Daily Mashriq


روزہ دار اور بندگی

روزہ دار اور بندگی

اس میں کیا شک ہے کہ اللہ اپنے روزہ داروں کو اس گرمی کے روزے رکھنے پر کیا شاندار اجر دینے والا ہے۔ جب دنیاوی زندگی میں کوئی اپنے دنیاوی مالک کیلئے سختی جھیلتا ہے تو مالک اسے انعام سے نوازتا ہے، اوور ٹائم اور بونس ملنے کیلئے انسان کتنی محنتیں کرتا ہے۔ اللہ تو بڑا حساب رکھنے والا ہے، وہ بھلا گرمی کی شدتوں سے کیونکر واقف نہ ہوگا، بھلا وہ کیسے اپنے بندوں کو نہیں نوازے گا، بے شک اللہ انسان کی نیتوں کو جاننے والاہے ۔ اس بار رمضان مئی میں ہی گزرے گا۔ گرمی، بھوک اور پیاس میں سہارنا مشکل ہے مگر فرزندان توحید اللہ کی خوشنودی کیلئے اسے ممکن بنا ہی لیتے ہیں اور یہی وہ رشتہ ہے جو بندگی کہلاتا ہے۔ بندگی یہی ہے کہ مالک کا حکم من وعن اور سرتسلیم خم کرکے حکم کی پوری روح کیساتھ مانا جائے۔ مسلمانوں کی اس بندگی پر تمام جہانوں کا مالک بے شک خوش ہوتا ہوگا، اس خوشی کا انسان اندازہ نہیں لگا سکتا۔ رمضان کا مہینہ بے شک احتساب ذات کو موقع فراہم کرتا ہے جب انسان صرف اور صرف خوشنودی خدا کی خاطر بھوک اور پیاس اور موسموں کی شدت برداشت کرتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان تطہیر ذات کے عمل سے گزرتا ہے۔ اس کیساتھ منسلک عبادتیں انسان کو مزید شفافیت کی جانب لے آتی ہیں۔ گیارہ مہینے اللہ سے دوری کے بعد ایک اور موقع انسان کو میسر آتا ہے کہ وہ اللہ کے قرب کے حصول کی جستجو کرے۔ اللہ کی ذات انسان کے شعور میں سما تو سکتی نہیں کہ وہ ایک بے پناہ ذات ہے اور انسان کا عقل وشعور کا دائرہ اس کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔ اسی ذات کی بنائی ہوئی دنیاؤں میں ایک چھوٹا سا نقظہ جسے ہم دنیا کہتے ہیں، اس دنیا کی لذتیں اتنی زیادہ ہیں کہ انسان ان میں ڈوب جاتا ہے اور کمال کی بات ہے کہ خود اپنی ذات سے غافل ہو جاتا ہے اور جب خود اپنی ذات سے غافل ہو جائے تو اپنی زندگی اور زندگی کے مقصد سے کیسے غافل نہیں ہوگا۔ انسان اللہ کو پہچان لے تو اس سے بڑی لذت تو کوئی ہو نہیں سکتی۔ شاید کہ انسان اس کے سجدے سے اُٹھنے سے بھی انکاری ہوجائے مگر انسان ہے بنیادی طور پر غافل اور غفلتوں میں پڑ جاتا ہے۔ انسان کی اسی کمزوری کو مدنظر رکھ کر اللہ نے انسان کی ہدایت کیلئے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے لگ بھک پیغمبر بھیجے کہ اسے اس کے مقصد حیات کی طرف بلایا جائے اور کیسے کیسے پاک نفسوں کو نبوت کی ذمہ داری بخشی گئی اور پھر ان شاندار انسانوں نے کیا کیا کردار پیش کئے کہ آج بھی انسانیت ان پر فخر کرتی ہے اور پھر ہمارے نبی عظیم الشان، محمدﷺ کی حیات کتنی شان والی بنائی اللہ نے کہ ان کا نام نامی ہی محبت کی شہد روح میں گھول دیتا ہے۔ کیا شاندار حیات مبارکہ ہے اور کیا حسن اخلاق ہے کہ جو واقعہ بھی پڑھو ان کے عشق میں مزید گرفتار ہوتے جاؤ۔ ایسے ایسے انسانی کارنامے ان کی حیات مقدسہ سے منسوب ہیں کہ ان پر رشک ہی کیا جا سکتا ہے مگر ساتھ ہی ایک فخر کا احساس بھی ہمراہ رہتا ہے کہ میں بھی اس پاک ذات کا امتی ہوں کہ جن کی ذات باصفا ہے اور معصوم ہے۔ اس زمانے کا سوچو تو رشک آنے لگے، ان صحابہ کبار پر کہ کیسی قسمتیں تھیں ان کی کہ ایسے عظیم المرتبت نبیﷺ کے مصاحب رہے اور اسی صحبت پاک میں ایسی زندگیاں گزار گئے کہ جیسے پاک اس دنیا میں آئے تھے ویسے پاک واپس چلے گئے اور ایک ہم عاصی ہے کہ ان کی پیروی میں بھی کوشش کے باوجود آبلہ پا ہی رہتے ہیں۔ جو قارئین حج اور عمرے پر تشریف لے گئے ہیں، انہیں صحیح اندازہ ہوگا کہ وہاں گرمی کا کیا عالم ہوتا ہے۔ حج کے دنوں ہم جب مکہ سے مدینہ جارہے تھے تو ایئرکنڈیشن بس میں جب باہر کا نظارہ کرتے ہیں تو حیرت ہوتی کہ بے سر وسامانی کے عالم میں اس شدید گرمی میں اور اتنی طویل مسافت طے کرکے نبی پاک محمدﷺ نے کیسے مکہ سے مدینہ حجرت کی ہوگی۔ بے شک وہ بڑی ہستی تھیں کہ بڑے کام کر گئیں۔ ہماری توچیخیں نکل جاتی ہیں ہلکی سی گرمی پڑجائے تو روزہ سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ روزہ بے شک ایک مشکل بدنی عبادت ہے جو فرض کی گئی ہے۔ اللہ کی جانب سے نازل ہونے والی ہر عبادت خود انسان اور سماج کیلئے فائدے لئے ہوتی ہے۔ اللہ کے توحید کے فلسفے کو ماننے والوں کیلئے روزہ بے شک ایک فضیلت ہے جو اپنی ذات کی غواصی پر مجبور کرتا ہے۔ انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے کہ اس نے کیا کیا فعل بد کئے ہیں۔ جن پر ندامت کا ایک موقع فراہم کرتا ہے روزہ۔ انسان سے جو ظلم سرزد ہوئے ہیں ان کی تلافی کا ایک اندر موقع فراہم کرتا ہے یہ روزہ۔اگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب باتیں اس رمضان کے روزوں میں ہم پر وارد ہو رہی ہیں اور ہم تذکیۂ نفس کے مرحلے سے گزر رہے ہیں تو بے شک ہمارا روزہ اس روزے سے مطابقت رکھتا ہے کہ جو روزہ اس خالق لایزل نے ہم پر فرض کیا ہے اور اگر ہم نے اپنے باطن میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی، اپنے اردگرد کو محسوس نہیں کیا، اپنی برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل ہوتا محسوس نہیں کیا تو شاید اس سے بڑا خسارہ اور کوئی نہ ہو اور انسان تو ہے ہی خسارے میں کہ یہ اللہ کا قول ہے اور اللہ کا قول اٹل ہے۔ اللہ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ اس رمضان کی برکت ہمیں اس صراط مستقیم پر چڑھا دے کہ جسے تو صراط مستقیم سمجھتا ہے۔ یااللہ ہمیں ان انسانوں میں مت اُٹھانا کہ جنہیں تو خسارے والے انسان کہتا ہے۔ اے اللہ ہمارے وطن کو صحیح معنوں میں خوشحال وطن بنا دے اور اس کے دشمنوں کو زیر کر دے اور اس وطن کو امن کا گہوارہ بنا دے کہ تیرے دربار میں کوئی کمی نہیں ہے کہ تو بڑی قدرت والا ہے۔

متعلقہ خبریں