محکمہ صحت کو اب ہوش آیا؟

13 مئی 2018

محکمہ صحت نے ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی ذمہ داری بورڈ آف گورنرز پر عاید کرتے ہوئے بی او جی کو مستعفی ہونے کا زریں مشورہ دے دیا ہے جبکہ دوسری جانب ایم ٹی آئی بی او جی کو تحلیل کرکے سات ممبران کو ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کو کسی سرکاری ادارے میں انتظامات کا تجربہ نہ رکھنے والے منتظم کو پانچ لاکھ روپیہ مشاہرے پر رکھنے پر اعتراض تھا۔ ہر دو اقدامات سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کے ہسپتالوں کو خودمختاری دینے اور بورڈ آف گورنرز کے تحت چلانے کا تجربہ بری طرح ناکام ہوا۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور ایچ ایم سی کے معاملات بھی متاثر کن نہیں خاص طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال تو مستقل کھنچاتانی کی زد میں ہے مگر اس کیخلاف کارروائی یا اس کے چیئرمین کو مستعفی ہونے میںشاید چند دن مزید لگیں گے۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی کارکردگی اگر درست نہ تھی تو قبل ازیں اس کیخلاف اقدامات اور اصلاح احوال کی مساعی کی کوئی کوشش کیوں سامنے نہ آئی۔ دوم یہ کہ اس کے بورڈ آف گورنرز کو مستعفی ہونے کا مشورہ دینے کی بجائے ایم ٹی آئی نوشہرہ کی طرح اس کو بھی ازخود ختم کیوں نہیں کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایم ٹی آئی نوشہرہ وزیراعلیٰ پرویزخٹک کے اپنے حلقے اور علاقے کا ہسپتال ہے اس کے ایڈمنسٹریٹر کی تقرری وزیراعلیٰ کے اذن اور منظوری کے بغیر ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ان کی برطرفی کی دیگر وجوہات سے بھی صرف نظر ممکن نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران گوکہ نوشہرہ کے عوام کے بڑے مسائل حل ہونا جہاں فطری امر تھا وہاں بعض ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو منظور نظر افراد کو نوازنے کی پالیسیوں کے باعث متاثر ہوئے۔ کیا ایم ٹی آئی نوشہرہ میں اس قسم کے افراد کی تقرری علاقے کے عوام کیساتھ ناانصافی نہ تھی مگر دوسری جانب تصویر کا رخ ہسپتال میں بڑے پیمانے پر مداخلت اور من مانی کی شنید ہے۔ اس کا محکمہ صحت کے حکام کے پاس کیا جواز ہے محکمہ صحت ان بااثر افراد کیخلاف خاموش کیوں رہا، وزیر صحت نے معاملات کا نوٹس کیوں لیا۔ دم رخصت اس قسم کے اقدامات کو حالات نزع میں ایمان لانے سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے جو عوام کیلئے قابل قبول نہیں۔

مزیدخبریں