Daily Mashriq


ضعیف العمر گورنر سندھ

ضعیف العمر گورنر سندھ

کسی بھی ادارے کو چلانے کے لیے متعدد افراد کی ضرورت ہوتی ہے،اس لیے افراد کو بھرتی کرنے سے پہلے چند باتوں کا ازحد خیال رکھا جاتا ہے تاکہ ادارہ ترقی کی منازل طے کرے۔ موجودہ دور میں بھرتی کے عمل میں سب سے زیادہ جس بات کو اہمیت دی جاتی ہے وہ تعلیم ہے۔ چند ایک ادارے ایسے ہیں جنہوں نے کم ازکم تعلیم کی قید گریجویشن رکھی ہوئی ہے جب کہ ایسے ادارے بھی ہیں جو کم ازکم ماسٹر والے افراد کو ترجیح دیتے ہیں۔ تعلیم کے بعد جسمانی تندرستی کو اہمیت دی جاتی ہے اور آج کل کے متعدد ادارے خوبرو نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو فوقیت دیتے ہیں بلکہ ان کے اشتہارات میں بھی یہی قید ہوتی ہے کہ صرف خوبرو لڑکے اور لڑکیاں ہی درخواست دینے کے اہل ہیں۔ سرکاری اداروں میں ایک یا دو فیصد تک معذورین کا کوٹہ مختص ہوتاہے۔ جب کہ پرائیویٹ سیکٹر میں معذورین کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جس طرح افراد کو بھرتی کرنے کا عمل ہوتا ہے اسی طرح ریٹائرمنٹ کے لئے بھی عمر کی حد مقرر کی گئی ہے۔ سرکاری اداروں میں یہ حد ساٹھ سال کی ہے جب کہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی لگ بھگ اسی کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ 

سرکاری اداروں میں چند برسوں سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر اعلیٰ افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد اداروں کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے یا پھر اسی ادارے میں ڈیلی ویجزملازم کے طور پر رکھ لیا جاتاہے۔ حالانکہ ریٹائرمنٹ کی عمر کی تعین سوچ سمجھ کر کی گئی ہے اور اوسط عمر کا خیال کرکے کی گئی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس عمر میں چونکہ اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں ، کام کرنے کی سکت نہیں رہتی اس وجہ سے ملازمت سے باعزت اور اعزاز کے ساتھ پینشن اور بونس دے کر رخصت کر دیا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بوڑھے ملازمین کو عہدوں پر برقرار رکھنے کا نقصان جہاں نوجوانوں کو ہوتا ہے کہ ان کے لیے اداروں میں جگہ نہیں بن پاتی اس کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کا نقصان بھی ہوتا ہے کیونکہ ساٹھ سال کے بعد عموماً انسان میںامور کو نمٹانے کی سکت نہیں رہتی۔ جب کہ اس کے برعکس نوجوان بھرپور انرجی کے ساتھ امور کو بخوبی نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سرکاری ملازمین ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کیوں شروع کرتے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کرنے سے بہت سوں کوپرانی سرکاری رہائش گاہ رکھنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ کار اور ڈرائیور بھی پاس رہتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی اکثریت ایسوں کی بھی ہے کہ جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ذاتی گھر بنایا اور اسے کرائے پر چڑھا دیا جب کہ سرکاری رہائش گاہ میں خود رہائش پذیر رہے۔ یہ بنیادی وجوہات اور مراعات ہیں کہ جن کی بنا پر ریٹائرڈ سرکاری ملازمین دوسری انگز کے لیے سرکار کی ملازمت اختیار کرتے ہیں۔

گزشتہ دنوں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو عہدہ سے ہٹایا گیا' کن وجوہات کی بنا پر ہٹایا گیا یا درپردہ کیا عوامل کارفرما تھے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ عشرت العباد کو عہدہ سے ہٹائے جانے کے بعد جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی نے ضعیف العمری میں سندھ کے 31ویں گورنر کا حلف اٹھا لیا ہے۔ سعید الزمان صدیقی 1980ء میں رکن الیکشن کمیشن آف پاکستان رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا اور قبل ازیں وہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سابق صدر آصف علی زرداری کے مدِمقابل صدارت کے امیدوار بھی تھے۔ گو کہ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی اعلیٰ عدلیہ سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہ کر خدمات سر انجام دے چکے ہیں، طویل تجربہ کے ساتھ ساتھ زمانے کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پرجسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی کی جو تصاویر گردش کر رہی ہیں ان تصاویر میں وہ انتہائی نحیف دکھائی دیتے ہیں۔ خرابی صحت کے باوجود اور عمر کے اس حصہ میں انہیں بھاری ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ جس حصہ میں عام طور پرانسان کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے اس عمر میں عام طور پر حافظہ کمزور پڑ جاتا ہے،سعید الزمان صدیقی چونکہ اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ منسلک رہے ہیں اس لئے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کسی مقدمہ یاکیس کے گواہ بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ حافظہ درست ہو۔ اگر حافظہ درست نہیں بلکہ نسیان کی بیماری لاحق تو ایسے شخص کی گواہی بھی مشکوک ٹھہرتی ہے' گواہی کا تعلق اور نفع نقصان صرف فریقین تک محدود ہوتا ہے جب کہ ذمہ داری یا عہدہ سپرد کرنے سے لاکھوں' کروڑوں لوگوں کا نفع نقصان شامل ہوتا ہے۔ اس لیے عہدہ سپرد کرنے سے قبل تعلیم اور دیگر باتوں کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھا جانا بھی ازبس ضروری ہے کہ جسے عہدہ سپرد کیا جارہا ہے کیا اس کی ذہنی اور جسمانی حالت اس قابل ہے کہ وہ فرائض منصبی کی انجام دہی کر سکیں۔ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی کی قابلیت اور صلاحیت کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں لیکن کیا حکومت کے پاس اس قدر قحط الرجال ہے کہ پورے صوبہ میں اسے نحیف سعید الزمان صدیقی کے علاوہ کوئی شخص دکھائی ہی نہیں دیا۔ سعید الزمان صدیقی کو گورنر کے عہدے کے لیے کیوں منتخب کیا گیا اس کی وجوہات جاننے کی ہمیں ضرورت نہیں لیکن ایک بات جو روز روشن کی طرح عیاں ہے وہ یہ ہے کہ 83سال کے ضعیف العمر شخص کو اہم ذمہ داری سونپنا اس شخص کے ساتھ ناانصافی ہے۔

متعلقہ خبریں