Daily Mashriq

حقیقت پسندی اختیار کرنے کی ضرورت

حقیقت پسندی اختیار کرنے کی ضرورت

وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام ترقی کا ایجنڈا روکنے والوں کی مدد نہیں کرینگے جگہ جگہ موٹر وے سڑکیں انٹر چینج بن رہے ہیں ترقی کے ایجنڈے کو جاری رکھیں گے سی پیک منصوبہ پاکستان کا نقشہ بدل رہا ہے ۔2018ء میں لوڈشیڈنگ انشاء اللہ دفن ہو جائیگی خیبر پختونخوا میں بھی ہم نیا پاکستان بنا رہے ہیں پاکستان سے دہشتگردی کو ہم نے ختم کیا ہے پاکستان ترقی کرتا رہے گا دنیا کے نقشے میں پاکستان کی عزت بڑھے گی پاکستان ترقی کی بلندیوں کو چھورہاہے دنیا بھی معترف ہے ماضی کی حکومتیں حاجیوں کو لوٹ لیتی تھیں پی آئی اے اور ریلوے کا بھٹہ بیٹھ گیا تھا ہم ٹھیک کررہے ہیں ترقی کے منصوبوں کو روکنے والے ناکام ہو کر رہیں گے۔سیاستدانوں کا ایک دوسرے پر الزامات اور غیر حقیقی دعوے کچھ اس طرح سًے معمول بن چکے ہیں کہ عوام ان پر کان دھرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے۔ میڈیا پر سیاستدان جس طرح خود کو وطن عزیز کا وفادار اور ہمدرد اور دوسروں کو چور لٹیرا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حقیقتاً ایسا نہیں۔ بعید نہیں کہ میڈیا پر گرما گرمی دکھانے والے پروگرام کے خاتمے کے بعد پنجہ مار کر خوشگوار انداز میں بات کرنے لگیں۔ عوام کے سامنے جلسے کے سٹیج یا مائیک پر سیاستدان اور حکمران جو بھی اظہار خیال کریں ضروری نہیں کہ وہ دعوے وعدے اور الزامات حقیقت کے بھی قریب ہو یوں یہ عوام کو دھوکہ دینے اور بے وقوف بنانے کے زمرے میں آتے ہیں اور عوام جب ان کی حقیقت جان جاتے ہیں تو انہیں مایوسی اور بے زاری ہوتی ہے خاص طور پر گزشتہ چند سالوں کے اندر ٹی وی سکرینوں پر جو کچھ عوام کے سامنے بولا جانے لگا ہے اور پھر اسی میڈیا پر کیمرے کی آنکھ سے عوام تصویر کا جو رخ دیکھتے ہیں اور عملی زندگی میں ان کے جو مشاہدات و تاثرات ہیں ان کے برعکس ہونے کے باعث سیاسی عناصر اور حکمرانوں پر عوام کا اعتماد کا اٹھ جانا فطری امر ہے اور یہ اس بناء پر خطرناک بھی ہے کہ اس طرح کے مصنوعی ماحول میں عوام کا سیاستدانوں اور جمہوریت پر اعتماد اٹھ جانا فطری امر ہے جس کا کسی کو احساس نہیں۔ اب سیاست بدلنے لگی ہے اور سیاست میں اس حد تک تبدیلی آگئی ہے کہ تمام اندازے غلط ثابت ہونے لگے ہیں۔ امریکی عوام نے میڈیا اور رائے عامہ کے جس طرح برعکس فیصلے کا اظہار کیا یہ ہمارے سیاسی عناصر کے لئے بھی سبق ہونا چاہئے۔ وطن عزیز میں ویسے بھی انتہا پسندی کے لئے ماحول نا مناسب نہیں اور بڑی مشکل سے دہشت گردی پر قابو پالیا گیا ہے۔ اگر امریکہ میں کایا پلٹ قسم کے خیالات اور فیصلے عملی صورت میں سامنے آسکتے ہیں تو ہمارے ہاں بھی غیر متوقع نہیں۔ ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت جملہ سیاسی و مذہبی قیادت سے یہ گزارش کرنا نا مناسب نہ ہوگا کہ وہ ایسے خیالات و آراء کے اظہار سے گریز کریں جو حقیقت سے قریب ترنہ ہوں ۔محض سیاسی مخالفت پر نہ تو حکومت کو لتاڑا جائے اور نہ ہی حزب اختلاف کو کنارے سے لگایا جائے۔ ہمارے تئیں پاکستان کے عوام کبھی بھی اس آراء سے اتفاق نہیں کریں گے کہ محض سیاسی مخاصمت پر کوئی ساسی جماعت ملکی ترقی کے ایجنڈے کو سبو تاژ کرے اور اگر خدانخواستہ ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو جائے تو اس طرح کرنے والوں کا راستہ روکنے والے طاقتور ہاتھ موجود ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکمرانوں کی جانب سے سیاسی مخالفین کو ملکی ترقی کے ایجنڈے کے مخالفین گرداننے کے روئیے پر اب نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جب تک کسی سیاسی جماعت یا گروہ کا قول و فعل سے اس بات کا واضح اظہار نہ ہو کہ وہ خدانخواستہ ملکی تعمیر و ترقی کے خواہاں نہیں تب تک کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ انگشت نمائی کی جائے۔جہاں تک وزیر اعظم کے مخاطبین کا تعلق ہے ان کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ محض سیاسی بنیادوں پر ملک میں پیالی میں طوفان لانے کی بجائے ٹھوس شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ ہی کوئی بات کریں تاکہ عوام کے سامنے بار بار کی خجالت کا سامنا نہ ہو۔ ہمارا معاشرہ ہماری سیاست اور ادارے ارتقاء کے دور سے گزر رہے ہیں ۔دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک بھی اس دور سے گزر کر ہی اس مقام پر پہنچے ہیں۔ یہ ارتقائی سفر جتنا جلدی طے ہوگا اتنا بہتر ہے۔ ارتقائی سفر اپنی جگہ، کم از کم ہمارے با شعور طبقے کو تاریخ سے تو سبق حاصل کرلینا چاہئے۔ ہم اگر زمانہ کی ٹھوکروں سے سمجھنے کی بجائے ٹھوکروں سے بچنے کی تدبیر کریںاور احتیاط کا مظاہرہ کریں تو بہت جلد اس منزل سے گزر سکتے ہیں جس کے بعد ہی استحکام اور ترقی کی منزل آئے گی۔توقع کی جانی چاہئے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان اپنے کردار و عمل اور روئیے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں گے اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ترک کرکے سنجیدہ ومتین کردار اپنا کر ملک کی تعمیر و ترقی کو اولین ترجیح بناتے ہوئے اپنا پنا سفر جاری رکھیں گے۔ملک و قوم کے عظیم تر مفاد کا خیال رکھنا ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے جب تک یہ ہم سب کی اولین ترجیح نہ بن جائے ہم ایک مضبوط قوم بننے کے حامل قوم قرار نہیں پائیں گے۔

اداریہ