Daily Mashriq


تعلیم' دعوے کچھ عمل کچھ

تعلیم' دعوے کچھ عمل کچھ

ایک ایسے وقت میں جب صوبائی وزیر تعلیم کوہاٹ میں چھ کمروں اور چھ اساتذہ کے پہلے گرلز پرائمری سکول کا باقاعدہ افتتاح کر رہے تھے چمکنی میں طالبات دو سال سے کرایہ کی عدم ادائیگی پر احتجاج کر رہی تھیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ کرایہ کی عدم ادائیگی پر بیس سکولوں کی بندش کا خطرہ ہے۔ سرکاری سکولوں کے کرایہ کی ادائیگی کے لئے سالانہ 63 لاکھ کی بجائے صرف تین لاکھ کی ادائیگی مذاق سے کم نہیں جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ حکومت اور متعلقہ محکمہ کس حد تک تعلیمی سہولتوں کی فراہمی میں سنجیدہ ہے۔ ایک جانب بلند و بانگ دعوے ہو رہے ہیں اور دوسری جانب سکولوں کی حالت زار نا گفتہ بہ ہے۔ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کی اپنی کارکردگی تو یہ عالم ہے جہاں با اثر عناصر کے مفادات کا تحفظ کرنا ہو وہاں قانون ہی بدل دینے سے گریز نہیں کیا جاتا۔پختونخوا کم سے کم اجرت ترمیمی بل 2015میں سے نجی تعلیمی اداروں کو مستثنیٰ قرار دیئے جانے کوپشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیاہے۔ایڈووکیٹ سلیم شاہ ہوتی کی وساطت سے دائررٹ میں سپیکرخیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر اورصوبائی حکومت کو بذریعہ چیف سیکرٹری'سیکرٹری قانون'ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخواکو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کم سے کم اجرت ایکٹ 2013میں گزشتہ سال 2015میں ترمیم کی گئی جس کے تحت صوبے میں قائم نجی تعلیمی اداروں کو کم سے کم اجرت ایکٹ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا جبکہ 2013میں یہ ایکٹ تمام اداروں پر لاگو تھا۔ رٹ میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت نے یہ ترمیم صرف اس لئے کی ہے کیونکہ سپیکر خیبر پختونخوا اور بعض صوبائی وزراء کے تعلیمی ادارے ہیں ۔اس لئے انہوں نے ترمیمی بل میں کم سے کم اجرت کا قانون ان پر لاگو نہ ہونے کی ترمیم کی ہے جوکہ غیر قانونی اقدام ہے۔صوبے میں میرٹ اور قانون کی حکمرانی او ر تعلیم کے مد میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے کے دعویداروں کے کردار و عمل میں اس تضادم پر جتنا افسوس کا اظہار کیا جائے کم ہوگا۔ با اثر عناصر کا اپنے مفاد میں قانون ہی کو بازیچہ اطفال بنانا دستور کی توہین ہے۔ بہر حال عدالت سے بجا طور پر توقع ہے کہ وہ محولہ مقدمے میں قانون لاگو کرنے کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنانے کے اقدامات کا حکم دے گی کہ نجی سکولوں کے اساتذہ کو کسی طور بھی ان کے حقوق سے محروم نہ رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں