Daily Mashriq


ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد کی بندش

ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد کی بندش

وفاقی حکومت نے ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد کی بندش کا فیصلہ کر کے اس حوالے سے جس عجلت کا مظاہرہ کیا ہے اسے عوامی، سماجی اور ثقافتی حلقوں میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا رہا ہے، ریڈیو پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں ایبٹ آباد، مٹھی، بھٹ شاہ اور سرگودھا کی حیثیت تبدیل کر کے انہیں ریلے سٹیشن قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی تاہم بورڈ ممبران نے مٹھی اور بھٹ شاہ کو اس فہرست سے نکال دیا جبکہ ایبٹ آباد اور سرگودھا کو صرف ریلے سٹیشنز کے طور پر باقی رکھنے کی منظوری دی، جہاں تک ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد کا تعلق ہے اس کا قیام آج سے لگ بھگ 30سال قبل 1991ء میں عمل میں آیا تھا، جس کی وجہ سے ضلع ہزارہ کی ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ ملا تھا اور نہ صرف اردو زبان کے پروگرام نشر ہوتے تھے بلکہ ہزارے والی، پشتو اور گوجری زبانوں کی ترویج میں بھی اس سٹیشن کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، ہزارے کے اہل قلم اور اہل فن اس سٹیشن کیساتھ وابستگی کے دوران اپنی ثقافت، زبان اور تاریخ کو فروغ دینے کیساتھ ساتھ اس سٹیشن سے مقامی زبان میں کسانوں اور کاشتکاروں کیلئے خصوصی پروگرام نشر کئے جاتے تھے۔ یوں یہ سٹیشن ہزارہ کی زرعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا تھا، مگر بعد میں جب ایف ایم ٹیکنالوجی متعارف ہوئی تو ملک کے دیگر کئی شہروں میں ایف ایم سٹیشنز کا قیام سیاسی بنیادوں پر عمل میں لایا جانے گا اور اب بھی بعض اطلاعات کے مطابق جو سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں مٹھی اور بھٹ شاہ کے سٹیشنوں کو بند ہونے والے سٹیشنز کی فہرست سے نکالنے کے پیچھے ایک اقلیتی ایم این اے کا ہاتھ ہے جن کے دباؤ پر دیکھا جائے تو ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد گزشتہ 30سال سے عوامی سطح پر جو خدمات انجام دے رہا تھا ان خدمات کا اعتراف پورے ہزارہ ضلع میں کیا جارہا تھا، اور اس سٹیشن کی بندش سے ادبی، ثقافتی اور عوامی حلقوں پر مایوسی کے بادل چھا گئے ہیں، پورے ضلع میں یہ واحد سٹیشن تھا جس کی بندش کسی بھی طور جائز نہیں ہے مگر حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں میں سے کسی کو بھی اس فیصلے پر آواز اُٹھانے کی ضرورت کا احساس نہیں ہوسکا، حالانکہ ان میں وفاقی، صوبائی وزراء سپیکر صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور اراکین پارلیمنٹ سبھی شامل ہیں۔

رویت کے مسئلے پر وزراء آمنے سامنے

رویت ہلال کے مسئلے پر ملک کے علمائے کرام تو ایک عرصے سے دو حصوں میں تقسیم ہیں ہی اور ہر سال نہ صرف رمضان المبارک بلکہ عیدین، یہاں تک کہ بعض اوقات محرم الحرام کے چاند پر بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور خیبر پختونخوا کے کئی شہروں میں قائم مقامی کمیٹیوں کے مابین عدم اتفاق کی صورتحال دیکھنے کو ملتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں دو دوعیدوں اور دو دو رمضان کوئی نئی بات نہیں بلکہ ماضی میں تین تین عیدالفطر منانے کی روایتیں بھی قائم ہوئیں، اس سال بھی دو رمضان المبارک کے فیصلوں نے قوم کو تقسیم کیا، تاہم اس کے بعد وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی چوہدری فواد نے ایک اور شوشہ چھوڑ کر جس طرح ایک اور پنڈورا باکس کھولنے کی بنیاد رکھی، اس کے نتیجے میں علمائے کرام کی جانب سے وزیر موصوف کے بیان پر اعتراضات سامنے آئے جبکہ ان کی جانب سے رویت ہلال پر 40لاکھ روپے خرچ کرنے کے طنزیہ بیان نے خود وفاقی کابینہ کے ایک اور وزیرکو ان کو سامنے لاکھڑا کر دیا اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور علامہ نورالحق قادری نے ایک نسبتاً سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ چاند دیکھنے کیلئے 40لاکھ تو کیا40کروڑ بھی خرچ کریں گے، انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کوشش کررہے ہیں مگر رویت ہلال کمیٹی ایسے ختم نہیں کرسکتے۔ ایسا کرنا بھی ہوا تو علماء سے مشورہ کریں گے۔ جہاں تک فواد چوہدری کے موبائل ایپ بنا کر خود چاند دیکھنے کے بیان کا تعلق ہے اس کو بھی غیر متعلقہ کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ دور میں بھی محکمہ موسمیات بھی تو ٹیکنالوجی ہی سے مدد حاصل کرتی ہے جس کا تذکرہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین بھی کرتے رہتے ہیں، تاہم وزیر مذہبی امور کی بات بھی غلط نہیں ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کو یوں ختم نہیں کیا جاسکتا، مگر یہاں سب سے اہم سوال جو پیدا ہوتا ہے وہ موجودہ تفرقہ بازی کے حوالے سے موجودہ چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کے اس رویئے کا ہے جو موصوف نے بلا کم وکاست اختیار کر رکھا ہے اور ہر بار جب بھی خیبر پختونخوا سے ملنے والی شہادتیں موجود ہوتی ہیں تو چیئرمین کمیٹی انہیں قابل اعتبار کے درجے پر فائز کرنے کو کسی صورت تیار نہیں ہوتے حالانکہ وزیر مذہبی امور کا اپنا تعلق خیبر ایجنسی کے علاقے سے ہے اور وہ قبائلی علاقوں میں رویت ہلال کی روایات سے اچھی طرح واقف ہیں تووہ چیئرمین رویت ہلال کو بیک جنبش لب پورے خیبر پختونخوا کی شہادتوں کو کس اخلاقی اور مذہبی دائرے کے تحت رد کر تے ہیں، اس پرضرور سوچنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں