شیزوفرینیا کی ماری امریکی قوم

شیزوفرینیا کی ماری امریکی قوم

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوگئے ۔ اس انتخاب نے ایک طوفان بر پا کر دیا ہے ۔ امریکہ میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ دنیا بھی حیران ہے کیونکہ امریکہ جن خیالات کی غمازی کرتا ہے اس سے ڈونلڈ ٹرمپ کا منتخب کیا جانا کسی صورت بھی میل نہیں کھا تا ۔ مسلسل نفرت کی بات کرنے والا ، تعصب کو فروغ دینے کے ارادوں کا برملا اظہار کرنے والا، امریکہ کا صدر کیونکر ہو گیا ۔ یہ بات ابھی تک امریکی عوام کو سمجھ نہیں آئی ۔ حالانکہ انہیں سمجھنا چاہیئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب دراصل ایک بہت بڑی حقیقت ہے ۔ اور امریکہ کے اصل کا آئینہ ہے ۔ وہ ملک جو کئی سو سالوں کے بعد ایک کالے رنگ کے صدر کو بمشکل منتخب کرتا ہے ، اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کون لوگ ہیں اور ان کی اصل حقیقت کیا ہے ۔ یہ لوگ جو خود کئی ملکوں سے نکالے گئے محروموں کی اولاد ہیں ۔ا ن لوگوں میں تعصب کیوں نہ ہوگا ۔ یہ تو تعصب کی گود میں پلنے والے بے نسل کے لوگ ہیں جواب امریکی کہلاتے ہیں ، انکے کہنے اور یقین رکھنے میں بہت تفاوت ہے ۔ یہ لوگ ایک عجب سی خوش فہمی کا شکار ہیں ۔ اپنے آپ کو بہتر ین سمجھنے والے یہ لوگ کتنی کثا فتوں کا شکار ہیں انہیں خود بھی اس کا اندازہ نہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو منتخب کرنے والے یہ ہی لوگ ہیں ۔ یہ صرف اپنے بارے میں جس غلط فہمی کا شکار تھے اس کا ملمع اترنے پر پریشان ہیں ۔ یہ ہنگامے اور احتجاج جو امریکہ کے مختلف شہروں میں دکھائی دیتے ہیں اس بات کے غماز ہیں کہ یہ لوگ اپنی اس دوسری شخصیت سے آگاہ ہی نہیں تھے ۔ اور یوں اچانک اپنی اصل شکل سامنے آجانے پر حیران ہیں ۔ اس گو مگو کی کیفیت کا شکار ہیں کہ یہ سب کیا ہوگیا اور کس نے کر دیا ۔ ایسے جیسے کوئی شیزوفرینیا کا شکار بیمار شخص اپنی دوہری شخصیت سے بے خبر ہوتا ہے ۔ اور جب اسے اسکی بیماری کا احساس دلایا جاتا ہے ۔جب اسے بتایا جاتا ہے کہ اسکی اصلیت کیا تھی تو وہ حیران ہوجاتا ہے ۔ اسے خود بھی یقین نہیں آتا کہ اسکے بارے میں جو بات اسے ہی بتائی جارہی ہے اس میں کس قدر حقیقت ہے ۔ اس کی فہم اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو جس شخص کے طور پر جانتا ہے ، اسکی حقیقت اسکے سوا کچھ اور بھی ہو سکتی ہے ۔ اس ذہنی کشمکش میں وہ کئی بار معالج کو بھی اپنا دشمن سمجھتا ہے اور سارے سچ کو من گھڑت کہانی پر بھی تعبیر کرتا ہے ۔ اسے لگتا ہے کہ اس سے کوئی بہت بڑا فائدہ حاصل کرنے کے لئے ، یا خود اس کو تبا ہ وبر باد کرنے کے لئے یہ سارا ڈرامہ رچایا جارہا ہے ۔ وہ یہ سب کر ہی نہیں سکتا اور اسے کوئی بیماری بھی لا حق نہیں ۔ وہ اپنے دوستو ں کو بھی اپنا دشمن سمجھنے لگتا ہے ۔ اور ابتدائی طور پر اس بیماری سے لڑنے کے بجائے اپنے ماحول ، اپنے دوستوں ، اپنے خاندان ، اپنے اہل خانہ سے اُلجھنے لگتا ہے ۔ اسکے بعد آہستہ آہستہ جب اسے بار بار حقیقت کا سامنا کروایا جاتا ہے تو بمشکل ہتھیار ڈالتا ہے اور خود اپنے ہی علاج پر راضی ہوتا ہے ۔ علاج کا مرحلہ اسکے بعد آتا ہے ۔ امریکی قوم ایک ایسی ہی کیفیت کا شکار ہے ۔ ایک ایسے ہی مسئلے سے گتھم گُتھا ہیں ۔ جو کچھ وہ اپنی نا دانی اور تعصب کی دوہری شخصیت کے زیر اثر پسند کرتے ہیں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں انکے سامنے موجود ہے ۔ لیکن انکے لیے یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ سارا انہی کا کیا دھرا ہے ۔شیز فرینیا کی ماری اس قوم کی حیرت دید نی ہے ۔ وہ اس سچ کا رد عمل بھی دے رہے ہیں ۔ ہنگا مے ، احتجاج ، دھرنے ، سب ہی ہو رہا ہے ۔ آہستہ آہستہ جب سچ ان کے دل و دماغ میں گھر کرے گا کہ یہ سب انہی کا کیا دھر ا ہے تو معاملات اسکے بعد انکے لیے ایک دوسری نہج پر گامزن ہونگے ۔ اس وقت تو امریکی پریشان ہیں ۔جب ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہائوس سنبھالیں گے اسکے بعد اندازہ ہونا شروع ہوگا کہ امریکہ کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کیا ہیں اور امریکہ کا مستقبل کیا ہونے والا ہے ۔ کئی پریشانیاں ابھی امریکیوں کے لئے واضح نہیں ۔ابھی تو وہ اپنا امیج اپنی نظروں میں خراب ہو جانے کے دکھ میں مبتلا ہیں ۔ وہ تو اپنی نظروں میں بڑے عظیم لوگ ہیں ۔ مجھے یاد ہے ، امریکہ میں sandiagoکی طرف جاتے ہوئے میںنے ایک اشتہاری بورڈ دیکھا جس پر لکھا تھا (in America, every thing is big , even the peas.)امریکہ میں ہر شے بڑی ہے یہاں تک کہ مڑبھی ۔ اس جملے میں امریکی نفسیات دکھائی دیتی ہے ۔ وہ اپنی عظمت کے احساس سے بھر پور لوگ ہیں ۔ امریکہ کی معیشتی ترقی نے انہیں اس زعم میں گرفتار کر رکھاہے ۔ انہیں اسی لیے تو چین کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔ اس برتری کے احساس نے انہیں کبھی کسی ملک کا دوست نہیں بننے دیا ۔ وہ مسلسل چھپی ہوئی دشمنیاں نبھاتے رہے ہیں ۔ بظاہر لوگ انہیں اپنا دوست سمجھتے ہیں جبکہ در پر دہ اپنے ہی دوستوں کو شیشے کے بکس میں ، مرتبان میں بند کرتے رہے ہیں تاکہ کوئی اور ان سے آگے نہ نکل جائے ۔ اپنے لوگوں کو عظمت اور بڑائی کے سراب میں مبتلا کرکے یہ دوسرے ملکوں کو دھوکہ دینے اور انکی جڑیں کاٹنے کے عمل میں مصروف رہے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ انکے معاشرے کی اس دو رخی کا اصل چہرہ ہے ۔ وہ جو کہتا ہے وہ امریکہ کی اصلیت ہے ۔ اس کے لہجے کی نفرت امریکہ کی روح کا بھید ہے ۔ یہ وہ کڑوا سچ ہے جو امریکہ کی شخصیت کو تباہ کر کے رکھ دے گا ۔ یہ وہ سچ کا زہر ہے کہ جس کو پی کر امریکہ اپنی ترقی کے تمام تر ہرے رنگوں سمیت تاریخ کی قبر میں دفن ہو جائے گا ڈونلڈ ٹرمپ ، امریکہ کی شکست کا پہلا علم ہے ، ٹرمپ کا وہ پتہ ہے جس میں دوسروں کی فتح پوشیدہ ہے ۔ امریکہ اپنے دوغلے پن سمیت اب گمنامی کے سفر کی جانب پہلا قدم اٹھائے گا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ خوش آمدید ۔ امریکہ خدا حافظ ۔

متعلقہ خبریں