Daily Mashriq

ہمسایہ ممالک کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات

ہمسایہ ممالک کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات

اس وقت پاکستان کے تعلقات اپنے مشرقی اور مغربی دونوں ہمسایوں کے ساتھ انتہائی خراب سطح پر ہیں۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندرا مودی پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر چکے ہیں اور چند اہم ترین بھارتی ریاستوں کے انتخابات کے بعد بھارت کی پاکستان سے مذاکرات کی بحالی کی تمام امیدی دم توڑ چکی ہیں۔ دوسری جانب پچھلے دو ہفتوں کے دوران چمن بارڈر پر پاک افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے کئی قیمتی انسانی جانو ں کا ضیاع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پاک افغان سرحد ایک بار پھر بند ہو چکی ہے اور بارڈر کے دونوں جانب پھنسے ہو ئے سینکڑوں ٹرک دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے کسی سمجھداری کے مظاہرے کے انتظار میں ہیں۔افغانستان کے ساتھ تعلقات میں خرابی کے بہت سنگین نتائج نکلیں گے جن سے بچنے کے لئے تعلقات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے اور بہتری کے اقدامات کئے جائیں۔ دو ہفتے پہلے ایران کے صوبے سیستان ۔بلوچستان کی سرحد پر باغیوں کے ہاتھوں ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت نے پاکستان کی تشویش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ اس حوالے سے ہم اپنے ہمسایہ ممالک پر الزامات عائد کرکے بری الذمہ ہوسکتے ہیں لیکن اگر تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہماری قیادت نے ہمیشہ سے ہمسایوں کے ساتھ تنازعات کے حل میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ سرحد کی دوسری جانب سے بھی حالات کی بہتری کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جاتی رہیں۔ ان سب تنازعات کے منفی اثرات سرحد کے دونوں جانب بسنے والے ان لوگوں پر پڑتے ہیں جن کی روزی سرحد پار تجارت سے وابستہ ہے۔ پاکستان کی اندرونی خلفشار کی جھلک ہمارے بیرونی تعلقات میں بھی نظر آتی ہے ۔ حال ہی میں ، قومی اسمبلی کے سپیکر کی سربراہی میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندہ وفد نے افغانستان کا دورہ کیا۔اسی طرح آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سربراہ اور دیگر ملٹر ی افسران حال ہی میں افغانستان کا دورہ کرچکے ہیں۔عسکری اور سیاسی وفود کے علیحدہ علیحدہ افغانستان کے دورے کی بجائے اگر ایک مشترکہ وفد افغانستان جاتا تو ایک مثبت پیغام دینے کے ساتھ ساتھ اپنا نقطہِ نظر بھی زیادہ جامع انداز میں پیش کیا جاسکتا تھا۔امریکہ اور چین کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات دو حصوں میں تقسیم ہیں جن میں سے ایک حصے کی سربراہی سیاسی قیادت جبکہ دوسرے حصے کی باگ ڈور عسکری قیادت سنبھالتی ہے۔ لازمی نہیں کہ اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کے یہ دونوں حصے باہم مربوط ہوں۔عسکری اور سیاسی قیادت کی یہ تقسیم دیگر ممالک کو اپنے ایجنڈے کی کامیابی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، سکیورٹی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیے جانے والے اقدامات کے معاشی ، سماجی اور بیرونی تعلقات پر اثرات کو نظرانداز کرنے کے نقصانات کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔جب تک ہم اپنے اندرونی حالات میں بہتری نہیں لاتے اس وقت تک ہمارے بیرونی تعلقات اسی طرح خراب رہیں گے جیسے کہ آج ہیںکیونکہ ہمارے آپس کے اختلافات بیرونی قوتوں کو حالات سے فائدہ اُٹھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ایران کے ساتھ حالیہ خراب تعلقات میں بہتری کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ سعودی عرب کے ساتھ مذہبی اور جذباتی لگائو کی وجہ سے ہم سعودی الائنس کی قیادت سے انکار نہیں کرسکتے لیکن ایران کو اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے کہ اس الائنس کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی کسی بھی کارروائی میں پاکستان حصہ نہیں لے گا۔ لیکن ایرانی حکومت ان یقین دہانیوں پر زیادہ اعتبار کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔

دوسری جانب امریکہ کی سعودی عرب کی حمایت خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنے کی کوشش ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی حمایت کے ذریعے امریکہ مسلم ممالک میں پھوٹ ڈال کر اسرائیل کے لئے خطرات کم کر نے کے علاوہ خطے میں اپنا اثرورسوخ بھی بڑھا رہا ہے۔ان حالات میں پاکستان کو انتہائی احتیاط سے کام لینا ہوگا کیونکہ پاکستان سعودی عرب یا ایران میں سے کسی بھی ایک ملک کو ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔بھارت، افغانستان اور پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ تینوں ممالک طاقت کے استعمال کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن آج کی دنیا میں تمام سیاسی ، معاشی اور معاشرتی مسائل کے حل کا واحد ذریعہ مذاکرات ہیں ۔ پاکستان کے ایران ، افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی بنیاد سکیورٹی خدشات ہیں ۔ اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن وہ امید جلد ہی دم توڑ گئی تھی۔ بھارت کے ساتھ دشمنی اور افغانستان کے ساتھ پیچیدہ تعلقات نے ہماری اسٹیبلشمٹ کو طالبان کی حمایت کرنے کی ترغیب دی تھی تاکہ بھارتی خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے جس کی وجہ سے طالبان کی ایک ایسی قسم نے جنم لیا جو آج ہمارے عوام اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔خوش قسمتی سے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کے ذریعے ہم نے اس خطرے پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے لیکن فاٹا میں امن کے قیام کے ساتھ ساتھ پورے ملک میںامن کے قائم کرنے کیلئے فاٹا اصلاحات کا فوری نفاذ انتہائی ضروری ہے۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