Daily Mashriq

دلیل اورمکالمے کو رواج دیجئے

دلیل اورمکالمے کو رواج دیجئے

یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ بعض عدالتی فیصلوںاور چند امور پر قانون سازی کے معاملے کو لے کر ایک طبقہ نے تشدد اور جلائو گھیرائو سے ہمیشہ اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی اور ان کوششوں سے مسائل وبحرانوںنے جنم لیا ۔ انتشار وبدامنی کو اپنی طاقت وہی سمجھتے ہیں جن کے پاس دلیل نہ ہو مگر سوال یہ ہے کہ آخر اس طبقہ کے خلاف موثر کارروائی میں امر مانع کیا تھایا ہے؟ بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان ایسے کثیر المسلکی ملک میں ہر مکتب فکر کے اندر انتہا پسند طبقہ موجود ہے اور ان مٹھی بھر انتہاپسندوں سے خود ان کے اپنے مسلک کے سنجیدہ فکر علماء واہل دانش خوفزدہ ہیں۔ یہ صورتحال فقط ایک حالیہ عدالتی فیصلہ اور ایک طبقے کی جانب سے احتجاج کے دوران پیدا ہوئے مسائل کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ پچھلے چالیس پنتالیس برسوں کی ملکی تاریخ مختلف الخیال شدت پسند گروہوں کے طرز عمل اور حکومتوں کی پسپائی کے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔اصولی طور پر اس صورتحال سے کبھی کبھی کوئی حکومت تنہا نہیں نمٹ سکتی معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص اہل دانش، سیاسی کارکنوں اور اعتدال پسند مذہبی حلقوں کو حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے ۔ لیکن جان وعزت کے خوف سے وہ دم مارنے کی جرأت نہیں کرتے ۔ اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنی جماعت کی تاریخ اور سیاسی جدوجہد کے برعکس پچھلے کچھ عرصہ سے مخالفین کیخلاف فتوے دینے اور ان کے ایمان کو سومنات کا مندر کہہ سمجھ کر حملہ آورہیں۔لاہور میں اگلے روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے دلیل سے عاری طبقات کے خلاف نظریاتی لڑائی میں بعض حلقوں سے توقع کی کہ وہ اس جنگ میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ یہ خواہش بجا طور پر درست ہے امن وامان، شرف آدمیت اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے اعتدال پسند مذہبی وسیاسی اور سماجی حلقوں کو متحدہ ہو کر شدت پسندی کیخلاف میدان عمل میں اترنا چاہئے لیکن ہمیں اس تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ ایک حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد مسائل اور بحران پیدا کرنیوالے طبقے نے پچھلے دور میں جو احتجاج کیا تھا اس احتجاج کے دوران تحریک انصاف سمیت چند دیگر سیاسی جماعتوں نے محض نون لیگ سے عداوت و مخالفت کی بنا پر اس طبقے کے احتجاج کو درست قرار دیا یہی نہیںبلکہ اس طبقے کے بعض نعروں کو 2017ء میں ہونیوالی چند ضمنی انتخابات اور بعد ازاں2018ء کے انتخابات میں کئی جماعتوں نے نون لیگ کیخلاف اسی منفی سوچ کو ہتھیار بنائے رکھا ،جوابی طور پر بعض سیاسی قوتوں نے حالیہ دھرنوں تشدد اور توڑ پھوڑ کے دوران تحریک انصاف سے مخالفت کا حساب دھرنے والوں کی بھر پور حمایت سے چکانے کی کوشش کی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اولین مرحلہ پر تو سیاسی جماعتوں کو اپنے نظم وضبط میں بہتری لاتے ہوئے یہ اصولی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مخالفین سیاسی قوتوں یا حکومت وقت سے حساب کھر کرنے کیلئے مذہبی انتہا پسندوں کو کسی بھی طرح سپورٹ نہیں کریںگی، اعتدال و توازن، قانون کی بالادستی اور دستور میں دیئے گئے سیاسی، معاشی اورمذہبی حقوق کی حفاظت کیلئے اگر ملک کی مؤثر سیاسی جماعتیں اتفاق کرلیتی ہیں تو کسی بھی مسلک کے انتہا پسند طبقے کو دلیل سے جواب دینا چنداں مشکل نہ ہوگا۔ ثانیاً یہ کہ حکومت کسی کی بھی ہو وہ قانون کی بالادستی پر سمجھوتہ نہ کرے۔ مثال کے طور پر اگر نون لیگ کے دور میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عقیدے وایمان پر سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے بدترین الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کیخلاف قانونی کارروائی ہو جاتی تو اگلے مرحلہ میں کسی کو یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ کسی راسخ العقیدہ مسلمان کے عقیدہ پر سوال اٹھائے اور الزام کی زد میں آنیوالی شخصیت اپنی مسلمانی ثابت کرتی پھرے۔ اس ضمن میں یہ رائے مناسب اور قابل عمل ہے کہ کسی مسلمان کو محض شخصی یا گروہی مفادات ودبدبہ کیلئے غیر مسلم کہنے و قرار دینے والوں کیخلاف کسی تاخیر کے بغیر مقدمہ درج ہونا چاہئے۔ کوئی بھی معاملہ ہو محض الزامات اور فتوؤں کے گھوڑے نہ دوڑائے جائیں۔ دلیل اور مکالمے کو فروغ کیسے ملے گا یہ درون سینہ سمجھ میں نہ آنیوالا راز ہرگز نہیں۔ قانون سازوں کو بسم اللہ کرتے ہوئے تکفیر کیخلاف قانون سازی کرنی چاہئے تکفیر یت میں جتی مذہبی تنظیموں کیخلاف پابندیوں کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنسز دائر کرنا ہونگے۔ مدارس کے نصاب ہائے تعلیم میں اصلاحات کرنا ہوں گی مسلکی بنیادوں پر مساجد کی تعمیر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بھی مسجد میں جملہ مسلمان اپنی عبادات سر انجام دے سکیں ۔ یہ سب بہر طور ممکن اس صورت ہوگا جب سیاسی جماعتیں کا مل دیانت وسنجیدگی کیساتھ یہ فیصلہ کریں گی کہ وہ اپنی سیاسی لڑائی میں مذہب وعقیدے کو ہتھیار بنانے والوں کیخلاف متحدہو کر اقدامات کرینگی۔ اس ملک کا مستقبل جمہوریت، انصاف اور مساوات سے تو محفوظ کیا جا سکتا ہے اگلی نسلوں کو مختلف الخیال شدت پسندوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ یقین کیجئے کہ اگر سیاسی جماعتیں انتہا پسندوں اور نجی لشکروں کی حوصلہ افزائی نہ کریں اور بعض ریاستی حلقے نجی لشکر وں کے معاملے میں پسند وناپسند کا شکار نہ ہوں تو دیرپا امن واستحکام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ سماج میں شدت پسندی کے بڑھاوے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی تربیتی عمل اور مکالمے کا فقدان ہے، ایک بار 1950ء سے 1970ء تک کی تین دہائیوں کی سیاسی تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھ لیجئے ان ماہ وسال میں سیاسی جماعتیں اسٹڈی سرکلز اور مکالمے کا اہتمام کرتی تھیں ان جماعتوں کے کارکن ان سے استفادہ کرتے اور اپنے اپنے حلقوں میں رہنمائی کا فرض ادا کرتے تھے ۔ جولائی 1977ء کے مارشل لاء کی سیاہ کاریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگادی گئیں اور مذہبی انتہاپسندی کی حکومتی طور پر حوصلہ افزائی ہوئی اس طرز عمل کی سزا پاکستانی فیڈریشن میں آباد لوگ بھگت رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں