور پر مالکان کو فون پر اطلاع دی اور چھاپہ مارٹیم کو اُن کے آنے تک انتظار کرنے کے لئے کہا لیکن ڈائریکٹر صاحب نے اُن کی آمد سے پہلے ہی فیکٹری سیل کردی اور سیل آرڈر پر ایک دن آگے یعنی پیر کی تاریخ ڈال گئے۔ آرڈر سیکورٹی گارڈ کے ہاتھو میں تھما کر چلے گئے ۔ پیر کے روز فیکٹری کے مالک فوڈ اتھارٹی کے دفتر گئے تو پتہ لگا کہ ڈائریکٹر صاحب ایک ہفتے کی چھٹی پر ہیں ۔ ظاہر ہے اُن کی واپسی تک فیکٹری کے سینکڑوں مزدور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہینگے اور مالک نہ جانے کب تک کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرتا رہے گا ۔ فوڈ اتھارٹی کی اس واردات کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ہیں ۔ مرد م آزار ی کا خداد اد ملکہ بے نتیجہ کارکردگی دکھانا یا پھر خوشبویات اور فلیورز کے اس کارخانے کے مالکان سے مک مکا کرنے کا حربہ چھٹی کے دن چھاپے کو اُگلے روز دکھانا اور پھر دفتر سے لمبی رخصت اس کا ہم کیا مطلب لیں ؟دیکھتے ہیں اس قضیے کا اب کیا نتیجہ نکلتا ہے وفاقی وزیر خزانہ ہمیشہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں کارخانے لگانے کی دعوت دیتے ہیں کیا ایسے حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے کاروبار کے پھلنے پھولنے کی اجازت دی جاسکتی ہے اب پنجاب کے حجاموں کے لئے مجوزہ قانون کا ذکر کرینگے ۔ جن کی اہمیت کا بڑا چرچا ہے اس قانون کے تحت پنجاب کے تمام حجاموں اور بیوٹیشنر کی رجسٹریشن کے لئے ہیپاٹائٹس کے بل کے نام سے قانون منظور کرنے اور صوبے سے 180ضلعی تحصیل ، ہسپتالوں میں کلینکس قائم کرنے کا اہتمام کیا جائے گا اس حد تک تو ہم اس فیصلے کی تائید کرینگے ۔ مجوزہ بل کے دوسرے حصے پر ہمارے کچھ تحفظات ہیں جس کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں حجاموں اور بیوٹیشنر کو رجسٹر کیا جائے گا ۔ وہاں کے اسٹاف کے میڈیکل ٹیسٹ ہونگے ۔ اُن کے تمام آلات اور اوزار کو جراثیم کش کرنے کے لئے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام باقاعدہ مانیٹر نگ کا بندوبست کرے گا ۔ قانون پر عدم پیروی کی صورت میں اُن کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ بظاہر یہ تو بالکل بڑا دلکش عمل نظر آتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صوبے میں پھیلے لاکھوں کی تعداد میں حجا موں کی دکانوں اور بیو ٹیشنر کلینکس پر یہ قانون عملاً نافذ ہو سکے گا ۔ ہر گز نہیں ۔ اسے پشتو میں ھسے زان لہ کار کتل یعنی خود کو مصروف رکھنے کا طریقہ کہتے ہیں ۔ اس کے لئے قانون کا سہارا لینے کے بجائے ، حجاموں اور بیوٹیشنر کے لئے آگاہی مہم کا بندوبست کیا جاتا تو زیادہ مناسب اور بہتر ہوتا ۔ وہ جو کہتے ہیں دیانت کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور بد دیانتی کے لئے ہزاروں راہیں تلاش کی جا سکتی ہیں ۔ آپ لاکھ قانون نافذ کردیں بد دیانت لوگ اُ س میں بچائو کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیتے ہیں ، اور پھر دور دراز کے دیہات کے حجروں ، چو پالوں ، اور فٹ پاتھ پر بیٹھے حجاموں پر یہ قانون لاگو کرنے کا کیا طریقہ کار ہوگا ۔ سچ پوچھئے تو ہم آج بھی کبھی کبھار گائوں کے حجرے میں حجام کی ہفتہ وار آمد کے موقع پر اُس سے اپنی تھو تھنی پر استرا پھروا لیتے ہیں ۔ صابن وہ ایسا چہرے پر ملتا ہے جسکی جھاگ تو نہیں بنتی چہرے پر اُسکی رگڑ سے ، ہمارے دانتوں سے خون ضرور نکل آتا ہے۔ دیہات میں اب بھی حجام بچوں کے ختنے اُسی روایتی طریقے سے کرتے ہیں ۔ خانک پر بٹھایااُسترے پر سپرٹ کا پاھا پھیرا بچے کو کہا ھغہ دے طوطی دے اور پھر خرپ بعد میں زخم پر سرخ دوا ڈال دی جاتی ہے۔ گائوں کا کوئی حجام آج تک ہیپا ٹائٹس کی وجہ نہیں بنا ۔ وجہ اُسکی جعلی دوائیاں اور پاکستان کی 60فیصد آبادی کو صاف پانی کی عدم دستیابی ہے۔ سرکار کو اس طرف توجہ دینی چاہیئے ۔