Daily Mashriq

مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت

مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت

مہنگائی کا ملک گیر اور عالمگیر ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ جس طرح دوسری چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات، بجلی اورگیس کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کی شرح بڑھ جاتی ہے تو اس کے اثرات صنعتی پیداوار ہی پر نہیں پڑتا بلکہ اس کے اثرات زرعی اجناس کی قیمتوں میں بھی اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ٹماٹر کی قیمت سے مشیرخزانہ کی لاعلمی، حکمرانوں اور معاشی امور کے ذمہ داروں کی لاعلمی اور حالات سے عدم واقفیت پر دال ہے۔ اکثر وبیشتر حکمرانوں کو آٹا، دال کے بھاؤ معلوم نہیں ہوتے۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو دال کا بھاؤ متوسطہ وزیریں متوسطہ طبقے کا مسئلہ ہے، حکمرانوں اور عوامی نمائندوں کو اتنا بھی لاعلم نہیں ہونا چاہئے کہ آسمان کو چھوتی گرانی کا ان کو اندازہ نہ ہو۔ ملک میں ٹماٹر ایک سو پچاس سے تین سو روپے کلو بک رہا ہو اور حکمران اس کے فی کلو کی قیمت سترہ روپے بتا دیں۔ ہم سمجھتے ہیں دوسری جانب صورتحال اتنی بھی خراب نہیں کہ اس کا مذاق اُڑایا جائے۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کا صوبائی حکومت کو بہرحال احساس ہے، حال ہی میں آٹا کی قیمتوں میں سمگلنگ اور طلب ورسد میں توازن بگڑنے کے باعث جب اضافہ ہوا تو حکومت نے آٹا کی افغانستان سمگلنگ کی مؤثر روک تھام اور مارکیٹوں میں آٹا کی موجودگی سے لیکر ذخیرہ اندوزی کے معاملات کا جائزہ لیکر مؤثر اقدامات کے ذریعے آٹا کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی روک تھام کی اور آٹا معمول کے نرخوں پر فروخت ہونے لگا۔ صوبائی حکومت نے پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اعتدال لانے کیلئے منڈیوں کی نگرانی اور پرچون فروشوں کو منڈیوں سے مناسب نرخوں پر سبزی وپھلوں کے حصول کیلئے بھی احسن اقدامات کئے، جن کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ جب تک حکومت منڈیوں کی نگرانی اور سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فروخت کیلئے کوشاں رہے گی مہنگائی کی مصنوعی لہر نہیں اُٹھے گی۔ صوبائی حکومت کا ایک اور اہم قدم پشاور میں تین مقامات پر کسان منڈیوں کا قیام ہے، صوبہ بھر میں اس طرح کی تیس منڈیاں قائم کی گئی ہیں جہاں آڑھتی، کمیشن اور مارکیٹ فیس وغیرہ سے پاک نظام متعارف کرا کے عوام کو سہولت دینے کی سعی کی گئی ہے۔ حکومتی اقدامات کے احسن ہونے میں شبہ نہیں لیکن حکومتی اقدامات کی خامی اور خرابی یہ رہی ہے کہ یہ چند روزہ اور وقتی ہوتے ہیں یا پھر یہ اقدامات اتنے غیرمؤثر اور غیرفعال کر دیئے جاتے ہیں کہ ان اقدامات کی اہمیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ صوبائی حکومت کے حالیہ اقدامات کو بڑی حد تک نتیجہ خیز قرار دیا جاسکتا ہے۔ ا س تجربے کو صوبائی دارالحکومت کے مختلف مقامات اور اتوار بازار میں بھی متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ پرچون فروشوں اور خریداروں کو جہاں ایک بہتر متبادل میسر آسکے وہاں حکومت مارکیٹ میں وضع نظام کے ذریعے مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کا مؤثر مقابلہ کرسکے گی۔ جہاں تک کسی خاص چیز کی مہنگائی کا سوال ہے اس پر قابو پانے میں صارفین کو بھی اس کا استعمال کم کرنے یا استعمال سے گریز کی صورت اختیار کر کے اپنی مدد آپ کے تحت مقامی انتظامیہ کی بھی مدد کرنی چاہئے۔ مارکیٹ میں کسی چیز کی طلب کم ہو تو پھر اس کی قیمتوں میں خودبخود کمی آجاتی ہے۔ ٹماٹر کی مہنگائی کو پیالی میں طوفان لانے کا سبب بنانے کی بجائے ٹماٹر کے استعمال میں کمی لائی جائے تو اس کی قیمتوں میں خودبخود کمی آئے گی۔ صارفین اس کا استعمال کم کریں تو پرچون فروش منڈی سے مال کم اُٹھائیں گے، جب منڈی میں ٹماٹر کی رسد کے مقابلے میں طلب کم ہوگی اور مال پڑا رہے گا تو اس کی قیمت میں بقدر ضرورت کمی آئے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ منہگائی پر قابو پانے کیلئے صرف سبزیوں اور پھلوں ہی کی نرخوں کو اعتدال پر رکھنے پر توجہ کافی نہیں، ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ وقتی ہوتا ہے۔ موسم اور فصل کی آمد پر قیمتوں میں خودبخود کمی آجاتی ہے، ضلعی انتظامیہ کو تمام اشیائے صرف کی قیمتوں کو سرکاری نرخنامے کے مطابق فروخت کرنے کے چیلنج سے نمٹنے کو پہلی ترجیح بنانی چاہئے اور تسلسل کیساتھ چھاپے اور جرمانوں کا عمل جاری رکھنا چاہئے تاکہ اصل مہنگائی نہیں تو مصنوعی مہنگائی سے کم ازکم عوام کو متاثر ہونے سے تو بچایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں