Daily Mashriq

آئی ایم ایف سے مالی تعاون حاصل کرنا آخری حل تھا، وزیر خارجہ

آئی ایم ایف سے مالی تعاون حاصل کرنا آخری حل تھا، وزیر خارجہ

ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی تعاون حاصل کرنے کے خواہشمند نہیں تھے لیکن ہم بے بس تھے۔

شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے مختلف مسائل پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے حملوں میں پاکستان مخالف اور سی پیک مخالف قوتوں کا ہاتھ ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ملک کو سرمایہ کاری کی کمی کا سامنا ہے، مالی خسارہ اور بے روزگاری عروج پر ہے، صورتحال روز بروز بگڑتی جارہی ہے‘۔

گزشتہ حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ حکومتیں براہ راست ٹیکسز پر انحصار کرتی تھیں، ملکی درآمدات، برآمدات سے زیادہ تھیں، قومی خزانہ خالی اور آخری 5 ماہ کا گردشی قرضہ 8 سو 6 ارب روپے تھا‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’دوست ممالک نے مکمل تعاون کیا لیکن ہمیں اس کے باوجود آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا'۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا طویل مرحلہ ہوا کیونکہ ہماری حکومت عوام کی سہولت کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی کی ہر ممکن کوشش کررہی تھی۔

گوادر میں فائیو اسٹار ہوٹل پر حملے اور دیگر دہشت گردی واقعات سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان مخالف اور سی پیک مخالف قوتیں ملوث ہیں، کچھ قوتیں پاکستان میں استحکام نہیں چاہتیں اور دیگر سی پیک منصوبے کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتیں‘۔

انہوں نے کہا کہ دوسروں کی طرح پاکستان غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیتا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہمیں سوچنا پڑتا ہے کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے، ہم تحقیقات کے بغیر کچھ نہیں کہنا چاہتے یہی وجہ ہے کہ ہم بھارت پر الزامات عائد نہیں کررہے'۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو پلوامہ حملے کا ذمہ دار قرار دیا لیکن ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا، اگر ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں انڈین انٹیلی جنس ایجنسی 'را' ملوث ہوئی تو ہم ان کا تعاقب کریں گے۔

بھارت میں جاری انتخابات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا جائے گا لیکن جو بھی اقتدار میں آئے گا اس کے دل میں پاکستان کے لیے نرم جذبات نہیں ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی نئی حکومت کے پاس پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی تشکیل کے لیے 68 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جنہیں آئندہ مالی سال میں فعال کیا جائے گا‘۔

متعلقہ خبریں