Daily Mashriq

برطانیہ : ’یورپی یونین کے انتخابات میں حکمراں جماعت کو مشکلات کا سامنا ہوگا‘

برطانیہ : ’یورپی یونین کے انتخابات میں حکمراں جماعت کو مشکلات کا سامنا ہوگا‘

برطانیہ کے وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ رائے عامہ میں حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی چوتھے نمبر پر اور بریگزٹ پارٹی پہلے نمبر پر آنے کی وجہ سے کنزرویٹو پارٹی کے لیے یورپی یونین کے انتخابات مشکل ہوں گے۔

برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے لیے ووٹ دینے کے تقریبا 3 سال سے بریگزٹ کا عمل افراتفری کا شکار ہے اس کے ساتھ ہی برطانوی وزیراعظم پارلیمنٹ میں معاہدہ منظور کروانے میں ناکام رہیں ہیں جس کی وجہ سے ووٹرز کے اشتعال میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ کی دونوں مرکزی جماعتیں جو اس وقت یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر تقسیم ہوئی ہیں، ووٹرز کی جانب سے سزا پائیں گی جبکہ برطانوی رکن پارلیمنٹ نیگل فراج کی جماعت بریگزٹ پارٹی، کنزرویٹو جماعت کے ووٹ حاصل کررہی ہے۔

وزیر تعلیم دامیان ہندس نے بی بی سی کے اینڈریو مار شو میں بتایا کہ ’ میرا خیال نہیں کہ اس میں کوئی شک میں ہوگا کہ یہ ہمارے لیے مشکل انتخابات ہونے والے ہیں، کچھ لوگوں کے لیے یہ مکمل طور پر احتجاجی ووٹ دینے کا موقع ہے‘۔

بریگزٹ کے لیے 29 مارچ کی مہلت گزر جانے کے بعد یہ تیزی سے ماضی کا حصہ بن رہا ہے۔

برطانیہ اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہے ایک وہ جو کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین چھوڑنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو بریگزٹ کے تبدیل ہونے کی امید کرتے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے درمیان پارلیمنٹ میں ڈیڈ لاک ختم کرنے کی کوشش کے تحت بات چیت ہوئی ہے، اس دوران 23 مئی کو یورپی پارلیمنٹ کو ہونے والے انتخاب میں ووٹرز کو اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرنے کا نیا موقع ملے گا۔

اوبزرور اخبار کے حالیہ رائے عامہ کے نتائج کے مطابق نیگل فراج کی جماعت یورپی یونین کے الیکشن سے قبل 34 فیصد کے ساتھ پہلے، لیبر پارٹی 21 فیصد کے ساتھ دوسرے اور کنزرویٹو جماعت 11 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

تھریسا مے کو امید ہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں منتخب برطانوی نمائندوں کو اپنی نشستیں حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، جو جون کے اختتام سے قبل پارلیمنٹ سے علیحدگی کے معاہدے کی منظوری چاہتی ہیں۔

تاہم لیبر پارٹی سے ہونے والی بات چیت کو وزرا کی جانب سے معاہدے یا دستبرداری کے معاہدے کو منظور کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ’ مستحکم اکثریت ‘ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔

اس حوالے سے اب ایک درمیانی راستہ نکالا جائے گا جس سے حکومت اپوزیشن ووٹوں کی پیشکش کی جائے گی۔

لیبر پالیسی چیف نے اس امید کی پیشکش کی کہ ایک معاہدہ ہوسکتا ہے اور گیون ولیم سن جنہیں رواں ماہ تھریسا مے نے وزیر دفاع کے عہدے سے برطرف کیا تھا، انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف آنسوؤں میں ختم ہوسکتے ہیں۔

لیبر پارٹی کے ہیلتھ پالیسی چیف نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے مذاکرات کرنے والے نمائندے حکومت کو ان کا بریگزٹ پلان اپنانے میں رضامند کرنے کی کوشش میں زیادہ دور نہیں گئے۔

لیبر پارٹی کے تجارتی پالیسی کے چیف بیر گارڈینر نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ اس بات کی ضمانت نہیں تھریسا مے کے بعد آنے والے رہنما حقیقت میں اس معاہدے پر عمل کریں گے۔

بعض کنزرویٹو رہنماؤں کی جانب سے تھریسا مے پر بریگزٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد استعفیٰ دینے پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

تاہم دیگر وزرا کا کہنا ہے کہ یہ صحیح وقت نہیں کہ تھریسا مے عہدہ چھوڑیں، ان کی روانگی سے متعلق بحث سے پارلیمنٹ میں مختصر تبدیلی ہوگی، جو پہلے ہی ان کے معاہدے کو 3 بار مسترد کرچکی ہے۔

دامیان ہندس نے کہا کہ ’ یہ پارلیمانی پارٹی اور پارلیمنٹ میں اعداد سے متعلق ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ کسی کو اس دھوکے میں نہیں رہنا چاہیے کہ عہدے پر صرف شخص کے تبدیل ہونے سے پارلیمانی حقیقت نہیں بدلے گی۔

متعلقہ خبریں