Daily Mashriq

گیس پریشر کمی کا ابھی سے سنگین ہوتا مسئلہ

گیس پریشر کمی کا ابھی سے سنگین ہوتا مسئلہ

قومی اسمبلی اسد قیصر نے سردیوں میں پشاور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سوئی گیس کے کم پریشر پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ یہ معاملہ اس قدر سنجیدگی کا حامل ہے کہ حکومت کو ایس این جی پی ایل پی کے حکام کی لفظی یقین دہانی اور بریفنگ سے مطمئن نہیں ہونا چاہئے بلکہ زمینی حقائق کا ادراک ضروری ہے۔ بہرحال سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا خیبر پختونخوا میں گیس کے کم پریشر اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بندش پر متعلقہ حکام کی طلبی اورہدایات جاری کرنا سنگین سے سنگین تر ہوئے عوامی مسئلے کے بروقت حل کی سنجیدہ سعی ہے۔ حیات آباد سمیت بعض علاقوں میں گیس پریشر اور گیس سپلائی کا عمل بی آر ٹی کی تعمیر کے دوران باربار گیس پائپ لائنوں کی مرمت وتبدیلی کے وقت سے متاثر ہوا تھا جسے کمپنی اب تک بحال نہیں کرسکی ہے جس کے باعث سردی کی آمد آمد کیساتھ ہی گیس پریشر کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے۔ گیس پریشر کی کمی کے باعث ابھی سے گیس پریشر بڑھانے کیلئے کمپریسر کا استعمال کیا جا رہا ہے جو خطرناک ہونے کیساتھ ساتھ دوسروں کی حق تلفی کا بھی باعث بن رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں گیس کی کمی کے باوجود دیگر آبادیوں کو مزید گیس پائپ لائنوں کا بندوبست کئے بغیر گیس کی فراہمی کمپنی کی ایسی غلطی ہے جس میں سیاسی رہنما اور حکام بھی برابر کے شریک ہیں۔ جب تک اس قسم کی صورتحال کا تدارک نہیں کیا جاتا اور کمپنی مزید گیس پائپ لائنز بچھانے اور ان کی تکمیل کی بجائے بریفنگز میں یقین دہانیوں اور طفل تسلیوں پر اکتفا کرتی رہے گی یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ صوبے کی آبادی میں تیزی سے اضافہ اور مزید علاقوں کو گیس فراہمی کے تناسب سے گیس کا بندوبست کئے بناء جو بھی دعوے اور وعدے کئے جائیں گے الٹے بانس بریلی کو والا معاملہ ہوگا۔ گیس پائپ لائنز پر جہاں جہاں کام جاری ہے اس پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور گیس پریشر بڑھانے پر توجہ دی جائے اور اگر گھریلو صارفین کیلئے بکفایت گیس کی فراہمی ممکن نہیں تو سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی روک دی جائے جس سے سی این جی کے مہنگے ہونے کے باعث صارفین زیادہ متاثر نہیں ہوں گے جبکہ عوام کو بقدر ضرورت گیس میسر آئے گی۔

سٹریٹ کرائمز کی بڑھتی شکایات

صوبے میں مثالی پولیس کی مثالیں دینے میں اب کمی آجانی چاہئے کیونکہ جو پولیس شہریوں کی حفاظت اور برائیوں کی روک تھام نہ کرسکے اس کی کارکردگی کو مثالی بنا کر پیش کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں۔ ہمارے کرائمز رپورٹر کے مطابق پشاور میں سٹریٹ کرائمز اور دیگر جرائم کی بڑھتی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکار اب شہریوں کو اپنی مدد آپ کے تحت حفاظت یقینی بنانے کے مشورے دینے لگے جبکہ شام ہوتے ہی شہریوں پر تھانوں کے دروازے بھی بند کر دئیے جاتے ہیں جس سے شہریو ں کا پولیس پر سے اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران صرف تھانہ پہاڑی پورہ کی حدود سے پنجاب کے دو صنعتکاروں سمیت 3افراد کو تاوان کی غرض سے اغواء کیا گیا جبکہ مالاکنڈ سے آئے ہوئے تین دوستوںسے 1کروڑ سے زائد کی رقم اسلحہ کی نوک پر لوٹی گئی جبکہ موبائل فون اورنقدی چھیننے کے بھی متعدد واقعات رونماہوئے، اسی طرح شہر کے مختلف تھانوں میں روزانہ کی بنیاد پر سٹریٹ کرائمز کی وارداتیں رپورٹ ہو رہی ہیں مگر پولیس کی جانب سے تاحال قابو پانے کیلئے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ خیبر پختونخوا کی پولیس رفتہ رفتہ پرانی ڈگر پر واپس آرہی ہے اور شہریوں کی پولیس سے شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس کے مرکز شکایات پر بھی شکایت کرنے پر اب متعلقہ تھانے کے تھانیداروں سے بازپرس کی روایت باقی نہیں رہی اور نہ ہی شکایات کا مناسب نوٹس لیکر ان کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال توجہ کا متقاضی ہے جس کا پولیس چیف کو نوٹس لینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں