Daily Mashriq

روبوٹک اینکرز اور 24/7نشریات

روبوٹک اینکرز اور 24/7نشریات

چینی ماہرین نے دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت پر مبنی روبوٹ اینکر متعارف کرادیا ہے جس نے آزمائشی مرحلے کے دوران خبریں پڑھ کر لوگوں کو حیران کردیا۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرین نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی ایجاد کرتے ہوئے ورچوئل نیوز اینکر پیش کیا ہے جو مصنوعی ذہانت کی سہولت سے آراستہ ہے۔ ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اینکر انسانی شکل سے نہ صرف مماثلت رکھتا ہے بلکہ انہی کی طرح خبریں پڑھتے ہوئے چہرے کے تاثرات بھی ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب چین میں ملازمتوں کے حقوق کیلئے بنائی جانیوالی تنظیموں نے اس روبوٹ کو انسان دشمن قرار دیا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس کے مارکیٹ میں آنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ بے روز گار ہو جائیں گے۔ علامہ اقبال نے فرعون کی جانب سے بنی اسرائیل کے نو زائیدہ اور آنیوالے دنوں میں پیداہونیوالے بچوں کو قتل کرنے کے احکامات پر یوں تبصرہ کیا تھا

یوں قتل پہ بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

فرعون کو درباری جوتشیوں اور کاہنوں نے خبردار کیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہونیوالا ہے جو اس کے اقتدار کیلئے خطرہ بنے گا۔ اس پر فرعون نے نوزائیدہ لڑکوں کے قتل کا حکم دے دیا تھا مگر اللہ کی اپنی حکمتیں ہیں۔ یوں نہ صرف موسیٰ علیہ السلام کو پیدائش کے بعد زندہ رکھا‘ اس کی پرورش خود فرعون کے محل میں کرانے کا اہتمام کیا بلکہ اسے واپس اپنی والدہ ہی کی گود میں پلنے کیلئے وسائل مہیا کرائے۔ باقی تاریخ ہے جبکہ علامہ اقبال نے اپنے زمانے میں کالج کی تعلیم سے متمتع ہونے والوں کی حرکتوں کو دیکھ کر فرعون کی نادانی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فرعون کالج بنانے کی سوچ اپنا لیتا تو بنی اسرائیل کی نئی نسل خود بخود خرافات کا شکار ہوجاتی اور اس کیلئے چیلنج بنتی نہ اسے لا تعداد بچوں کو قتل کرانا پڑتا۔

