Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

شیخ الاسلام سیدنا حماد بن سلمہ جلیل القدر محدث ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سردیوں کے موسم میں زبردست موسلادھار بارش ہوئی ۔ مسلسل بارش کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہونے لگی ۔ ہمارے پڑوس میں ایک عباد ت گزار خاتون اپنی یتیم بچیوں کے ساتھ ایک پرانے سے گھر میں رہتی تھی ۔ جب بارش ہوئی تو ان کے کچے گھر کی چھت ٹپکنے لگی اور بارش کا پانی گھر میں آنے لگا ان غریبوں کے پاس صرف یہ ایک ہی کمرے پر مشتمل گھر تھا ۔ چنانچہ اس خاتون نے خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کیلئے ہاتھ اٹھا ئے اور عرض گزار ہوئی : ''ا ے میرے رحیم و کریم پروردگار ! تو رحم اور نرمی فرمانے والا ہے ، ہمارے حال زار پر رحم اور نرمی فرما ۔ '' خاتون ابھی دعا سے فارغ بھی نہ ہونے پائی تھی کہ فوراً بارش رک گئی ، میرا گھر چونکہ اس صالحہ خاتون کے گھر سے بالکل متصل تھا ۔ میں نے ایک تھیلی میں دس سونے کی اشرفیاں ڈالیں اور اس کے دروازے پر پہنچ کر دستک دی ۔ دستک سن کر خاتون نے کہا : '' خدا کرے کہ آنے والا حماد بن سلمہ ہو ۔'' جب میں نے یہ سنا تو کہا کہ میں حماد بن سلمہ ہی ہوں ۔ میں نے تمہاری دعا سنی تھی ۔'' کیا تمہاری دعا قبول ہوگئی ہے اور خدا نے تم سے کیا نرمی والا معاملہ فرمایا ہے ؟ وہ خاتون بولی : '' میرے پروردگار نے ہم پر اس طرح نرمی فرمائی کہ بارش رک گئی اور جو پانی ہمارے گھر میں جمع ہوگیا تھا وہ بھی خشک ہو گیا ۔ میرے بچے بھی سردی سے محفوظ ہوگئے ہیں ، انہوں نے گرمائش حاصل کرنے کا بھی انتظام کر لیا ہے ۔ '' جب میں نے اس خاتون کی یہ باتیں سنیں تو سونے کی اشرفیوں والی تھیلی نکالی اور کہا : '' یہ کچھ رقم ہے ، اسے تم اپنی ضرورت میں استعمال کرو ۔ ''ابھی ہمارے درمیان یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک بچی اچانک ہمارے پاس آئی ، اس نے اون کا پرانا سا کرتا پہنا ہوا تھا ، جو ایک جگہ سے پھٹا ہوا تھا اور اس پر پیوند لگے ہوئے تھے ۔ ہمارے پاس آکر وہ کہنے لگی : اے حماد بن سلمہ ! کیا آپ یہ دنیاوی دولت دے کر ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان پردہ حائل کرنا چاہتے ہیں ، ہمیں ایسی دولت نہیں چاہیئے ، جو ہمیں ہمارے رب کی بارگاہ سے جدا کرنے کا سبب بنے ۔''
پھر اس نے اپنی والدہ سے کہا : '' اے امی جان ! جب ہم نے اپنے پروردگا سے اپنی مصیبتوں کی التجا کی تو اس نے فوراً ہی دنیا وی دولت ہماری طرف بھجوادی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس دنیاوی دولت کی وجہ سے اپنے مالک حقیقی کے ذکر سے غافل ہو جائیں اور ہماری توجہ اس سے ہٹ کر کسی اور کی طرف مبذول ہو جائے ۔پھر اس بچی نے مجھ سے کہا :'' خدا آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے ، برائے کرم ! آپ اپنی یہ رقم واپس لے جائیں اور جہاں سے لائے ہیں وہی رکھ دیں ۔ ہمیں اس دولت کی کوئی حاجت نہیں ، ہمیں ہمارا پروردگار کافی ہے ۔ وہ ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کرے گا ۔ جو اللہ پر توکل اور بھروسہ کرتا ہے دنیاوی مشکلات کا وہ پرواہ نہیں کرتا ۔
(ایمان افروز واقعات)

اداریہ