زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد

زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد

یہ خیال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ ہمارے یہاں ہر شخص یہی سوچ رہا ہے کہ یہ میری ذمہ داری نہیں ہے یہ تو کسی اور کی ذمہ داری ہے یہ تو حکومت کا کام ہے ہم حکومت کی طرف سے رکھے ہوئے کوڑے دان میں کوڑے کا شاپر گرانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے باہر ہی پھینک کر چل پڑتے ہیں ہر سال پشاور شہر کے اندر سے گزرنے والی نہر کی صفائی ہوتی ہے جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود نہر کے آس پاس رہنے والے اپنے گھر کا کوڑا اسی نہر میں پھینکتے ہیں ہمارے دکاندار بے تحاشہ تجاوزات کا ارتکاب کرتے ہیں خاص طور پر چھوٹے بازاروں کے دکانداروں کی تجاوزات کی وجہ سے تومخلوق خدا کے لیے راستہ چلنا بھی مشکل ہوتا ہے البتہ جو سب سے آسان کام ہے وہ دوسروں پر تنقید کرنا ہے اور اس میں ہم سب نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت کوئی بھی گوارا نہیں کرتا سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں اگر ان کی طرف کوئی انگلی اٹھاتا ہے تو وہ اپنے دفاع میں سر گرم عمل ہوجاتے ہیں عجیب و غریب دلائل دے کر اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کرتے ہیں کل کتابوں کی ورق گردانی کے دوران چالیس برس پہلے لکھی ہوئی ایک منفرد تحریر پر نظر پڑی تویوں محسوس ہوا جیسے یہ آج کی تحریر ہے معروف ادیب شکیل عادل زادہ کی درد دل سے لکھی ہوئی بات دل میں اترتی چلی گئی اس تحریر کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ زمیںجنبد نہ جنبد گل محمدکے مصداق ہم چالیس برسوںسے نہ صرف گل محمد کی طرح اسی جگہ کھڑے ہیں بلکہ پستیوں کی طرف کچھ مزید سفر بھی کرچکے ہیں اور یہ سفر ہنوز جاری ہے نجانے ہم کب سدھریں گے؟تحریر ملاحظہ کیجیے: شہر کی ایک سڑک پر ترقیاتی کام کرنے والوں نے کھدائی کی اور گڑھا سرسری طور پر ہموار کرکے چلے گئے یہ گڑھا پانی اور آمدورفت کی کثرت کی وجہ سے گہرا ہوگیا اور یہاں تیز رفتار گاڑیوں کو دھچکے لگنے لگے جو نہیں جانتے تھے وہ نقصان اٹھانے لگے جو جانتے تھے انہوں نے تین چار صدموں کے بعد احتیاط سے گاڑیاں چلانی شروع کردیں گڑھا یوں ہی رہا ۔ حکومت کے ترقیاتی ادارے نے نئی بستی کے منصوبے کے وقت پارک اور کھیل کے میدان کے لیے ایک قطعہ زمین تجویز کیا ساری بستی تعمیر ہوگئی اور پارک کی جگہ پر دھول اڑتی رہی لوگ کھیل اور تفریح کے لیے عرصے تک اس منصوبے کی تکمیل کے منتظر رہے! یہ تو چند مثالیں ہیں غور کیجیے تو ہمارے ارد گرد نہ جانے کتنے گڑھے ،کتنے جھول ہیں، ہمارے قریب دھول اڑ رہی ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ یوں تو حب الوطنی ، تعمیر وطن اور قومی ترقی کے بارے میں ہمارے جذبات بڑے در د مند ا نہ ہیں اور اس ذیل میں ہماری زبان روانی سے گل ا فشا نی کرتی ہے مگر ہم خود کیا کرتے ہیں؟ ہم سڑکوں پر گشت کرتے ہیں زبان کے چٹخارے لیتے اور بے سروپاباتوں میں اپنی توانائی ، اپنی پوری زندگی خرچ کردیتے ہیں اپنے ماحول، زمین، شہر اور اپنے محلے کے ساتھ ہمارا رویہ اجنبیوں جیسا ہے ہم ایک معذور و مفلوج گروہ ہیں جس نے خود سے نظریں چرالی ہیں اور آسمان کی طرف دیکھنے کی عادت ڈال لی ہے کوئی آسمان بڑی مدت تک کسی زمین کو پناہ دینے کی ضمانت نہیں دیتا اور کوئی زمین اپنے فرزندوں کی ایسی بے اعتنائی کی متحمل نہیں ہوتی پھر ہر جگہ نشیب ہی نشیب ہو جاتے ہیں لوگ ان میں گرتے جاتے ہیں اور انہیں کوئی واپس نہیں نکالتا کتنی سڑکیں، کتنے پل، پشتے، لائبریریاں، سکول، باغ ، کھیل کے میدان بن سکتے تھے کتنے گڑھے پر کئے جاسکتے تھے اور گندے پانی کا رخ بدلا جاسکتا تھا اگر اس زمین سے ہمارا رشتہ گہرا ہوتا اور ہم رشتوں کا احترام کرنا جانتے۔

حکومت کی بات چھوڑیئے حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں کچھ کام ہمارا بھی ہے ہم نے تین جنگیں لڑیں آدھا ملک کھو بیٹھے اور بہت رسوا ہوئے ہم نے بھیک کو شعار بنالیا اور منہ میں انگوٹھا چوستے ہوئے انگلی پکڑ کر چلنے کی عادت آج تک ترک نہیں کی! محلے کے چند تعلیم یافتہ نوجوان اکٹھے ہوجائیں تو محلے سے جہالت کی تاریکی ختم کردیں انقلاب اوپر سے نہیں آتا انقلاب تو انھی راستوں سے گزر کر آتا ہے اجتماعی کام کرنے میں بڑا مزہ ہے اس کام کا لطف اسی وقت محسوس ہو سکتا ہے جب مقابلے کا رجحان پیدا ہو کھیلوں کی طرح گائوں گائوں شہر شہر خود کام کرنے اپنی مدد آپ کے تحت کرنے کے مقابلے منعقدکئے جائیں حکومت اور اس کے اداروں پر تکیہ کرنے کے بجائے انہیں شرمندہ کیا جائے یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ جس سڑک سے لوگ گزرتے ہیں اس سے مغائرت برتتے ہیں جس فضا میں سانس لیتے ہیں وہی آلودہ ہے یہ کیسی ستم ظریفی ہے کس بلا کی غفلت ہے یہ لوگ اپنے دشمن کیوں ہوگئے ہیں؟ ۔

متعلقہ خبریں