Daily Mashriq


محکمہ صحت کو اب ہوش آیا؟

محکمہ صحت کو اب ہوش آیا؟

محکمہ صحت نے ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی ذمہ داری بورڈ آف گورنرز پر عاید کرتے ہوئے بی او جی کو مستعفی ہونے کا زریں مشورہ دے دیا ہے جبکہ دوسری جانب ایم ٹی آئی بی او جی کو تحلیل کرکے سات ممبران کو ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کو کسی سرکاری ادارے میں انتظامات کا تجربہ نہ رکھنے والے منتظم کو پانچ لاکھ روپیہ مشاہرے پر رکھنے پر اعتراض تھا۔ ہر دو اقدامات سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کے ہسپتالوں کو خودمختاری دینے اور بورڈ آف گورنرز کے تحت چلانے کا تجربہ بری طرح ناکام ہوا۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور ایچ ایم سی کے معاملات بھی متاثر کن نہیں خاص طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال تو مستقل کھنچاتانی کی زد میں ہے مگر اس کیخلاف کارروائی یا اس کے چیئرمین کو مستعفی ہونے میںشاید چند دن مزید لگیں گے۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی کارکردگی اگر درست نہ تھی تو قبل ازیں اس کیخلاف اقدامات اور اصلاح احوال کی مساعی کی کوئی کوشش کیوں سامنے نہ آئی۔ دوم یہ کہ اس کے بورڈ آف گورنرز کو مستعفی ہونے کا مشورہ دینے کی بجائے ایم ٹی آئی نوشہرہ کی طرح اس کو بھی ازخود ختم کیوں نہیں کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایم ٹی آئی نوشہرہ وزیراعلیٰ پرویزخٹک کے اپنے حلقے اور علاقے کا ہسپتال ہے اس کے ایڈمنسٹریٹر کی تقرری وزیراعلیٰ کے اذن اور منظوری کے بغیر ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ان کی برطرفی کی دیگر وجوہات سے بھی صرف نظر ممکن نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران گوکہ نوشہرہ کے عوام کے بڑے مسائل حل ہونا جہاں فطری امر تھا وہاں بعض ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو منظور نظر افراد کو نوازنے کی پالیسیوں کے باعث متاثر ہوئے۔ کیا ایم ٹی آئی نوشہرہ میں اس قسم کے افراد کی تقرری علاقے کے عوام کیساتھ ناانصافی نہ تھی مگر دوسری جانب تصویر کا رخ ہسپتال میں بڑے پیمانے پر مداخلت اور من مانی کی شنید ہے۔ اس کا محکمہ صحت کے حکام کے پاس کیا جواز ہے محکمہ صحت ان بااثر افراد کیخلاف خاموش کیوں رہا، وزیر صحت نے معاملات کا نوٹس کیوں لیا۔ دم رخصت اس قسم کے اقدامات کو حالات نزع میں ایمان لانے سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے جو عوام کیلئے قابل قبول نہیں۔

متعلقہ خبریں