Daily Mashriq


اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں

اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں

کبھی کبھی ہم بھولے میاں یا بھولے باچھا کی ’بھ‘ پر زبر کی بجائے پیش ڈال کر اسے ’’بھُولا باچھا‘‘ بھی کہہ دیتے ہیں لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے کوئی بات یاد نہیں رہتی یا وہ سچ مچ کا بھلکڑ ہوجاتا ہے، آج جب وہ آٹے چینی اور دال کے بھاؤ تاؤ بتاتے ہوئے بڑھتی مہنگائی کیخلاف صدائے احتجاج بلند کر رہا تھا، ہم نے اسے فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کا وہ زمانہ یاد کرایا جب عوامی شاعر حبیب جالب لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر جیسے جلسوں میں پکار پکار کر کہتا تھا کہ

بیس روپے کا من آٹا

اس پر بھی ہے سناٹا

ہم کرتے ہیں فریاد

صدر ایوب زندہ باد

لدھ گیا وہ زمانہ جب بیس روپے کا من آٹا ہوتا تھا اور ایک من میں پکے باٹ چالیس سیر ہوتے تھے۔ اعشاری نظام رائج نہیں تھا اس لئے کلو یا کلو گرام کے باٹ کو کوئی کوئی پہچانتا تھا اس لئے کلو کے باٹ کو کچا سیر کہہ کر کام نکال لیا جاتا تھا۔ آج کل تو جدھر دیکھتے ہیں ادھر کلو ہی کلو ہے۔ لمبائی یا فاصلہ ماپنے کیلئے ملی میٹر اور سنٹی میٹر سے بات چل کر میٹر سے ہوتی ہوئی کلو میٹر تک جا پہنچتی ہے۔ یہی حالت وزن کی اکائی کا ہے، ملی گرام، سنٹی گرام، گرام اور پھر کلو گرام۔ ایک اطلاع کے مطابق آج کل20کلو گرام آٹے کا توڑا کم وبیش 8سے9 سو روپے تک کا آجاتا ہے۔ گویا وزن رائج الوقت کے مطابق کچے وٹے نصف من سے بھی کم آٹے کے توڑے کی قیمت اگر اتنی ہے تو من بھر آٹا کتنے کا آتا ہے اس کا حساب آپ خود لگا لیں۔ کہاں بیس روپے کا من آٹا اور کہاں 2000 روپے کے لگ بھگ ملنے والا کچے وٹے من آٹا۔ جب بیس روپے کا من آٹا تھا اس وقت اگر سناٹا تھا تو شائد اس لئے کہ اس وقت لوگوں کے پاس بیس روپے ہوتے تھے اور وہ آٹا خرید سکتے تھے اس لئے وہ حبیب جالب کی طرح چیخ وپکار کرنے کی بجائے چپکے سے بازار جاکر آٹا خرید لیتے تھے۔ آج اگر 2000روپے کا کچے وٹے من آٹا ہے اور مکمل سکوت یا سناٹا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے دیس کے واسی2000روپے کا من آٹا خرید سکتے ہیں اس لئے بھولے باچھا کو دہائی ہے سرکار دہائی ہے کا شور ڈالنے کا حق نہیں پہنچتا۔ افراط زر بڑھنے سے قوت خرید میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ آپ کسی مصروف یا پرہجوم بازار میں کسی بھی دکان پر سودا سلف خریدنے کھڑے ہوں کوئی آپ کے کندھے کو ہلائے گا یا کمر تھپ تھپائے گا۔ آپ مڑ کر دیکھیں گے تو آپ کے پیچھے ہاتھ پھیلائے ایک آدھ پیشہ ور بھکارن یا بھکاری کھڑا ہوکر آپ سے بھیک کے نام پر بھتہ وصول کرنے کا تقاضا کر رہا ہوگا۔ ایک اچھی بھلی دکان کے مالک نے بتایا کہ ہم ٹیکس دیتے ہیں، دکان کا کرایہ دیتے ہیں، بجلی کا بل اور دیگر اخراجات کے علاوہ اصل زر خرچ کرکے سودا سلف بیچنے کیلئے دکان کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور جب شام ڈھلے حساب کرنے بیٹھتے ہیں تو ہم پر عقدہ کھلتا ہے کہ ہم نے دن بھر کی تھکن اور محنت برداشت کرکے بھی اتنا منافع نہیں کمایا، جتنا یہ بھکاری لوگ بٹور کر لے گئے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق بھک منگوں کے ٹھیکیدار رمضان کے دنوں میں پیشہ ور بھکاریوں کی کھیپوں کی کھیپیں گاڑیوں میں بھر کر پشاور میں لاکر انہیں پرہجوم بازاروں میں پھیلا دیتے ہیں، ان میں زیادہ تر تعداد چیتھڑے پہنی عورتوں اور بچوں اور بچیوں کی ہوتی ہے جو رمضان کے ختم ہوتے ہی اپنا دھندہ سمیٹ کر ان مقامات کی جانب لوٹ جاتے ہیں جہاں سے وہ آئے تھے، نہ تو ان کیخلاف کریک ڈاؤن کی خبریں جاری کرنیوالے کچھ کر سکتے ہیں اور نہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور ہم سب ماہ مقدس کے دوران ان بھک منگوں کی جھولی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے صدقہ، فطرانہ ڈالنا سعد یا کارثواب سمجھتے ہیں کہ صدقہ ردبلا ہے۔ دکانیں لگا کر گلے پر چھری پھیرنے والوں اور بھک منگوں کے اس طوفان بلاخیز کے دوران جب اخبارات میں بڑھتی مہنگائی کی ڈراؤنی خبریں شہہ سرخیاں بنکر یوں چسپاں ہوتی ہیں جیسے عوام کو ریلیکس دینے کی خوشخبریاں سنائی جارہی ہوں تو ہم کو گراں فروشوں اور بھکاریوں کے متعلق سوچنا بھول جاتا ہے اور حکومت وقت کے پھیلی ہوئی ہتھیلیوں کی فکر لاحق ہوجاتی ہے جو بھک منگوں اور مہنگے فروش دکانداروں کی طرح ہاتھ پھیلا کر ریاست کے عوام سے ان سبز باغوں اور سنہرے خوابوں کی قیمت مانگ رہے ہوتے ہیں جن کی سردست کوئی تعبیر یا ان سے بچنے کی تدبیر نظر نہیں آتی، مفت کا کھانا کہیں نہیں ملتا، مہمانوں کی جوتیاں چرا کر ان کی دعوت کرنیوالا کتنا بھلے مانس تھا جو اس نے سب کو بتا دیا کہ یہ سب آپ کی جوتیوں کا صدقہ تھا، قوم کے بچے بچے کو عالمی ادارہ مالیات کا مقروض کرکے ہم حکومت کرنے والے کو اتنا بھی نہیں کہہ سکتے یہ سب آپ کی قربانیوں کا صدقہ ہے، چینی، مشروبات، الیکٹرانکس اور فوم کی مصنوعات سمیت کئی اشیاء مہنگی ہوں گی، اخبارات میں یہ خبر یوں شائع ہوئی جیسے کوئی خوشخبری ہو یا وطن کا قرض چکانے کیلئے اپنے خون کی ہر بوند کو نچھاور کرنے والوں کے صبر اور حوصلہ کا امتحان لیا جا رہا ہو، قیامت سے پہلے قیامت کے مصداق نظر آیا سنہری خواب بیچنے والوں کا مہنگائی سے پہلے مہنگائی کا یہ چرچا، لیکن جہاں زندگی کی ہر سانس کی قیمت دینی پڑ رہی ہے وہاں مہنگائی کے اس چرچے کی کیا قیمت دینی پرے گی اس کا ہمیں اندازہ ہے نہ سکت اور نہ حوصلہ

حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا

اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

متعلقہ خبریں