Daily Mashriq


قولی نہیں عملی احتساب کیا جائے

قولی نہیں عملی احتساب کیا جائے

وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بدعنوانی کیخلاف نرمی دکھائی تو یہ ووٹر سے غداری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں احتساب کا عمل مزید تیز ہوگا، زرداری اور شریف خاندان سے پیسے نکلوانے سے مالی بحران حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ وزیراعظم عمران خان کرپشن انکشافات سے متعلق ویڈیو پیغام دینے جا رہے تھے جسے مؤخر کر دیا گیا۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری کے احتساب کے عمل میں تیزی آنے کا عندیہ یقیناً حوصلہ افزاء امر ہے کہ موجودہ حکومت کب شفاف اور بے رحم احتساب کا وعدہ پورا کرتی ہے۔ موجودہ حکومت اور خاص طور پر وزیراطلاعات اور بعض وزراء کی تان ہی بدعنوانی کے الزامات اور چور وڈاکو کے الفاظ پر ٹوٹتی ہے۔ ایک سانس میں جہاں وہ اس قسم کا اظہار خیال کرتے ہیں وہاں دوسری سانس میں وہ خود ہی اپنے مؤقف کا اپنی زبان، قول اور فعل کی یہ کہہ کر تردید بھی کرتے ہیں کہ شریف خاندان اور زرداری خاندان پر کرپشن وبدعنوانی کے مقدمات موجودہ دور حکومت کے قائم کردہ نہیں۔ نیز نیب خودمختار ادارہ ہے جس پر وزیراعظم سمیت کسی کا کنٹرول نہیں مگر ساتھ ہی وہ نیب کی ترجمانی کی حد تک بھی بیانات دیتے ہیں جو مغالطے اور مخالفین کی جانب سے نیب کی جانبداری پر اُنگلیاں اُٹھانے کا باعث ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب کے عمل کی جس طرح عوام کی موجودہ حکومت سے اُمید تھی اور جو بلند وبانگ دعوے کئے جاتے رہے اور کئے جا رہے ہیں اس کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت احتساب کے عمل کو بیان بازی کا ذریعہ بنانے اور الفاظ کی حد تک چور وڈاکو کے القابات دینے کی بجائے عملی طور پر تحقیقات اور ٹھوس شواہد کے ذریعے جاری مقدمات میں نیب کیلئے شفاف اور عملی اعانت کا باعث بنے تاکہ محض لفظی نہیں بلکہ عملی طور پر بدعنوان افراد کو بے نقاب کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیزمیں دو سابق حکمران جماعتوں کی اعلیٰ قیادت ہی بدعنوان نہیں مگر یہ بھی انصاف نہیں کہ ان کو مسلسل چور اور ڈاکو تو قررار دیا جائے مگر عملی طور پر ان پر یہ ثابت نہ کیا جائے اس طرح کی صورتحال اور حالات احتساب کے عمل کیلئے بھی اسلئے مناسب نہیں کہ محض الزامات سے ان عناصر کو اسے اپنے خلاف سیاسی پروپیگنڈہ قرار دینے کا موقع مل جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں اگر یہی دو خاندان یا جماعتیں ہی بدعنوان ہوتیں تو احتساب مشکل نہ تھا، بدقسمتی سے وطن عزیز میں بدعنوان اور قابل احتساب عناصر کی ایک طویل فہرست ہے جن کا احتساب اس وقت ہی شروع ہو سکے گا جب احتساب کو سیاست سے الگ کر کے حقیقی معنوں میں احتساب کا عمل بنا دیا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت کے تقریباً سو دنوں میں کسی ایک سیاسی شخصیت اور کسی ایک بدعنوان سرکاری افسر کیخلاف مقدمہ قائم کیوں نہیں کیا گیا۔ کیا حکومت کے پاس اس قدر بھی گنجائش نہیں کہ وہ بدعنوان عناصر کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے اقدامات کرے یا پھر کم ازکم قائم مقدمات میں ہی مثبت پیشرفت کی سعی کی جائے صرف دھڑکا دینے سے احتساب کی ضرورت پوری نہیں ہو سکتی۔ نیز احتساب کیلئے صرف نیب پر انحصار کافی نہیں حکومت کے دیگر اداروں کو بھی ان کے دائرہ کار کے تحت بروئے کار لایا جائے۔ ایک پوری فہرست ہے جس کے مطابق نیب نے اب تک پنسٹھ سیاسی رہنماؤں اور افسران کیخلاف تحقیقات کی ہے جن میں سے انیس کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ مذکورہ فہرست کے مطابق خیبر پختونخوا سے پہلے نمبر پر سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کیخلاف اختیارات کا ناجائز استعمال اور ہیلی کاپٹر کیس، غیر قانونی الاٹمنٹ، سابق وزیر امیر مقام کیخلاف آمدنی سے زائد اثاثے، سابق وزیراعظم کی مشیر عاصمہ عالمگیر اور ان کے شوہر ارباب عالمگیر خان کیخلاف آمدنی سے زائد اثاثے، سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی کیخلاف اختیارات کا ناجائز استعمال، مرید کاظم کیخلاف ریفرنس دائر، مسلم لیگی رہنما کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کیخلاف آمدنی سے زائد اثاثے، سینیٹر عثمان سیف اللہ34 آف شور کمپنیوں کے مالک، سابق پرائم منسٹر سیکرٹری اعظم خان کیخلاف اختیارات کا ناجائز استعمال، سابق وفاقی سیکرٹری نعیم خان کیخلاف توانا پاکستان کرپشن اسکینڈل کا ریفرنس، سابق آئی بی کے پی کے ملک نوید کیخلاف ریفرنس، سابق وفاقی سیکرٹری طارق حیات خان کیخلاف ریفرنس، سابق چیف سیکرٹری امجد علی خان کا اختیارات کا ناجائز استعمال، سابق مشیر برائے چیف منسٹر سکندر عزیز ریفرنس، سابق وزیر صاحبزادہ محمود زیب اختیارات کا ناجائز استعمال، تحقیقات، سابق وزیر شیراعظم کیخلاف ریفرنس، کمشنر برائے افغان تارکین وطن ضیاء الرحمن کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز، تحقیقات، سابق مشیر ملک قاسم آمدنی سے زائد اثاثے کی تحقیقات، پشاور کے ناظم اعلیٰ عاصم خان آمدنی سے زائد اثاثے، سابق سیکرٹری حفیظ الرحمن کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کیخلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔ محولہ فہرست میں وزیراعظم کے قریبی رفقاء اور اعلیٰ افسران کے نام شامل ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے عمل کا تذکرہ کیوں نہیں کیا جاتا اور اس ضمن میں کنی کترانے کا عمل کیوں اختیارکیا جا رہا ہے۔ احتساب بے لاگ اور شفاف اس وقت ہی کہلائے گا جب اس کا عمل یکساں طور پر آگے بڑھایا جائے گا اور اسے سیاست زدہ کرنے، سیاسی مقاصد اور تنقید کا ذریعہ بنانے کی بجائے حقیقی معنوں میں بدعنوان عناصر کوعدالتی کٹہرے سے بدعنوان قرار دلوایا جائے اور ان سے لوٹی ہوئی رقم نکلوائی جائے۔ اس امتیاز کے بغیر کہ وہ صف دوستاں میں ہے یا صف دشمناں میں، ان کا سیاسی تعلق حکمران جماعت کیساتھ ہے یا حزب اختلاف کی جماعتوں سے ان کا تعلق ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شفاف احتساب موجودہ حکومت کی ذمہ داری اور عوام کی اولین توقع ہے مگر جو طرز اور طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے اس سے نہیں لگتا کہ یہ بیل منڈھے چڑھے گی۔ البتہ حکومت یہ ضرور کرسکتی ہے کہ وہ ابتداء اور زیادہ توجہ دو سابق حکمران جماعتوں کی قیادت کو دے اور بااثر کے احتساب کی مثال قائم کرے۔

متعلقہ خبریں