چینی ماہرین نے غالباً اسی واقعہ سے سبق سیکھ کر پاکستان میں میڈیا کے موجودہ بحران سے نمٹنے کے لئے ورچوئل نیوز اینکرز کی تخلیق کی سوچ اپنائی ہے اور اب دوسرے کسی ملک میں ان اینکرز سے کام لینے کی طرف کسی کی توجہ مبذول ہو نہ ہو کم از کم پاکستان میں میڈیا مالکان دل ہی دل میں ضرور خوش ہو رہے ہوں گے کہ جس تیزی سے ملک بھر میں مختلف چینلز سے نامی گرامی اینکرز کو نکال باہر کیا جا رہا ہے جس کیلئے فنڈز کی کمی کا عذر پیش کیا جا رہا ہے ان مصنوعی اینکرز کے آنے سے چینلز مالکان نہال ہوجائیں گے کیونکہ ایک دو یا چار چھ جتنے چاہے مصنوعی روبوٹک اینکرز آرڈر دے کر بنوالئے اور ان سے چوبیس گھنٹے من مرضی کے پروگرام نشر کرواتے رہیں‘ نہ تھکاوٹ‘ نہ کام سے انکار کیونکہ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماہرین نے جو تجرباتی ویڈیو شیئر کی ہے اس میں روبوٹک اینکر کو یہ بولتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’ میں آپ کو اطلاع دینے کیلئے مسلسل کام کروں گا کیونکہ میرے سامنے مختلف خبریں آرہی ہیں‘ نئے انداز سے آپ کو حالات سے آگاہی دوںگا‘‘۔ اس روبوٹ سے ہمیں کئی برس پہلے پی ٹی وی پر چلنے والی ایک مزاحیہ انگریزی سیریز (Small wonder) کی یاد آگئی ہے۔ اس میں کمپیوٹر کا ایک ماہر ایک چھوٹی سی لڑکی کی شکل کا روبوٹ بنا کر اپنے گھر میں بیٹی بنا کر ساتھ رکھتا ہے۔ اس کردار کو بہت بعد میں انڈیا نے بھی نقل کرکے پیش کیا تھا۔ اس روبوٹک لڑکی کے کمالات دیکھ کر لوگ دنگ رہ جاتے۔ یہ سیریز کئی سال تک چلتی رہی اور مختلف کہانیوں میں کبھی کبھی یوں بھی ہوجاتا کہ اس میں جو پروگرام فیڈ کیاگیا تھا اس میں خرابی پیدا ہوجاتی تو پھر اس کی اوٹ پٹانگ حرکتیں نئی طرز کا مزاح پیدا کردیتیں۔ اسلئے میڈیا والوں کو اس قسم کے روبوٹک اینکر خریدنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ کہیں ان کے روبوٹ بھی کسی کل پرزے میں خرابی یا پھر اس میں فیڈ کئے ہوئے پروگرام میں خلل پڑ جانے کی وجہ سے عین وقت پر کچھ اور بولنے کی بیماری میں مبتلا ہو کر سارے کئے کرائے پر پانی نہ پھیر دیں اور الٹا لینے کے دینے نہ پڑ جائیں کہ فیڈ شدہ پروگرام میں خرابی درآنے سے روبوٹک اینکر یہ بھی تو کہہ سکتا ہے بقول خالد خواجہ کہ

میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا وفاداری کا

تو بدل سکتا ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں

در اصل ہمیں یہ خدشات اسلئے لاحق ہو رہے ہیں کہ ہمارے ہاں چین کی مصنوعات کیساتھ وابستہ روایات سے خوف محسوس ہو رہا ہے۔ ویسے تو چین اس وقت عالمی سطح پر اقتصادی عبقری (Giant) بن کر ابھر رہا ہے اور امریکہ جیسی طاقت کو اس سے خطرات محسوس ہو رہے ہیں مگر پاکستان میں چائنہ کٹنگ اور چائنا مال کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں حالانکہ اس کی ذمہ داری چینی صنعتکاروں پر اکیلے عائد نہیں کی جاسکتی بلکہ اس میں ہمارے ہاں کے دو نمبری لوگ زیادہ ملوث ہیں جو چین جا کر عالمی سطح کی مصنوعات کی نقل بلکہ نقل در نقل در نقل بنوا کر لاتے ہیں اور سستے داموں فروخت کرکے الٹا چین کی بدنامی کا بھی باعث بنتے ہیں یعنی اصل چیز کی نقل کرتے ہوئے دو نمبر‘ تین نمبر یہاں تک کہ چار اور پانچ نمبر کی خراب کوالٹی کی مصنوعات بنوا کر مارکیٹوں میں پھیلا دیتے ہیں۔ اسلئے تو اس حوالے سے کئی لطیفے بھی گردش میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میڈیا مالکان کو ابھی سے متنبہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہوئے عرض گزار ہیں کہ وہ ان روبوٹک اینکرز کے بارے میں سوچیں بھی ناں کیونکہ وہ یہ مصنوعی اینکر بھاری رقوم خرید کر لے تو آئیں گے اور پروگرام ان کے حوالے کرکے گھر جا کر سو جائیں گے یہ سوچ کر کہ اب 24/7 کے کلئے کے تحت یہ روبوٹ ہفتے کے سات دن 24گھنٹے بس پروگرام نشر کرتے رہیں گے مگر ذرا سا کوئی پرزہ گرم ہوگیا اور ٹی وی سکرین پر نو سگنل کا راج ہو جائے گا‘ اس کے بعد جن اینکرز اور نیوز کاسٹرز کو چھٹی دی ہوگی وہ طنزیہ انداز میں کہیں گے‘ ہور چوپو‘‘۔

متعلقہ خبریں