Daily Mashriq


ڈان سٹوری کی تحقیقات

ڈان سٹوری کی تحقیقات

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واضح کر دیا ہے کہ 6اکتوبر کو روزنامہ ڈان میں نیشنل سیکورٹی کے بارے میں اعلیٰ سطح اجلاس کے بارے میں جو مواد شائع ہوا تھا وہ لیک (Leak)یا افشاء نہیں تھا بلکہ من گھڑت مواد تھا۔ اس کے باوجود میڈیا والے اسے یا تو متنازعہ خبر کہہ رہے ہیں یا لیک حالانکہ میڈیا جس تحقیقات کا ذکر کررہا تھا اس کا ایک مقصد یہی معلوم کرنا تھا کہ آیا اس مواد کے مندرجات افشاء ہوئے ہیں یا یہ کہانی بنائی گئی ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے یہ وضاحت سابق جج عامر رضا خان کے تحت انکوائری کمیٹی کے قیام کی خبر دینے کے بعد کی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اب یہ انکوائری کمیٹی اس امکان پر غور نہیں کرے گی کہ آیا اس مواد میں جو کہانی بیان کی گئی ہے اور افشاء ہوئی ہے یا من گھڑت ہے۔ پتہ نہیں جب انکوائری کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا اس وقت اس کے ذمے جو فرائض لگائے گئے تھے ان میں یہ معلوم کرنا تھا یا نہیں کہ آیا یہ من گھڑت کہانی ہے یا افشاء و حقیقت ہے جس کی اشاعت کے بارے میں تحقیقات کی جائیں گی کیونکہ اس کی اشاعت سے قومی سلامتی پر ضرب پڑتی تھی بلکہ قومی سلامتی (کے حصار میں) شگاف پڑتا تھا۔

چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے مواد میں جو کہانی بیان کی گئی ہے جس کے مطابق 3اکتوبر کے قومی سلامتی کے اجلاس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے درمیان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے مکالمہ ہوا تھا وہ یہ کہانی سراسر غلط ہے۔ ایسا کوئی مکالمہ کبھی نہیں ہوا اور سول انتظامیہ اور فوج کے درمیان دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے ہے۔ اگر چودھری نثار علی خان جب یہ مواد شائع ہوا تھا تب یہ بیان دے دیتے تو معاملہ بڑی حد تک رفع دفع ہو جاتا لیکن متذکرہ روزنامہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ''خبر'' کے صحیح ہونے پر قائم ہے۔ چودھری صاحب نے اس معاملہ کی نوعیت کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو تین دن کے اندر اندر یہ بتا دیں گے کہ اس من گھڑت مواد کے شائع ہونے میں کس کا ہاتھ ہے۔ پھر انہوں نے وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کی اپنے عہدے سے سبکدوشی کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ان کے خلاف یہ اقدام اس لیے کیا گیا کہ وہ خبر رکوانے میں ناکام رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سابق وزیر اطلاعات کو مواد کے شائع ہونے سے پہلے اس کا علم تھا ۔ اس خیال کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ خبر نگار نے جس اجلاس کے بارے میں خبر دی وہ 3اکتوبر کو ہوا تھا اور اس کی سٹوری 6اکتوبر کی اشاعت میں شائع ہوئی۔ اس دوران خبر نگار سٹوری کی توثیق حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ یہ بات خود خبر نگار نے لکھی ہے۔ اسی دوران اس نے سابق وزیر اطلاعات سے بھی توثیق حاصل کرنے کی کوشش کی ہوگی اورقیاس چاہتا ہے کہ حکومت ذمہ دار ترجمان ہونے کی حیثیت سے انہوں نے توثیق نہیں کی ہو گی اور خبر نگار نے اس کے باجود سٹوری شائع کردی۔ اخبار کے اس اقدام کے بعد لامحالہ سابق وزیر اطلاعات کا فرض تھا کہ وہ اس مواد کے حوالے سے تردیدی بیان جاری کرتے۔ لیکن ان کی طرف سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ڈان کے خبر نگار نے سابق وزیر اطلاعات سے زیرِ نظر مواد کی توثیق چاہی تو کیا انہیں یہ احساس نہیں ہوا ہوگا کہ یہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے۔ چودھری نثار علی خان کہتے ہیں کہ سابق وزیر اطلاعات خود بھی انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انکوائری کمیٹی دس پندرہ نکات پر مشتمل ایک سوالنامہ تیار کر رہی ہے جو ان لوگوں کو دیا جائے گا جن سے کمیٹی معلومات حاصل کرنا چاہے گی۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سوالنامہ کس کس کو ارسال کیا جائے گا اور کس کس کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا جائے گا۔ ان افراد کا تعین کون کرے گا؟ اور کس بنیاد پر کیا جائے گا؟ چودھری صاحب نے کہا ہے کہ روزنامہ ڈان کی ایڈیٹر سے رابطہ کیا گیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ خبر نگار کو جو آج کل امریکہ میں ہے واپس آنے کے لیے کہا جائے گااور یہ توقع ہے کہ وہ ایک ہفتہ میں واپس آ جائے گا اور کمیٹی کے سامنے پیش بھی ہوگا۔ لیکن روایت اور قانون اسے تحفظ دیتا ہے کہ وہ اپنے ذرائع کا انکشاف نہ کرے۔ اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے ذرائع کا نام بتائے جو اس کے نزدیک اس قدر معتبر تھے کہ اس نے ان کے معتبر ہونے کے سامنے مذکورہ اجلاس میں مبینہ طور پر شریک اعلیٰ شخصیات کی طرف سے تردید کو بھی اہمیت نہیں دی۔ البتہ اس نے سٹوری میں یہ بتا دیا کہ اس نے توثیق چاہی لیکن تردید کی گئی۔ اس کے بعد انکوائری کمیٹی کے سامنے ایک ہی سوال رہ جاتا ہے کہ یہ من گھڑت اور خانہ ساز یا ٹکڑے جوڑ کر بنائی ہوئی کہانی کس نے تیار کی اور کس نے خبر نگار کویہ یقین دلایا کہ جو کچھ اس کے ذریعے اشاعت کے لیے دیا جارہا ہے وہ اس کی حاصل کردہ تردید کے باوجود وقیع ہے۔ یہ کوئی اعلیٰ یا بااثر شخصیات ہی ہو سکتی ہیں۔ ان تک رسائی ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم کے مشیر مصدق ملک نے ایک تازہ ترین ٹاک شو میں کہا ہے کہ یہ سٹوری مختلف اجلاسوں کی کارروائی کے ٹکڑے جوڑ کر گھڑی گئی ہے اور اس طرح یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ نہ صرف 3اکتوبر کے اجلاس میں بلکہ اس سے پہلے کے اجلاسوں میں بھی اسی نوعیت کی باتیں ہوتی رہی ہیں جن کو جوڑ کر کسی نے وہ زیرِنظر سٹوری مرتب کی ہے۔ ان ذمہ داروں سے درخواست کرنے کو جی چاہتا ہے کہ بس کریں اور تاویلیں پیش نہ کریں۔ چودھری نثار علی خان جب بھی اس بارے میں کوئی پریس کانفرنس کرتے ہیں تو لامحالہ اس کی خبر دیتے ہوئے یہ حوالہ دینا پڑتا ہے کہ یہ بات چودھری صاحب نے اس سٹوری کے حوالے سے کی ہے جس میں وہ سب کچھ بیان ہوا تھا جسے فوج کے کمانڈر قومی سلامتی میں شگاف قرار دیتے ہیں۔ یہ عمل بار بار ہو رہا ہے اس لیے جو بھی تحقیقات کرنی ہے وہ کر لی جائیں اور جلد کر لی جائیں تاکہ معاملہ ایک طرف لگے۔

متعلقہ خبریں