Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

بلال بن اسافؒ نے اپنے مہمان منذر بن یعلی ثوریؒ سے کہا:کیا میں آپ کو شیخ ربیع بن خثیمؒ کی زیارت کیلئے نہ لے چلوں ؟ تاکہ چند گھڑی ان سے ایمان و یقین کی باتیں ہوں۔منذرؒ نے کہا کہ کیوں نہیں ضرور چلیں‘ میں تو کوفہ آیا ہی اسلئے ہوں تاکہ آپ کے محترم شیخ ربیع بن خثیم کی زیارت کر سکوں اور کچھ عرصہ ایمان ویقین کے دل آویز ماحول میں گزارنے کی سعادت حاصل ہو سکے لیکن کیا ہمیں زیارت کی اجازت بھی مل سکے گی؟ کیونکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ جب سے ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے وہ اپنے گھر کے ہی ہوکر رہ گئے ہیں۔ بلال بن اسافؒ بولے! بات تو آپ کی درست ہے جب سے وہ کوفہ میں فروکش ہوئے ہیں ان کا طرزعمل ایسا ہی دیکھنے میں آیا ہے لیکن بیماری نے چنداں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے۔ حضرت منذرؒ نے کہا تو پھر ان کے پاس جانے میں کوئی حرج نہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہئے ان مشائخ کے مزاج بڑے ہی نرم ونازک ہوا کرتے ہیں آپ کی رائے کیا ہے کہ دوران ملاقات ہم شیخ سے سوالات کریں یا خاموشی سے بیٹھیں اور وہ جو اپنی مرضی سے بات کریں وہی سنیں، حضرت بلال بن اسافؒ بولے اگر آپ ربیع بن خثیمؒ کے پاس مکمل ایک سال تک بھی بٹھے رہیں وہ نہیں بولیں گے جب تک تم خود ان سے بات نہیں کروگے وہ قطعاً گفتگو میں پہل نہیں کریں گے کیونکہ ان کا کلام ذکر الٰہی پر مشتمل ہوتا ہے اور خاموشی غور وفکر پر مبنی ہوتی ہیں۔ حضرت منذرؒ نے کہا پھر آیئے اللہ کا نام لے کر ان کے پاس چلتے ہیں دونوں شیخ کے پاس گئے سلام عرض کی اور پوچھا جناب شیخ کیا حال ہے؟ ماہر طبیب آیا ہے اجازت ہو تو علاج کیلئے بلالیں۔ فرمایا: بلالؒ میں جانتا ہوں کہ دواء برحق ہے علاج کرنا سنت ہے لیکن میں نے عاد‘ ثمود‘ اصحاب رس اور ان کے درمیان آنے والی قوموں کے حالات کا بغور جائزہ لیا ہے میں نے دنیا میں ان اقوام کے لالچ اور دنیاوی ساز وسامان میں ان کی حریصانہ دلچسپی کو دیکھا ہے وہ ہم سے زیادہ طاقتور اور صاحب حیثیت تھے ان میں ماہر اطباء بھی موجود تھے وہ لوگ بیمار بھی ہوتے تھے اب دیکھئے نہ کوئی معالج رہا نہ کوئی مریض سب فنا ہوگئے ان کا نام ونشان نہ رہا پھر گہری اور لمبی سوچ کے بعد فرمایا ہاں ایک بیماری ایسی ضرور ہے جس کا علاج ضرور کرانا چاہئے۔ حضرت منذرؒ نے مؤدبانہ انداز میں پوچھا وہ کون سی بیماری ہے۔ فرمایا: اس روحانی بیماری کا نام ہے ’’گناہ‘‘ پوچھا: اس کا علاج کس دواء سے کیا جائے۔ فرمایا: استغفار سے حضرت منذرؒ نے پوچھا شفا کیسے ہوگی؟ فرمایا: ایسی سچی توبہ کی جائے کہ وہ پھر گناہ دوبارہ نہ ہو۔ جس طرح جسم کو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں اور اس سے جسم کو تکلیف پہنچتی ہے جو انسان محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح گناہ انسان کی روح کی بیماری ہے لیکن انسان اس کی تکلیف براہ راست تو محسوس نہیں کرتا اس کی تکلیف میں روح مبتلا ہوتی ہے اس کا واحد علاج خلوص نیت سے توبہ کرنا ہے اور جو انسان دل کے اخلاص سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ مایوس نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں