Daily Mashriq


سوات میں چھائونی کا قیام

سوات میں چھائونی کا قیام

آر می چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ فاٹا اور مالاکنڈ میں ترقیاتی کام ترجیحی بنیادوں پر بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات میں جس کو چند برس قبل فوجی آپریشن کے ذریعے طالبان کے قبضے سے چھڑایا گیا تھا وہاں ایک بڑی فوجی چھائونی کا افتتاح علاقے کے مکمل تحفظ اور عوام کو تحفظ کا احساس دلانے کے لئے حوصلہ افزاء اقدام ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سوات میں مقامی افراد کی جانب سے علاقے کی سکیورٹی کے مطالبے کے پیش نظر فوجی چھائونی کی باقاعدہ منظوری گزشتہ سال آٹھ ستمبر کو دی گئی تھی۔اس بارے دو آرا نہیں کہ پاکستان فوج سوات میں امن اور سکیورٹی کے لیے مسلسل اور اہم کردار ادا کر رہی ہے۔اسی تسلسل کے طور پرسوات میں چھائونی کا قیام دہشت گردوں کے لیے رکاوٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اعتماد بڑھانے اور علاقے میں کسی بھی خطرے سے نمٹنے میں اہم ہوگا۔خیال رہے کہ سوات میں دہشت گردوں سے علاقے کو خالی کرانے کے لیے مئی 2009 میں بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا جس میں پاک فوج نے بڑی قربانی دی اور سوات کے عوام نے گھر بار سے بے دخل ہو کر علاقے کی تطہیر کا جس طرح موقع دیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ چونکہ سوات کا علاقہ شددت پسندوں کا گڑھ رہا ہے اس لئے ان کے اثرات کی موجودگی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں سوات کے دیگر علاقوں سے ملنے والی سرحدوں سے بھی شدت پسندوں کی آمد کے خطرات ہیں ۔ ایسے میں سوات میں چھائونی کا قیام ضروری تھا۔ بعض حلقوں کی جانب سے چھائونی کے قیام پر تحفظات ہو سکتے ہیں تاہم یہ فطری امر ہے کہ کسی مسئلے پر مکمل اتفاق رائے ہو۔ بہر حال سوات میں فوجی چھائونی کے قیام سے ممکن ہے کچھ مشکلات بھی ہوں لیکن من حیث المجموع یہ سوات اور یہاں کے لوگوں کے لئے مختلف شعبوں میں ترقی کا باعث بنے گا۔ اس سے روز گار کے کافی مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ علاقے کے عوام کی سماجی و معاشرتی تبدیلی کا باعث بھی ثابت ہوگا۔ معیاری تعلیم کے میدان میں آرمی کا اپنا ایک مقام اور کردار ہے صرف یہی نہیں بلکہ چھائونی کے قیام کے ساتھ ساتھ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں اور آمد و رفت کے معاملات بھی بہتر ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ امن کی بحالی اور استحکام امن سے علاقے کی سیاحت کو مہمیز ملے گی۔ سیاحت کے ضمن میں پاک فوج پہلے ہی مختلف پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے عملی قدم اٹھا چکی ہے۔

متعلقہ خبریں