Daily Mashriq


بڑی شاہراہوں پر دھند ہی دھند

بڑی شاہراہوں پر دھند ہی دھند

ماہ نومبر کے آغاز سے ہی پورے ملک کی بڑے شاہراہوں پر دھند کا راج شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز میں ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا، لاہور‘ پنڈی اور پنجاب کے کئی دوسرے شہروں میں دھند کی وجہ سے کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں جس سے کئی لوگ زخمی ہوئے۔ اگر دیکھا جائے تو سموگ یعنی زہریلی دھند کی بہت ساری وجوہات ہیں مگر اس کی سب سے بڑی وجہ بھارت میں فصلوں کے بچ جانیوالے حصوں کو جلانا ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ بھارت کے مختلف شہروں میں کسان اور زمیندار فصلوں کے سٹرا یعنی کھیت میں بچے ہوئے حصوں کو نکالنے کے بجائے اس کو جلاتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے پنجاب کے ان شہروں میں تقریباً 32ملین ٹن فصلوں کے سٹرا یعنی کھڑی فصل کے سب سے نچلے حصے جلائے جاتے ہیں۔ جن سے مختلف زہریلی گیسیں مثلاً نائٹرس آکسائیڈ، کاربن مانو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور ایروسول خارج ہوتے ہیں۔ اللہ نے کائنات کے نظام کو ایک ترتیب سے بنایا ہوا ہے اور جو اس میں بگاڑ پیدا کرے گا وہ اس کے منفی اثرات کو بھی برداشت کرے گا۔ بات صرف بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے کی حد تک نہیں ہم نے کرۂ ارض پر جنگلات بھی ختم کئے۔ جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ کی وجہ سے آلودگی اور زہریلی دھند میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ہم پاکستان میں موسمی تغیر کو دیکھیں تو اس میں تین وجوہات یعنی جنگلات کی کمی، آبادی میں بے تحاشا اور بے ہنگم اضافہ اور گاڑیوں کا حد سے زیادہ استعمال انتہائی اہم ہیں۔ جہاں تک موسمی تغیر کا تعلق ہے تو اس کی بہت ساری وجوہات میں زہریلی گیسوں کے اخراج کے علاوہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج سب سے اہم ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آکسیجن ماحول کو ٹھنڈا رکھتا ہے جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک زہریلی گیس ہے جو ماحول کو گرم رکھنے اور درجہ حرارت بڑھاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ماحول میں اس زہریلی گیس یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کیسے کیا جا سکتا ہے اور آکسیجن جو انسان کی بقا کیلئے ضروری ہے اس کی مقدار میں اضافہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس کو قابو کرنے کے طریقے ہیں تو اس میں سب سے زیادہ اہم درخت یا پودے لگانا ہے۔

درخت اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کیلئے آکسیجن بنانے کی فیکٹری ہے۔ ایک مکمل درخت ہمیں سال میں 5ٹن آکسیجن مہیا کرتا ہے جو روئے زمین پر حیات کیلئے انتہائی اہم ہے۔ ماہرین ماحولیات یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک درخت سال میں 20 لوگوں کو درکار آکسیجن خارج کرتا ہے۔ درختوں کا دوسرا بڑا فائدہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنا ہے۔ ایک درخت سالانہ ساڑھے 6ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے جبکہ ایک درخت سے سالانہ 55کلوگرام آرگینک یعنی نامیاتی مواد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ درخت ماحول کو خوشگوار بنانے کیلئے کیڑے مکوڑوں یعنی پیسٹ کا انتظام کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایک درخت سالانہ 70کلوگرام گرد وغبار کو جذب کرتا ہے اور ماحول کی صفائی سُتھرائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح ایک درخت سال میں جانوروں اور انسانوں کیلئے سائے اور بارش برسانے میں جو کردار ادا کر رہا ہوتا ہے یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ ایک مکمل درخت ہمیں سالانہ تارپین اور چیٹر کی شکل میں مواد بھی مہیا کرتا ہے اس کے علاوہ زیادہ پودے اور جڑی بوٹیاں طبیب حضرات دیسی ادویات بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں درخت ماحول کو صاف سُتھرا رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ درخت کی ان خداداد خوبیوںکی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کم ہوتی ہے اور اسی طرح ہم بیماریوں اور دوائیوں کی مد میں بہت پیسے بچاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ماہرین ماحولیات کہتے ہیں کہ ایک مکمل درخت زمین کے کٹاؤ میں 120ڈالر بچاتے ہیں۔ جب آواز درخت کے پتوں سے ٹکراتی ہے تو اس سے آواز کی سپیڈ میں نمایاںکمی واقع ہوتی ہے اور اس طرح گاڑیوں کے سائرن کی بے ہنگم آوازوں سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے جنگلات 4فیصد رقبے پر پھیلے ہیں اور یہاں پر سالانہ 494ملی میٹر بارشیں ہوتی ہیں جبکہ اس کے برعکس وہ ممالک جہاں پر زیادہ جنگلات ہیں وہاں پر بارشیں زیادہ ہوتی ہیں۔ مثلاً بھارت میں 25فیصد جنگلات ہیں اور 1083ملی میٹر بارش ہوتی ہے، سری لنکا میں 43فیصد اور 2500ملی میٹر اور بھوٹان میں 60فیصد جنگلات ہیں اور بارشیں 2400 ملی میٹر ہوتی ہیں۔ جہاں جنگلات زیادہ ہیں وہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی اور آکسیجن کی زیادتی ہوتی ہے جس کی وجہ سے پہاڑوں پر زیادہ برف پڑتی ہے اور بارشیں زیادہ ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں