Daily Mashriq


خارجہ پالیسی کاجرم

خارجہ پالیسی کاجرم

ملکوں کے بہم تعلقات اور کسی ملک کے بہتر مستقبل میں اس ملک کی خارجہ پالیسی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اگرچہ اس خارجہ پالیسی کی جڑیں ہمیشہ ملکوں کے تاریخی پس منظر میں پیوست ہوتی ہیں لیکن کئی بار حال لوگوں کے جذبات اور حال کی ضرورت اس سب سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ خارجہ پالیسی کی بنیاد بہرحال قوموں کے ذاتی مفادات کی رکھوالی میں ہی رہتی ہے اور دنیا میں ملکوں کا آپس میں معاشی طور پر متصل ہونا، کئی حقیقتوں اور فیصلوں کے جنم کا باعث ہوتا ہے۔ پڑوسی کو نظرانداز کرنا یا ان کیساتھ تعلقات پر دوردراز دوستوں کی چھاپ ہونا ایک فطری عمل ہوسکتا ہے کیونکہ بہرحال ملک اپنے مفادات کو سب سے اہم گردانتے ہیں لیکن ایک ایسی خارجہ پالیسی جس میں دیواریں ساتھ ملائے پڑوسی ناراض ہوں تاکہ دور والوں کو راضی کیا جائے کئی خطرناک مسائل کو جنم دیتی ہے۔کئی بار پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظر کیجئے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک پنجرے میں قید ہیں۔ درسی کتابوں میں تو ہم سب نے پڑھ رکھا ہے کہ پاکستان ایک نہایت اہم جغرافیائی جگہ پر واقع ہے لیکن اس سے زیادہ شاید ہم نے کبھی نہ سوچا اور نہ ہی اس جغرافیائی موجودگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ حکومت کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن پاکستان کو کبھی تو یہ یقین کرنا ہی ہوگا کہ اسے اپنے ہمسایوں سے تعلقات میں بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ بھارت سے تعلقات کی خرابی میں بھارت بھی ممد ومعاون ہے لیکن افغانستان اور ایران سے تعلقات کی بہتری میں ہم کوشش کیوں نہیں کرتے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ ملک کرائے کے مکانوں میں نہیں بستے کہ ایک جگہ کے پڑوسی پسند نہ آئے تو سامان اُٹھایا اور مکانیت ہی بدل لی۔ ہماری خارجہ پالیسی میں ایسی کوئی سمجھ اور فہم اب تک دکھائی نہیں دے سکی۔ بھارت سے ہمارے تعلقات کی کشیدگی تو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے، پھر ستر سالوں میں ہمارے ذہنوں سے یہ خوف نہیں مٹنے دیا گیا کہ وہ ہم پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔ مگر ایسا کوئی ڈر ہمیں کبھی بھی ایران سے نہیں تھا۔ ایران نہ صرف ایک برادر اسلامی ملک ہے بلکہ پاکستان سے اچھے تعلقات بھی چاہتا ہے۔ کئی معاملات کو محض معیشت کی کسوٹیوں پر پرکھ کر دیکھا جائے تو فیصلے کرنے آسان ہو جاتے ہیں اور یہ اس حقیقت سے مفر قطعی ممکن نہیں کہ پاکستان میں امن وامان کے کئی معاملات محض معیشت کی عینک لگا کر بھی حل کئے جا سکتے ہیں۔ اگر ملکوں، خصوصاً پڑوسی ملکوں کے معاشی مفادات پاکستان میں تخلیق کرلئے جائیں تو کتنے ہی مسائل کا حل خودبخود نکل سکتا ہے۔ امریکہ کی کمزور معاشی کیفیت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو اپنی نظر اپنے پڑوسیوں پر رکھنی چاہئے۔ اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ دنیا کی فی زمانہ سب سے بڑی حقیقت معیشت ہے۔ وہ بڑے ملک جو کسی زمانے میں دنیا میں مضبوط اور طاقتور رہے ہیں اب ان کی کیفیت بدل رہی ہے۔ امریکہ کی اجارہ داری اب کچھ کمزور ہے۔ روس، ترکی، چین ایک نئی طاقت کیساتھ دنیا کے نقشے پر طلوع ہورہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو بھی اپنی خارجہ حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ بھی بھولنا نہیں چاہئے کہ پاکستان کو کبھی بھی امریکہ سے کوئی ایسی مدد حاصل نہیں رہی جس کا احساس پاکستان کے ذہن سے باقی ملکوں کی موجودگی کے احساس کو ہی محو کر دے۔پاکستان کی جانب سے ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام جاری رکھنے سے انکار تو کر دیا گیا اور اس حوالے سے مختلف تاویلیں بھی دی جارہی ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت عالمی دباؤ کے سامنے جھک گئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں یہ سب اس کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کیا گیا تھا۔ ایران پاکستانی سرحد تک 900کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھا چکا ہے جبکہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر 800کلو میٹر کی لائن بچھانا تھی، یہ معاملہ امریکی پاپندیوں کے باعث مسلسل التوا کا شکار ہے۔ اس صورتحال کو اپوزیشن تو جس طور بھی اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنے کی کوششیں کرے، حقیقت یہ ہے کہ جب تک پاکستان کو خود یہ احساس نہ ہوگا کہ اسے علاقائی ربط وتعلق کی ضرورت ہے۔ وہی ملک ترقی کر سکتے ہیں جن کیساتھ تعلقات اپنے پڑوسیوں سے اچھے ہوتے ہیں، اس وقت تک پاکستان میں معیشت کو استحکام نہیں ہوگا۔ جب تک ہم خود اپنی اہمیت کو نہ سمجھیں گے، جب تک ہم یہ نہ جان لیں گے کہ ہماری اصل طاقت کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار وسائل سے بھی نوازا ہے اور اس حوالے سے میں نے بار بار کئی کالم بھی لکھے ہیں، لیکن یہ ایک بہت اہم حقیقت ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس احساس میں ہے کہ پاکستان جغرافیائی راہداری ہے اور وہ اپنی اس اہمیت کو اپنے معاشی مفاد میں بدل سکتا ہے۔ جب تک وہ اپنی اس حیثیت کو سمجھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی میں شامل نہ کرے گا اور اس سے اپنی معیشت کو فائدہ نہ پہنچائے گا، وہ ہمیشہ معیشتی جمود کا شکار رہے گا، جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو اس کیلئے تو امریکی سینیٹر رمسے کلارک کا یہ کہنا ہی بہت کافی ہے کہ ’’دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانیت کا سب سے بڑا جرم امریکہ کی خارجہ پالیسی ہے‘‘۔ اس حوالے سے چند گزارشات کل کے کالم میں کروں گی۔

متعلقہ خبریں