Daily Mashriq


سی پیک روٹ، میانوالی مکینوں کے تحفظات

سی پیک روٹ، میانوالی مکینوں کے تحفظات

چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک ) منصوبے کے تحت تحصیل میانوالی کی 9ریونیو اسٹیٹس میں اراضی کے لازمی حصول کا نوٹیفیکشن جاری کردیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے جاری ہونے سے سی پیک کے روٹ کے بارے میں پائے جانے والے ابہام کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح اراضی کے حصول کا ایک نوٹیفکیشن تحصیل عیسٰی خیل میں بھی جاری کیا گیا ہے۔ پچھلے سال جب سی پیک کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت سے ہی سی پیک کے روٹ کے بارے میں ایک بحث چھڑ گئی تھی لیکن حکومت اس سارے معاملے میں خاموش رہی اور اب جا کر اس نوٹیفیکشن کے ذریعے یہ پتہ چلا ہے کہ ضلع میانوالی کو بھی کوریڈورکا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ بااثر افراد کو اس بارے میں پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا کیونکہ پچھلے چند مہینوں میں بڑے تاجروں نے ان علاقوں میں زمین کی خریداری شروع کردی تھی۔حلقہ پی پی۔ 44 کے ایم پی اے ڈاکٹر صلاح الدین خان کا کہنا ہے کہ سی پیک کا پیکج ۔3 ان کے حلقے سے گزرنا ہے لیکن نیشنل ہائی ویز اتھارٹی نے ان کو اس بارے میں کسی بھی تفصیل سے آگاہ نہیں کیا۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پچھلے کچھ عرصے سے بڑے پیمانے پر زمین کی خرید وفروخت جاری ہے اور پیکج۔3 کی معلومات کو خفیہ رکھنے کا مقصد زمین کے خریداروں کو فائدہ پہنچانا ہے ۔ مذکورہ نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے زمین فروخت کرنے والے زمینداروں کا کہنا ہے کہ انہیں مارکیٹ ریٹ یا مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر اراضی فروخت کرنے کی ترغیب دی گئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زمین فروخت کردی۔ اس ہفتے نوٹیفیکشن کے اجراء کے بعد اس علاقے کی اراضی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں ۔ ضلع میانوالی کے کئی مکینوںکا کہنا ہے کہ انہیں بڑے پیمانے پر ہونے والی اراضی کی فروخت سے شک ضرور ہوا تھا لیکن یہ بات ان کے وہم و گما ن میں نہیں تھی کہ میانوالی کو سی پیک روٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔میانوالی میں بڑے پیمانے پر اراضی خریدنے والوں میں ایک آٹو انڈسٹری کا مالک، ایک بزنس ٹائیکون، جس نے اب رئیل اسٹیٹ میں بھی اپنے قدم جمانا شروع کردئیے ہیں، اوربرسرِ اقتدار فیملی کا ایک ممبر شامل ہیں۔ زمین بیچنے والے ایک زمیندار کا کہنا ہے 'ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چالاک تاجروں نے ہم سے ہماری قیمتی زمین ہتھیا لی ہے ۔ ' نوٹیفیکشن جاری ہونے سے پہلے مسن موضع میں ہزاروں ایکڑ بارانی زمین کی خرید وفروخت کی گئی ۔اس علاقے میں ایس۔اے۔ایس نامی کمپنی نے 6000 کنال،راولپنڈی کے خالد ندیم نے13000 کنال اور حاجی سکندر نے 600کنال اراضی خریدی۔ 30 مئی 2015ء کو ہونے والے زمین کے ایک انتقال کے مطابق سردار اویس لغاری کی بیوی ارجمن لغاری نے موضع مسن میں انتقال نمبر 230 اور 244 کے تحت 424 کنال اور 422کنال اراضی کے دوبڑے ٹکڑے خریدے تھے۔ جن لوگوں کی زمین سی پیک روٹ کا حصہ بننے والی ہے ان زمینداروں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی زمین کی اصل قیمت کے مقابلے میں بہت کم قیمت کی آفر کی گئی ہے۔میانوالی کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حسین رانا سی پیک کے لئے زمین کے حصول کے عمل کی نگرانی کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ پیکج۔2 اور پیکج۔3 کے تحت سی پیک روٹ کا 96 کلومیٹر حصہ تحصیل میانوالی اور تحصیل عیسیٰ خیل سے گزرے گا۔ پیکج۔2 کے تحت 51 کلومیٹر تحصیل عیسیٰ خیل جبکہ پیکج ۔3 کے تحت 45 کلومیٹر تحصیل میانوالی میں شامل ہے۔ پیکج۔3 کے تحت تحصیل میانوالی سے گزرنے والاروٹ تحصیل کے 9 گائوں پر مشتمل ہے جن میں مسن، بانی افغان، پیر پہائی، نکی، پکی شاہ مردان، ٹھٹھی، ڈھیر امید علی شاہ اور پائی خیل کچا شامل ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ لینڈ ایکوزیشن اتھارٹی نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1984ء کے سیکشن 4 کے تحت زمین مالکان کواراضی خالی کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پرائس اسیسمنٹ کمیٹی نے اراضی کی قیمت کے اعدادوشمار بورڈ آف ریونیو پنجاب کو بھیجے تھے اوربورڈ آف ریونیو کی جانب سے طے کردہ اراضی کی قیمت کو عام اعلان کے ذریعے زمینداروں تک پہنچا دیا گیا ہے۔ مختلف موضعوں میں اراضی کی قیمت مختلف ہے جو 2500سے لے کر 160000 روپے فی کنال کے درمیان ہے۔سی پیک روٹ کے لئے تحصیل میانوالی میں 7879 کنال اراضی لی گئی ہے جبکہ تحصیل عیسیٰ خیل میں اس وقت اراضی کے حصول کا عمل جاری ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر میانوالی کے مطابق اراضی کا حصول ایک نہایت شفاف طریقہ کار کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔ ڈھیر امید علی شاہ کے رہائشی حق نواز کا کہنا ہے کہ ان کا گائوں زمین کی سطح سے نیچے واقع ہے جس کی وجہ سے ہر سال بارشوں کے موسم میںان کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نہر تھل ان کے گائوں کے مشرق میں بہتی ہے جبکہ سی پیک روٹ گائوں کے مغرب میں تعمیر کیا جائے گا جس کی وجہ سے روٹ کی تعمیر کے بعد بارشوں کے موسم میں ان کا گائوں ایک جھیل بن جائے گا۔ انہوں نے سی پیک حکام سے مطالبہ کیاکہ روٹ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ان کے گائوں سے پانی کی نکاسی کاانتظام بھی کیا جائے۔ لیکن دوسری طرف سردار خان نیازی جیسے لوگ میانوالی سے سی پیک کے روٹ کے گزرنے کو ضلع کے لئے ایک نعمت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

(بشکریہ ڈان ،ترجمہ اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں