Daily Mashriq

سیاسی اپ سیٹ

سیاسی اپ سیٹ

وقت زندگی کا ایک بھرپور استعارہ ہے ۔اس وقت کی ایک اہم خاصیت یہ ہے کہ وقت تبدیلی کا خوگر ہے اور یہ تبدیلی ناگزیر صورت رکھتی ہے ۔ یہ وقت ہی ہے جو حالات کو تبدیل کردیتا ہے ۔ روس امریکہ کا مشترک سپر پاور تھا آج وہ سپر پاور نہیں رہا ۔یونان کا سکندراعظم دنیا کا فاتح تھا لیکن اب یونان دنیا کے نقشے پر ایک ملک تو ہے لیکن وہ سقراط ،افلاطون ،ارسطواور سکندر والی عظمتوں سے عاری ہے ۔ بغداد جو کبھی طاقت اور علم کا گہوارہ تھا اب وہاں بارود کی بوہر سو پھیلی ہوئی ہے۔یہ وقت ہی ہے جو قوموں کی قسمتوں کا فیصلہ کرتی ہے ۔ اور قومیں ہی کسی ہٹلرکوپید اکرتی ہیں جو خود قوم ہی کی حزیمت کا باعث بنتی ہیں ۔ وقت کے دائرے میں تاریخیں گھومتی رہتی ہیں اور یہ تاریخیں بظاہر عام سے اعداد ہی ہوتے ہیں لیکن اعداد کا یہ مجموعہ قوموں کو اور کبھی کبھی دنیا کو ہی تبدیل کرکے رکھ دیتے ہیں۔ہندوستان کی تاریخ میں 1857ئاور 1947ء کی تاریخیں کتنی اہمیت رکھتی ہیں یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ1857 ئکی تاریخ ہی 1947ء کی بنیاد رکھ رہی تھی ۔ امریکہ جو روس کے بعد واحد عالمی طاقت بناتھا اور جسے اپنی طاقت پرناز بھی تھا وہی امریکہ 2001میں 9/11 کا شکار ہوا تو اس تاریخ دنیا کی تاریخ اور کہیں کہیں جغرافیہ بھی بدل دیا ۔ نائن الیون کو گزرے چودہ برس ہوچکے ہیںاور چودہ برسوں میں دنیا اتنی تیزی کے ساتھ تبدیلی کے سفر پر نکلی ہے کہ وہ سفر تاحال مکمل نہیں ہوپایا ۔دنیا کے بہت سے ممالک ابھی تک اس کی زد میں ہیں ۔ خاص طور پر مسلم ممالک تشدد،عدم برداشت اور قرقہ واریت کی ایک نہ ختم ہونے والی لہر میں نامعلوم سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ مغربی ممالک کے لوگ بھی انہونی کے خوف میں مبتلا ہیں ۔ دنیا نے نویںمہینے کی گیارہ تاریخ کو امریکہ کے شہر کے جڑواں ٹاورز سے جوجہازٹکڑاتے ہوئے دیکھے اسی دنیا نے گیارہویں مہینے کی نویں تاریخ کو امریکہ کے سب سے طاقتور منصب پر ایک ایسے شخص کو بیٹھا دیکھا کہ جو روایتاً قطعی اس منصب کا اہل نہ تھا۔لیکن اہل امریکہ نے اسے وہ منصب عطا کردیا کہ جس کے بارے سب بڑے سیاسی پنڈت یک زبان تھے کہ ٹرمپ کی جیت اپ سیٹ ہوگی ۔ سودنیا نے ایک بہت بڑا اور بہت اہم سیاسی اپ سیٹ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ امریکہ کا یہ صدارتی الیکشن پچھلے تما م انتخابات سے اس لیے نرالہ تھا کہ اس میں ٹرمپ روزاول سے ایک متنازعہ کردار کی حیثیت کے ساتھ شامل ہوا۔ پہلے اپنی پارٹی میں صدارتی امیدوار کی جنگ جیتا اورپھر ہیلری کوبھی مات دے گیا ۔وہ امریکی قوم جو ٹرمپ ہی کی مخالف ہیلری کے شوہر بل کلنٹن کے مونیکا لوینسکی کے ساتھ منکشف ہونے والے سکینڈل کو برداشت نہ کرسکی تھی اور کلنٹن کے مواخذے کی نوبت آپہنچی تھی لیکن چند ہی برسوں میں اسی قوم نے ایک آلودہ شخص کو اپنا صدر منتخب کرلیا ۔آخر چند برسوں میں ایسی کیا بات ہوئی جو امریکی رجحانات کو تبدیل کرگئی ۔تو اس کا جواب میرے نزدیک تعصب ہے ۔ ٹرمپ ایک بزنس مین ہے اور ایک کامیاب بزنس مین وہی ہو سکتا ہے جو اچھے اندازے لگاسکے ۔کیونکہ اندازے ہی مارکیٹ کو سمجھ سکتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکی عوام کو جس نام نہاد عفریت سے ڈرا کر کمزور ملکوں پر حملوں کا جواز تلاشا گیا تھا یہی جواز ٹرمپ نے ایک کامیاب کاروباری کی طرح کیش کیا۔ اس نے مسلمانوں پر مسلط دہشت گردی کے غلط تاثر کو اپنا ہتھیار بنایا ۔اس نے امریکہ میں دوسرے ممالک سے آئے لوگوں کے لیے نفرت آمیز کلمات کہے ۔اس نے امریکی عوام کے اس خوف کو اپنی انتخابی مہم کی بنیاد بنایا ۔ٹرمپ کی انتخابی مہم کسی طور بھی ایک سنجیدہ مہم نہیں لگتی تھی اسی لیے سنجیدہ حلقے ٹرمپ کو ہیلری کے لیے ایک ترنوالہ سمجھ بیٹھے تھے ۔ٹرمپ کسی شخص کا نام نہیں بلکہ ایک رجحان ہے جوبنیادی طور امریکی خارجہ پالیسیوں کے بطن سے پیدا ہے ۔ امریکہ کی وہ پالیسیا ں جس نے پوری دنیا کو کنفیوز کررکھا ہے انہی پالیسیوں سے ردعمل میں خود امریکی بھی کنفیوز ہوچکے ہیں اور ٹرمپ اسی کنفیوژن کا ثبوت ہے ۔یوں تو اپنی انتخابی مہم میں اس نے مختلف حوالوں سے کئی بار اپنے بیانات تبدیل کیے ہیں ،جیسے اس نے پاکستان کے بارے میں سخت ترین الفاظ بھی استعمال کیے ہیں اور ایک ویڈیومیں اسے آئی لویو پاکستان کہتے ہوئے بھی سنا گیا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے لمحہ فکریہ ہوگا۔ہر حکومت اس حکومت کے حوالے سے بہت تدبر کرے گی کیونکہ ابھی تک اس کی شخصیت اور اس کے عزائم واضح نہیں ہیں ۔یہ بات بھی طے کہ سیاست دانوں کی الیکشن کی باتیں اور ہوتی ہیں اور جب وہ منصب اقتدار پر بیٹھتے ہیں تو حقائق کچھ اور ہوتے ہیں ۔دیکھتے ہیں کہ امریکی تھنک ٹینک ٹرمپ پر اثرانداز ہوتے ہیں یا ٹرمپ ان تھنک ٹیکس پر ۔اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ ٹرمپ امریکی عوام کی توقعات پر کس حدتک پورا اترتا ہے کیونکہ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ امریکی عوام اس الیکشن میں بہت بڑا داؤ کھیل گئے ہیں۔

اداریہ