Daily Mashriq


داتا دربار میں خودکش حملہ اور سانحہ کا تجزیہ

داتا دربار میں خودکش حملہ اور سانحہ کا تجزیہ

یہ جولائی2010 کی یکم تاریخ تھی اور جمعرات کا دن تھا، جب داتا دربار میں دو خودکش حملہ آ وروں نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ پچاس کے قریب زائرین موقع پر شہید ہو گئے اور دو سو سے زیادہ زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔ یاد دلادوں کہ یہ وہ زمانہ تھا جب وطنِ عزیز میں دہشتگردی اپنے عروج پہ تھی۔ تب خودکش بمباروں نے جمعرات اس لئے حملے کیلئے چنا تھا کہ جمعرات کے روز صوفیاء کرام کے مزاروں پے حاضری دینے کیلئے متبرک سمجھا جاتا ہے۔ اب اس مرتبہ آٹھ مئی کا روز اس لئے چنا گیا کہ رمضان شریف کے مقدس مہینے کا آغاز ہو چکا تھا۔ سب ہی جانتے ہیں کہ رمضان کے مقدس مہینے میں داتا دربار پہ زائرین کی آمد عروج پہ ہوتی ہے۔ تاہم خدائے پاک کا شکر ہے کہ اب وہ وقت آچکا ہے کہ دہشتگردی میں خاطر خواہ کمی آچکی ہے چنانچہ خودکش بمبار دربار میں داخل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکا اور اس نے ایلیٹ پولیس کی وین کے قریب خود کو اُڑایا جو بارہ پولیس والوں کی شہادت کا باعث بنا۔ میڈیا کے مطابق پولیس اور فرانزک حکام نے جائے وقوع سے تمام شواہد اکٹھے کئے ہیں، تفتیش میں تیزی لائی جارہی ہے۔ دہشتگردی مخالف ماہرین بم بلاسٹ کے بعد کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں بمبار کی شکل واضح نظر آتی ہے، تفتیش دراز ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق لاہور میں دہشتگردی ماضی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کے افغانستان کنکشن کا سراغ لگایا گیا تھا اسی طرح داتا دربار کے خودکش بمبار کے سرپرستوں اور نیٹ ورک سے وابستہ ماسٹر مائنڈز تک رسائی کیلئے تحقیقات کثیر جہتی ہوگی اور جلد قوم کو آگاہ کیا جائیگا تاہم سانحہ کے محرکات اور خودکش بمبار سے متعلق ڈیٹا کی دستیابی کیلئے ٹیموں کی تشکیل کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

دہشتگردی سے متعلق معلومات رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کسی قریبی گلی میں سے باہر نکلا، اسے سی سی ٹی فوٹیج میں جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اسے چلتے ہوئے مشکل پیش آرہی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیز کیلئے یہ اصل امتحان ہے کہ یہ پتہ چلایا جائے کہ وہ کس گلی سے باہر نکلا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ موبائل میں موجود اہلکار یہ اندازہ کیوں نہ لگا سکے کہ ان کی طرف آنیوالا مشکوک شخص بمبار بھی ہوسکتا ہے لہٰذا دہشتگردی کی اس نئی لہر کے بنیادی محرکات اور سازش کو بے نقاب کرنے کیلئے حکام کو بلوچستان سمیت ملک بھر میں انتہا پسند نیٹ ورک کے سلیپنگ سیلز اور روپوش کارندوں کا تعاقب کرنا، انکے ہینگ اوورز کو دبوچنا اور انتہا پسندی کے بیانیہ کے ماخذوں تک رسائی حاصل کرنے کا ٹاسک مکمل کرنا ہوگا۔ چیلنج انتہا پسندی کے نیٹ ورک کی موجودگی کا ہے۔دہشتگردوں کے ہینڈلروں، نام نہاد کمانڈروں اور ماسٹر مائنڈز کو کیفرکردار تک پہنچانے کا ایک اہم مرحلہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد میں پورا ہوا ہے مگر دہشتگردوں کی باقیات کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔ 22اکتوبر2016ء کو ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں وفاقی حکومت سے استدعا کی گئی تھی کہ بلوچستان اور ملک کے دیگر دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں دہشتگرد تنظیمیں بچوں کے اغوا میں ملوث ہیں۔ ان کے خفیہ نیٹ ورک معصوم بچوں کو ان کے گلی کوچوں سے کھیلنے کے دوران غائب کرتے ہیں، یہ بچے خودکش بمبار بنانے کیلئے را میٹریل کا کام کرتے ہیں۔ اس مسئلہ پر بلوچستان اسمبلی کے فلور پر صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اظہارِ خیال کیا تھا۔ انہوں نے بچوں کے اغوا میں ملوث افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں سے بچوں کے غائب ہونے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی جبکہ پولیس اور انٹیلی جنس افسروں نے اس رپورٹ کی تیاری میں کردار ادا کیا تھا۔ داتا دربار کے مشکوک خودکش بمبار کی عمر، اس کی لاہور میں کسی رہائش گاہ میں عارضی روپوشی اور موقع کی مناسبت سے ہدف تک پہنچنے کی عیاری اور اعتماد نے سیکورٹی میکنزم پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ بات وہی ہے کہ کیا اس خودکش بمبار کی تربیت اور اس کی ریڈیکلائزیشن ان ہی اغوا شدہ بچوں کی کھیپ سے مربوط ایک منظم مجرمانہ اور ریاست دشمن بیانیہ کا اثبات تو نہیں۔ دشمن کا انتہا پسندانہ بیانیہ ایک مضبوط ریاستی ردبیانیہ کا متقاضی ہے۔ صائب حکمت عملی یہی ہوسکتی ہے کہ انتہا پسندی کے مکتب فکر کو ہدف پر لیا جائے۔ دہشتگردی کے واقعہ کی تحقیقات وتفتیش جاری رہنی چاہئے مگر اس کیساتھ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کے ماخذ اور اس عفریت کے فکری، سماجی، معاشی، مذہبی اور نظریاتی پہلوؤں پر کھلا مکالمہ کا اہتمام کیا جائے۔ ایک دور تھا جب بیت اللہ محسود کی قیادت میں طالبان کے 13دھڑے اس کی زیرنگرانی دہشتگردی کے نیٹ ورکس سے وابستہ تھے۔ آج صورتحال مختلف ہے، دہشتگردی کا سحر ٹوٹ چکا ہے، ان کی طاقت ملیامیٹ اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی رعونت خاک بسر ہوئی ہے۔ مگر اطلاعات ہیں کہ دہشتگرد پھر سے فعال ہونے لگے ہیں۔ واضح رہے گزشتہ دنوں فاٹا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے یکے بعد دیگرے واقعات کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم بلوچ دہشتگرد تنظیموں نے قبول کی تھی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دہشتگردوں کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔ جن سفاک قوتوں نے جمہوریت، انسانیت، انسانی حقوق اور آدمیت کی بنیادی قدروں کو پامال کیا آج ان کے کسی دھڑے کا داتا دربار کے قریب خودکش دھماکہ کرنا سوچ وتفکر وتدبیر کے کئی در وا کرتا ہے۔ اگر یہی خودکش بمبار داتا دربار کے اندر تک پہنچ جاتا تو کتنی تباہی ہوتی؟

متعلقہ خبریں