Daily Mashriq


بھارتی سیکولرازم کے پردے میں ہندو جنونیت

بھارتی سیکولرازم کے پردے میں ہندو جنونیت

بھارت بیس کروڑ مسلمانوں کا ملک ہے لیکن اس ملک میں ان بیس کروڑ مسلمانوں کی حیثیت بس اتنی ہے کہ جس کا دل چاہا جہاں چاہا انہیں نشانہ بنا لیا۔ جرم کوئی ہو نہ ہو وہ مجرم بن جاتے ہیں اور ان کیخلاف کام کرنے والے ہیرو۔ بی جے پی کا نریندر مودی ہو یا کانگریس کی اندرا گاندھی ان کے عظیم ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ مسلمانوں کے قاتل ہیں چاہے وہ مسلمان بھارت کے اندر کا ہو یا پاکستان کا۔ ان کو ووٹ ہی اسی بات کا ملتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی کتنی تذلیل کی ہے یا ان کا کتنا قتل عام کیا ہے۔ بھارت میں ہندو شدت پسند اس تسلی کیساتھ ہی الیکشن میں جاتا ہے کہ جیت اس کی ہوگی۔ یہاں اچھی خاصی بڑی مسلمان آبادی کے حلقوں میں بھی مسلمان امیدوار کو کھڑا کرنے کا رسک کوئی پارٹی نہیں لیتی اور خاص کر بی جے پی جیسی جماعتیں تو شدید نظریات کے حامل امیدواروں کو ہی موقع دیتی ہے تاکہ اسے حکومت کرنے میں آسانی رہے اور کہیں سے کوئی مزاحمت نہ آئے۔ اب کے بھی اس نے مدھیہ پردیش سے ایک ایسی امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے جو ثابت شدہ دہشتگرد ہے۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا نام اس پارٹی کیلئے خاص کر قابل احترام ہے کہ اس کے اوپر مسلمانوں پر حملوں کے ناقابل تردید الزامات ہیں اور انہیں الزامات میں اس نے نو سال جیل میں گزارے لیکن 2015 میںاسے ضمانت پر رہا کیا گیا۔ سادھوی نے29ستمبر2008 کو مالیگاؤں میں دو بم دھماکے کروائے، ان بموں کو ایک موٹر سائیکل پر فٹ کیا گیا اور شواہد اور ثبوتوں کے مطابق یہ موٹر سائیکل سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی تھی۔ ان دھماکوں میں سات افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے، یہ دھماکے مسلمان اکثریت کی ایک مارکیٹ میں اُس وقت ہوئے جب مسلمان روزہ افطار کر رہے تھے اس دہشتگردی میں اُس کیساتھ کئی دوسروں سمیت بھارتی فوج کے کاؤنٹر ٹیررازم کے کرنل سری کانت پروہت بھی شامل تھا۔ اس واقعے کے تفتیشی افسر ہمنت کرکرے کو بعد میں قتل کر دیا گیا اور سادھوی کو ایک طرح سے عدالت سے کلین چٹ دیدی گئی تاہم اس پر مقدمہ جاری رکھا گیا۔ یہ کوئی ایک جرم نہیں جو اس کے ذمے ہے اسی عورت نے2007 میں اجمیر شریف کی درگاہ میں ہونے والے دھماکوں میں بھی اہم کردار ادا کیا، یہ اور بات ہے کہ بھارت کے قومی تفتیشی ادارے این آئی اے نے نہ صرف اسے بلکہ آر ایس ایس کے ایک لیڈر اندیش کمار دونوں کو بری کر دیا جبکہ آر ایس ایس کے لیڈر سوامی آسیم آنند نے یہ اقرار کیا کہ اس واقعے میں ہندو شدت پسند ملوث تھے بلکہ یہ تمام تر انہی کی منصوبہ بندی اور کارستاتی تھی لیکن یہ شدت پسند دہشتگردی کر کے بھی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل قرار پاتے ہیں اور وہ بھی مذہبی انتہا پسندی بلکہ دہشتگردی کے بعد لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ بھارت میں تو حکومتی ایوانوں تک پہنچنے کا معیار ہی ہندو شدت پسندی ہے ورنہ آج ایک شدت پسند اس کا وزیراعظم نہ ہوتا۔ اگرچہ کچھ لوگوں کی طرف سے سادھوی کی نامزدگی کی مذمت بھی کی گئی ہے لیکن یہ بھی زیادہ تر مسلمانوں کی طرف سے ہے۔ محبوبہ مفتی نے اس نامزدگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس غصے اور ناراضگی کا اندازاہ لگائیے جو اگر میں کسی دہشتگرد کو انتخابات کیلئے نامزد کرتی تو فوراً اسے محبوبہ دہشتگردی کا نام دیدیا جاتا۔ معروف فلمی نغمہ نگار اور سیاستدان جاوید اختر نے اسے شرمناک قرار دیا۔ اسی سادھوی نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ اسے فخر ہے کہ اس نے بابری مسجد کے انہدام میں حصہ لیا، اس سے یقیناً بی جے پی کے نکتۂ نظر کی مزید وضاحت ہوگئی ہے لیکن پھر بھی بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ اس کی ایجنسیاں ہندو کے کئے ہوئے جرائم پر پردہ ڈال دیتی ہیں بلکہ ان کے کئے ہوئے کو مسلمانوں سے جوڑ کر انہیں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی مالیگاؤں کیس میں ہوا جہاں بے گناہ مسلمان نوجوان لڑکوں پر الزام لگا دیا گیا۔ آسیم آنند نے اعترافِ جرم کیا اور پھر اپنے بیان سے پھر گیا اور این آئی اے نے مجرموں کیلئے سدا بہار جملے ’’ناکافی ثبوتوں‘‘ کی ادائیگی کیساتھ بری کر دیا۔ بھارت میں عام عدالت ہو یا اس کی سپریم کورٹ مسلمانوں کیلئے اس کے اصول الگ ہیں اور ہندؤں کیلئے الگ۔ بھارت کی انہی عدالتوں نے ایسے کئی مواقع پر جب مسلمان ہی مارے گئے، مسلمانوں کو ہی سزا دی اور پکڑے گئے ہندو چھوڑ دئیے۔ 1984کا سکھ قتل عام بھی سب کی یادداشتوں میں محفوظ ہے۔ اس ملک میں نہ عیسائی محفوظ ہیں، نہ نچلی ذاتوں کے ہندو، لیکن دنیا کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان جس مذہبی دہشتگردی سے گزرتے ہیں وہ خاص حکومتی سرپرستی کا شاخسانہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ این آئی اے جسے بظاہر دہشتگردی کی روک تھام کیلئے بنایا گیا وہ خود مسلمانوں کیلئے ایک دہشتگرد ادارہ بن چکی ہے جس نے کئی واقعات میں مسلمانوں کو مسلمانوں کیخلاف ہی مجرم ٹھہرایا اور ہندو شدت پسندوں کیلئے ڈھال بنا۔ اس نے مالیگاؤں، اجمیر شریف، سمجھوتا ٹرین اور گجرات قتل عام سمیت کئی دوسرے واقعات میں ہندو شدت پسند دہشتگردوں کو کلین چٹ دیکر انہیں اگلی دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرنے کیلئے آزاد کر دیا اور سادھوی کو تو پارلیمنٹ تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوا۔کشمیر کی آزادی کیلئے لڑتے ہوئے رہنما اس کی نظر میں دہشتگرد ہیں لیکن آسیم آنند بیگناہ جو مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کو عین اعزاز سمجھتا ہے۔ اس کا انتخاب ہو جانا یا نہ ہونا ایک الگ بات ہے جو بھوپال کے حلقے میں کافی حد تک متوقع ہے لیکن اس نے کم ازکم بھارت کے سیکولرازم کے پردے میں ہندو جنونیت کا راز فاش کر دیا ہے جس کی اسمبلیوں تک بیس کروڑ مسلمانوں میں سے گنتی کے چند ہی مشکل سے پہنچ پاتے ہیں لیکن سادھوی جیسے دہشتگرد بڑی آسانی سے یقینی جیت کے حلقوں سے انتخاب لڑسکتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہ ہو کہ اگر ایک ملک کا وزیراعظم اور ممبران اسمبلی دہشتگرد ہیں تو اسے دہشتگرد قرار دیدیا جائے یا کم ازکم ایسا سمجھ ہی لیا جائے۔

متعلقہ خبریں